کتاب العلم باب 28 حدیث نمبر 91
۹۱- حدثنا عبد لله بن محمد قال حدثنا أبو عامر قال حدثنا سليمان بن بلال المديني عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن، عن يزيد مولى المنبعث عن زید بن خالد الجهني أن النبي صلى الله عليه وسلم ساله رجل عن اللقطة ، فقال أعرف وكاءها أو قال وعاء ها وعفاصها ثم عرفها سنة ثم استمتع بها فإن جاء ربها فادها إليه قال فضالة الإبل؟ فغضب حتی احمرت وجنتاه او قال احمر وجهه فقال وما لك ولها معها سقاؤها وحذاؤها تردالماء وترعی الشجـر فـذرهـا حتى يلقاها ربها . قال فضالة الغنم؟ قال لك أو لأخيك أو للذنب .
اطراف الحدیث: ۷۲ ۲۳۔۲۴۲۷۔۲۴۲۸۔۲۴۲۹۔۲۴۳۶۔2439۔5292۔6112۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن محمد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابو عامر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان بن بلال المدینی نے حدیث بیان کی از ربیعہ بن ابی عبدالرحمان از یزید المنبعث کے آزاد شدہ غلام از زید بن خالد الجہنی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے لقطہ ( راستہ میں گری ہوئی چیز) کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا: اس کے سر بند (جس ڈوری سے تھیلی کو باندھا گیا ہو) کی پہچان رکھو یا فرمایا: اس تھیلی ( بٹوے) اور اس کو بند کرنے کی چیز کی پہچان رکھو پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرو پھر تم خود اس سے نفع حاصل کرو پھر اگر اس کا مالک آ جاۓ تو اس کو وہ چیز ادا کردو، اس شخص نے پوچھا: گم شدہ اونٹ ( کا کیا حکم ہے ) ؟ سو آپ غضب ناک ہوۓ حتی کہ آپ کے دونوں رخسار سرخ ہوگئے یا راوی نے کہا: آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اس سے کیا تعلق ہے اس کے ساتھ اس ( کے پانی کا ) مشکیزہ ہے اور اس کا جوتا ہے، وہ پانی ( کے چشمہ ) پر جا کر پانی پی لے گا اور درختوں کو چرتا رہے گا اس کو چھوڑ دو حتی کہ اس کا مالک اس کو پالے گا ۔ اس سائل نے پوچھا کہ گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ تمہاری ہے یا تمہارے بھائی کی ہے یا بھیٹریے کی ہے ۔
صحیح مسلم : ۱۷۲۲ سنن ابوداؤد : ۱۷۰۴ سنن ترمذی : 1372، السنن الکبری للنسائی : ٬۵۸۱۴ سنن ابن ماجه : ۲۵۰۴ مصنف عبدالرزاق:18601، المنتقی :669، صحیح ابن حبان: ۴۸۹۵ ،سنن بیہقی ج6 ص ۱۹۷ مسند ابوعوانہ ج ۴ ص ۳۸ مسند الحمیدی: 816، سنن دارقطنی ج 4 ص 236، المعجم الکبیر :۵۲۰۵ شرح السنتہ: ۲۲۰۷ المعجم الاوسط:2507، مسند احمد ج ۴ ص ۱۱۶ طبع قدیم مسند احمد:۱۷۰۵۰ ج 28 ص 283،مؤسسة الرسالة بیروت
باب کے عنوان کے ساتھ اس حدیث کی مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اظہار غضب کا ذکر ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) عبداللہ بن محمد ابو جعفر المسندی۔
( ۲ ) ابو عامر عبد الملک۔
( ۳ ) سلیمان بن بلال المدینی۔
( ۴ ) ربیعہ بن عبدالرحمان، ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۵) یزید المنبعث کے آزاد شدہ غلام، یہ حضرت ابوہریرہ، حضرت زید بن خالد وغیرہ سے روایت کرتے ہیں ثقہ راوی ہیں۔
(۲ ) حضرت زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن ان کے ساتھ جہینہ کا جھنڈا تھا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۸۱ احادیث روایت کی ہیں، امام بخاری نے ان کی پانچ احادیث روایت کی ہیں، یہ کوفہ میں ٹھہرے اور وہیں فوت ہو گئے ۸۵ سال کی عمر گزار کر ۷۸ ھ میں فوت ہوئے ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص 161)
’’لقطه، وكاء وعاء ‘‘اور’’ عفاص ‘‘ کے معانی
اس حدیث میں’’لقطہ‘‘ کا ذکر ہے اس کا معنی ہے : راستہ میں پڑی ہوئی چیز التقاط کا معنی ہے : بغیر طلب کے کسی چیز کا مانا۔
اور اس حدیث میں’’ وکاء ‘‘ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : وہ ڈوری جس سے تھیلی کا منہ باندھتے ہیں اور اس میں’’ وعاء‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : ظرف، برتن، تھیلی، بٹوا یا پرس اور اس میں’’ عـفـاص ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : ظرف کا مادہ (یعنی جس چیز سے برتن یا تھیلی بنی ہوئی ہو) جیسے چمڑا یا کپڑا یا وہ ڈوری جس سے تھیلی کا منہ باندھا جاۓ ۔
لقطہ کا معنی اور فقہاء احناف کے نزدیک لقطہ کو اٹھانے کا راجح ہونا
شمس الائمہ ابوبکر محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی ۴۷۹ ھ لکھتے ہیں:
بعض فقہاء نے کہا ہے کہ لقطہ ( کسی کی گری ہوئی چیز) کو اٹھانا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ کسی کا مال اس کی اجازت کے بغیر لینا ہے اور یہ شرعا حرام ہے اور ائمہ تابعین میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس کو اٹھانا جائز ہے اور اس کو ترک کردینا افضل ہے کیونکہ اس کا مالک اس کو ڈھونڈتا ہوا اسی جگہ آۓ گا جہاں وہ گری تھی اور اس لیے بھی کہ وہ اپنے نفس سے مطمئن نہیں ہے، ہوسکتا ہے کہ بعد میں اس کی نیت خراب ہو جاۓ اور وہ اس چیز پر قبضہ کر لے اور ہمارے فقہاء کا مختار یہ ہے کہ اس کو اٹھالینا افضل ہے کیونکہ اگر اس نے اس کو نہیں اٹھایا تو ہو سکتا ہے کہ اس کو کوئی خائن اور فاسق اٹھالے اور اس کا اعلان نہ کرے ۔
اگر وہ ایسی چیز ہو جس سے اس کا مالک مستغنی ہو، جیسے خالی ڈبے یا ردی تو اس کو اٹھا کر اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے اور اگر وہ ایسی چیز ہو جس کے متعلق گمان ہو کہ اس کا مالک اس کو تلاش کرے گا تو جو شخص اس کو اٹھائے گا اس پر اس کی حفاظت کرنا اور اس کی نشانیوں کو یاد رکھنا لازم ہے، تاکہ وہ اس چیز کو اس کے مالک تک پہنچا سکے، ابراہیم نفعی نے روایت کیا ہے کہ لقطہ کا ایک سال تک اعلان کرے اگر اس کا مالک آ جاۓ تو اس کو دے دے، ورنہ اس کو صدقہ کر دے، اور اگر صدقہ کرنے کے بعد اس کا مالک آجاۓ تو اس کو اختیار ہوگا اگر وہ چاہے تو اس صدقہ کو نافذ کر دے اور اگر وہ چاہے تو لقطہ اٹھانے والے کو ضامن کردے۔
( مبسوط ج۱۱ ص ۴۔ ۳ ملخصا دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ ۱۴۲ ھ )
لقطہ کا اعلان کرنے کی مدت کی تفصیل
علامہ سرخسی لکھتے ہیں : ہر چیز میں ایک سال تک اعلان کرنے کی مدت لازم نہیں ہے، اتنی مدت تک اعلان کیا جاۓ جتنی مدت کے متعلق یہ ظن غالب ہو کہ لقطہ کا مالک اس کو صرف اتنی مدت تک ہی تلاش کرے گا، دس درہم یا اس سے زائد مالیت کی چیز کا ایک سال تک اعلان کرے اور تین درہم سے نو درہم تک کی مالیت کی چیز کا ایک مہینہ اعلان کرے ۔
( واضح رہے کہ 2006ء میں ایک درہم چالیس پاکستانی روپے کے برابر ہے اور اس سے کم مالیت کی چیز میں ایک درہم تک جمعہ کو اعلان کرے اور ایک درہم سے کم مالیت کی چیز میں ایک دن اعلان کرے اور اگر ایک پیسہ کی چیز ہو تو ادھر ادھر دیکھ کر فقیر کے ہاتھ پر رکھ دے ۔ ( آج کل ایک پیسہ سے مراد پاکستانی ایک روپیہ لینا چاہیے۔ سعیدی غفرلہ ) ان بیان کردہ مقادیر میں سے کوئی مقدار بھی حتمی اور لازمی نہیں ہے ۔
علامہ سرخسی نے جو اعلان کی مدت کی تفصیل بیان کی ہے اس کی اصل یہ حدیث ہے:
حضرت یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو ایک درہم یا رسی یا اس کے مشابہ کوئی چیز ملے تو وہ اس کا تین دن اعلان کرے اور اگر اس سے زیادہ مالیت کی چیز ہوتو سات دن تک اعلان کرے ۔
( مسند احمد ج ۴ ص ۱۷۳ سنن بیہقی ج۶ ص ۱۹۵ مجمع الزوائد ج ۴ ص 169)
اس حدیث کونقل کرنے سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ لقطہ کے اعلان کے لیے ایک سال یا تین سال کی مدت لازم نہیں ہے ۔( سعیدی غفرلہ )
سوید بن غفلہ بیان کرتے ہیں کہ میں سلیمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے ساتھ ایک غزوہ میں تھا مجھے ایک چابک ( یا کوڑا ) ملا مجھ سے سلیمان نے کہا: اس کو پھینک دو، میں نے کہا: نہیں اگر مجھے اس کا مالک مل گیا تو میں اس کو دے دوں گا ورنہ میں خود اس سے فائدہ اٹھاؤں گا جب ہم لوٹے تو ہم نے حج کیا پس جب میں مدینہ منورہ سے گزرا تو میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ان کو ایک تھیلی ملی تھی، جس میں سو دینار تھے (ایک دینار بیس قیراط سونے کا ایک سکہ تھا’ ایک قیراط کا وزن بارہ چاول کے برابر ہے ) میں وہ تھیلی نبی ﷺ کے پاس لے کر گیا، آپ نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو، میں نے ایک سال تک اس کا اعلان کیا۔ پھر آپ کے پاس گیا۔ آپ نے فرمایا: ( مزید ) ایک سال تک اعلان کرو پس میں نے ایک سال تک ( اور ) اعلان کیا، میں پھر آپ کے پاس آیا آپ نے فرمایا: ( پھر ) ایک سال تک اعلان کرو میں نے ( پھر) ایک سال تک اعلان کیا۔ پھر میں آپ کے پاس چوتھی بار آیا آپ نے فرمایا: اس کے دیناروں کی تعداد اور اس کی ڈوری اور اس کی تھیلی کو یاد رکھو، اگر اس کا مالک آۓ تو اس کو دے دو ورنہ تم خوداس سے نفع اٹھاؤ۔
( صحیح البخاری: 2437، سنن ابوداؤد:۱۷۰۱ صحیح مسلم : ۱۷۲۳ سنن ترمذی: ۱۳۷۴ سنن ابن ماجه : 4506)
علامہ سرخسی فرماتے ہیں : جس حدیث کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے اس سے یہ واضح ہو گیا کہ لقطہ کا ایک سال تک اعلان کرنا مدت لازمہ نہیں ہے، لیکن وہ اتنی مدت تک اس کا اعلان کرے جتنی مدت تک اس کے گمان میں اس لقطہ کا مالک اس کو تلاش کرتا رہے گا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ سو دینار بہت عظیم مال ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سال تک اس کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔
اعلان کے بعد لقطہ سے فائدہ اٹھانے کا جواز
نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اعلان کی مدت پوری کرنے کے بعد لقطہ کو اٹھانے والا اس سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے خواہ وہ غنی ہو اور امام شافعی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اگر وہ فقیر ہو، تب وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے کیونکہ حضرت ابی بن کعب غنی تھے 1لاور رسول اللہ ﷺ نے اعلان کی مدت کے بعد ان کو اس تھیلی سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا۔( المبسوط ج 11 ص ۷ ۔ ۳ ملخصا دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
موجودہ دور میں اعلان کرنے کا طریقہ
پہلے یہ حکم تھا کہ جمعہ کے اجتماعات اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں میں لقطہ کا اعلان کیا جاۓ لیکن اب یہ بہت دشوار ہے اب اخبارات ریڈیو اور ٹی وی میں لقطہ کا اعلان کرادینا چاہیے اور جس کے اعلان کی مدت اس کے گمان میں ایک سال یا اس سے زائد ہو اس کا اس مدت میں وقفہ وقفہ سے اعلان کراتا رہے اور شہر میں بہت اخبارات نکلتے ہیں، کبھی کسی اخبار میں اعلان کرا دے اور کبھی کسی اخبار میں ۔میرے ایک شاگرد کو لاہور میں پارکر پین پڑا ہوا ملا تھا اس نے اخبار میں اعلان کرادیا دوسرے دن اس پین کا مالک نشانیاں بتا کر اپنا پین لے گیا۔
شاگرد کے احمقانہ سوال پر ناراض ہونے کا جواز
اس حدیث میں ہے کہ جب اس سائل نے گم شدہ اونٹ کے متعلق پوچھا تو آپ غضب ناک ہوۓ، آپ کے غضب کی وجہ یہ تھی کہ اس سائل نے عقل سے کام نہیں لیا اور اس کا اونٹ کو لقطہ قرار دینا صحیح نہیں تھا، کیونکہ لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی آدمی کے ہاتھ سے گر جائے اور اس کو پتا نہ چلے کہ وہ چیز کہاں گری ہے؟ جب کہ اونٹ کا معاملہ اس طرح نہیں ہے وہ خود درختوں کو چرتا ہوا اور چشموں کا پانی پیتا ہوا اپنے مالک تک پہنچ جاۓ گا اور نہ بکری اس طرح ہے اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب شاگرد اس قسم کا احمقانہ سوال کرے تو استاذ کا اس پر غضب ناک ہونا صحیح ہے ۔
لقطہ کو اٹھانے میں ائمہ ثلاثہ کے مذاہب
کیا کسی شخص پر یہ ضروری ہے کہ وہ راستہ میں پڑی ہوئی چیز کو اٹھالے؟ امام مالک کے نزدیک یہ مکروہ ہے امام شافعی کے اس میں تین قول ہیں : (۱) اس کے لیے لقطہ کو اٹھانا مستحب ہے، واجب نہیں ہے (۲) لقطہ کو اٹھانا واجب ہے(۳) اگر اس کے ضائع ہونے کا خوف ہو تو اس کا اٹھانا واجب ہے اور اگر اس کے ضیاع کا خوف نہ ہوتو اس کو اٹھانا مستحب ہے امام احمد سے یہ روایت ہے کہ اس کو ترک کرنا مستحب ہے ۔ ( عد ۃ القاری ج ۲ ص ۱۶۶ دار الکتب العلمیہ بیروت 1422ھ )
لقطہ کو اٹھانے میں شافعی مذہب کی تفصیل
’’ تکملة المجموع شرح المہذب‘‘ کے شافعی مصنفین اور محققین نے لکھا ہے:
المزنی نے کہا ہے کہ میں لقطہ کو ترک کرنا پسند نہیں کرتا اور کتاب الام‘‘ میں کہا ہے : اس کو ترک کرنا جائز نہیں ہے ۔
ہمارے بعض اصحاب کے اس میں دوقول ہیں: (۱ ) اس کو اٹھانا واجب نہیں ہے کیونکہ یہ امانت ہے سو جس طرح امانت کو لینا واجب نہیں ہے اسی طرح اس کو اٹھانا بھی واجب نہیں ہے ( ۲ ) اس کو اٹھانا واجب ہے کیونکہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مومن کے مال کی حرمت اس کے خون کی طرح ہے ۔ ( مسند البزار : 1699، سنن الدارقطنی ج ۳ ص 26، مسنداحمد ج ۵ ص ۷۲ حلیۃ ااولیاء ج ۷ ص ۳۳۴) اور جب مومن کی جان کا خوف ہو تو اس کی حفاظت کرنا واجب ہے، اس طرح جب اس کے مال کے ضیاع کا خوف ہوتو اس کی حفاظت کرنا بھی واجب ہے اور ابوالعباس اور ابو اسحاق وغیرہما نے کہا ہے کہ اگر لقطہ ایسی جگہ پر ہو، جہاں اس کے ضائع ہونے کا خوف نہ ہو اور اس جگہ کے رہنے والے امانت دار ہوں تو اس پر لقطہ کو اٹھانا واجب نہیں ہے کیونکہ دوسرے لوگ اس کی حفاظت کرنے میں اس کے قائم مقام ہیں اور اگر وہ ایسی جگہ ہو جہاں اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے کیونکہ وہاں امانت دارلوگ کم ہوں تو اس پر نقطہ کواٹھانا واجب ہے ۔ ( تکملة المجموع شرح المہذب ج ۱۷ ص ۱۰۔ ۹ دارالکتب العلمیہ بیروت 1423ھ )
لقطہ کو اٹھانے میں حنبلی مذہب کی تفصیل اور مذاہب اربعہ کے دلائل
علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی 620 ھ لکھتے ہیں:
ہمارے امام رحمہ اللہ ( احمد بن حنبل) نے کہا ہے کہ لقطہ کو ترک کرنا افضل ہے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر سے اس طرح مروی ہے حضرت جابر، ابن زید اور ربیع بن خصیم کا بھی یہی قول ہے اور عطا کا بھی، شریح ایک درہم کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اس سے تعرض نہیں کیا۔
امام شافعی نے کہا: اگر اس کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو اس کا اٹھانا واجب ہے ورنہ نہیں ان کا دوسرا قول یہ ہے کہ اس کا اٹھانا واجب ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے۔
والمؤمنون والمؤمنت بعضهم أولياء بعض
مؤمن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہیں ۔( التوبۃ :۷۱)
اور جب مومن ایک دوسرے کے ولی ہیں تو ان پر واجب ہے کہ وہ لقطہ کو اٹھا کر اس کی حفاظت کریں ۔
جن کی راۓ میں لقطہ کو اٹھانا واجب ہے ، وہ سعید بن المسیب، الحسن بن صالح اور امام ابوحنیفہ ہیں، حضرت ابی بن کعب اور حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ تعالی عنہما نے لقطہ کو اٹھالیا تھا امام مالک نے کہا: اگر لقہ قیمتی چیز ہے تو اس کو اٹھانا اور اس کا اعلان کرنا مستحب ہے اور اس میں مسلمان کے مال کی حفاظت ہے اور یہ اس کو ضیاع کے خطرہ میں ڈالنے سے اولی ہے ۔(المغنی لابن قدامہ ج ۸ ص ۶ دارالحدیث قاہرہ 1425ھ )
لقطہ کو اٹھانے میں مالکی مذہب کی تفصیل
علامہ ابوالبرکات سیدی احمد الدردیر مالکی متوفی ۱۲۱۹ھ لکھتے ہیں:
اگر لقطہ کوئی قیمتی چیز ہو اور یہ خطرہ ہو کہ اس کو اس جگہ سے کوئی خائن شخص اٹھالے گا اور اس کو اپنے نفس کی امانت اور دیانت پر اعتماد ہوتو اس پر واجب ہے کہ وہ اس چیز کو اٹھائے اور اگر اس کو معلوم ہو کہ اسکا اپنا نفس خائن ہے تو پھر اس کے لیے لقطہ کو اٹھانا حرام ہے خواہ کسی اور خائن کا خطرہ ہو یا نہ ہو اور جب اس جگہ کی خائن کا خطرہ نہ ہو اور اس کو اپنے نفس کی امانت اور دیانت پر شک ہوتو پھر اس کے لیے لقطہ کو اٹھانا مکروہ ہے ۔ ( حاشیۃ الدسوقى على الشرح الکبیر ج ۴ ص 120 – ۱۱۹ دار الفکر بیروت )
شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح کے عنوانات
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۳۸۴ ۔ ج ۵ ص ۲۱۱ پر مذکور ہے اور اس کے حسب ذیل عنوانات ہیں:
۱۔ القطہ کا لغوی معنی
۲۔ لقطہ کو اٹھانے کے حکم میں مذاہب فقہاء
۳۔ لقطہ کو اٹھانے میں فقہاء احناف کا موقف
۴۔ لقطہ کی اقسام اور ان کے احکام
۵۔ لقطہ کا اعلان کرنے کے مقامات اور طریقه کار
۶۔لقطہ کے اعلان کی مدت میں مذاہب فقہاء ۔
۷۔آج کل کے دور میں لقطہ کے اعلان کا طریقہ کار
۸۔ اعلان کی مدت پوری ہونے کے بعد لقطہ کے مصرف میں فقہا ،حنبلیہ کا نظریہ
۹۔ اعلان کی مدت پوری ہونے کے بعد لقطہ کے مصرف میں فقہاء شافعیہ کا نظریہ
۱۰۔ اعلان کی مدت پوری ہونے کے بعد نقطہ کے مصرف میں فقہاء مالکیہ کا نظریہ
۱۱۔ اعلان کی مدت پوری ہونے کے بعد لقطہ کے مصرف میں فقہاء احناف کا نظریہ
۱۲۔ امام شافعی کے دلائل کے جوابات
۱۳۔ لقطہ کو صدقہ کرنے کے وجوب کے بارے میں آثار صحابہ و تابعین
۱۴۔ حضرت ابی کی حدیث کی وضاحت اور فقہاء احناف کے جوابات کی تفصیل اور تنقیح
۱۵۔ اونٹ پکڑنے کے متعلق سوال کرنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناراض ہونے کی وجہ
۱۶۔ حجاج کے لقطہ کو اٹھانے میں مذاہب فقہاء اور ممانعت کی حکمت
ظاہر ہے کہ ہم نے شرح صحیح مسلم میں القطہ کے تمام مباحث کا احاطہ کر لیا ہے ہم نے یہاں’نعمۃ الباری‘‘ میں اس حدیث کے اہم اور ضروری مباحث ذکر کیے ہیں، جو حضرات تفصیلی مباحث دیکھنا چاہیں وہ شرح صحیح مسلم کا مطالعہ کریں ۔