مولوی طارق (نکاحی مزاحی) دیوبندی کا ایک کلپ دیکھنے کو ملا
جو کسی جگہ درس رے رہا ہے
اس پانچ منٹ کی تقریر میں  اس نے جو  بے ادبی کی ہے
نعوذباللہ من ذالک
اسکی  اس تقریر کو سنکر کوئی غیر مسلم نبی اور قرآن کی عظمت وشان  سے متاثر ہوگا؟ ہرگز نہیں
بلکہ معاذاللہ مسلمان بھی یہ گفتگو سن کر اسکے دل میں بھی معاذاللہ نبی و قرآن کی عظمت پہ شک آئیگا
اور یہ بھی بک دیا کہ معاذاللہ  قرآن پاک بھی گرائمر کے حساب سے غلط لکھوایا
لعنت اللہ علی الکاذبین

اس بے ادب جاھل ان پڑھ گنوار کو کیا پتہ حضرت سیدنا مدینۃ العلم کی کیا  شان ہے
وہ سید العالمین جنکی حدیثوں کو پڑھ کر بندہ محدث بن جائے
انکو پڑھنا نہیں آتا تھا
جنکی صحبت سے صحابہ محقق و مجتھد بنے ،انکو لکھنا نہیں آتا تھا
اس بدبخت نے قرآن کریم کی آیت پڑھی بجائے کہ  نبی کی شان بیان کرتا الٹا نبی کی عظمت پر ڈاکہ ڈالا
جو آیت اس نے پڑھی
اسکا ترجمہ کیا: محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دائیں ہاتھ نے ایک لفظ بھی نہیں لکھا
یہ بھی غلط اور جھوٹا ترجمہ کیا۔
حالانکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لفظ لکھنا ثابت ہے
اگر غور کریں تو  اسی آیت سے ثابت ہوتاہے کہ نبی لکھنا بھی جانتے تھے اور پڑھنا بھی
وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ
ترجمہ:اور اس (نزولِ قرآن) سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے یوں ہوتا تو باطل والے ضرور شک لاتے (العنکبوت، آیت:48)
دیکھئے رب کیا فرمارہا ہے کہ اے محبوب قرآن کے نزول سے پہلے آپ نہ کوئی کتاب پڑھتے تھے اور نہ کچھ لکھتے تھے
کیا مطلب ؟
مطلب ہے کہ وحی سے پہلے نہ پڑھتے تھے نہ لکھتے تھے
اس میں  یہ  کہاں ہے کہ نزول قرآن کے بعد بھی  آپ پڑھنا اور لکھنا نہیں جانتے تھے بلکہ یہ ہے کہ نزول قرآن سے پہلے آپ کوئی کتاب  پڑھتے نہ تھے اور نہ کچھ لکھتے تھے
جاکے پہلے کچھ پڑھ۔۔ان پڑھ
یہی بات علامہ آلوسی بھی لکھتے ہیں کہ:
اس قید سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن مجید کے نازل ہونے کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لکھنے اور پڑھنے پر قادر تھے اور اگر اس قید کا اعتبار نہ کیا جائے تو یہ قید بےفائدہ ہوگی(روح المعانی)
یہ ایسے ہے جیسے کوئی کسی سے  کہے: مدرسہ جانے سے پہلے نہ تم پڑھتے تھے نہ لکھتے تھے
اسکا مطلب ہے  کہ اب چونکہ مدرسہ میں علم سیکھا اب تم سب کرسکتے ہو۔
چنانچہ قران مجید فرماتا ہے:
وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُؕ-وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا
اور اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت اُتاری اور تمہیں سکھادیا جو کچھ تم نہ جانتے تھے اور اللہ کا تم پر بڑا فضل ہے (النساء ، آیت:4)
جو کچھ تم نہیں جانتے تھے(بشمول لکھنا پڑھنا) وہ سب تمھیں سکھادیا۔
قرآن کریم میں #امی مقامِ صفت میں بیان ہوا ہے
ورنہ یہ “ان پڑھ ہونا”کونسا کمال ہے جو رب نبی کے لئے ارشاد فرمارہا ہے
فَآمِنُواْ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ النَّبِيِّ الأُمِّيِّ

تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر جونبی ہیں(کسی سے) پڑھے ہوئے نہیں ہیں
امی کا معنی ان پڑھ طارق مسعود کے لئے تو بالکل سوفیصد درست ہے
مگر جسے رب سکھائے تو اس وقت امی کا معنی ان پڑھ نہیں کیا جاسکتا
بلکہ وہ جو “کسی دنیاوی استاذ سے نہ پڑھا ہوا ہو
جس کو سکھانے والا رب العالمین ہے

علمک مالم تکن تعلم
الرحمٰن علٌم القرآن
اقراء باسم ربک
اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمُ
چنانچہ امام عشق و محبت سیدی اعلحضرت فرماتے ہیں

ایسا اُمّی کس لئے مِنت کشِ استاد ہو
کیا کفایت اس کو اِقْرَاْ وَ رَبُّكَ الْاَكْرَمْ نہیں
جس امی کو سکھانے والا رب العزت ہو تو اسے کسی استاذ کی منت سماجت کی کیا حاجت

مفسر قرآن حضرت علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
واختلف في أنه عليه الصلاة والسلام هل صدر عنه الكتابة في وقت أم لا؟ فقيل: نعم صدرت عنه عام الحديبية فكتب الصلح وهي معجزة أيضاً له صلى الله عليه وسلم وظاهر الحديث يقتضيه، وقيل: لم يصدر عنه أصلاً وإنما أسندت إليه في الحديث مجازاً.
وجاء عن بعض أهل البيت رضي الله تعالى عنهم أنه صلى الله عليه وسلم كان تنطق له الحروف المكتوبة إذا نظر فيها، ولم أر لذلك سنداً يعول عليه، وهو صلى الله عليه وسلم فوق ذلك. نعم أخرج أبو الشيخ من طريق مجاهد قال حدثني عون بن عبد الله بن عتبة عن أبيه قال: «ما مات النبـي صلى الله عليه وسلم حتى قرأ وكتب فذكرت هذا الحديث للشعبي فقال: صدق سمعت أصحابنا يقولون ذلك
ترجمہ: علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کسی وقت لکھنے کا صدور ہوا ہے یا نہیں ہوا ؟ ایک قول یہ ہے کہ ہاں صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ نے صلح نامہ لکھا اور یہ بھی آپ  کا معجزہ ہے اور احادیث ظاہرہ کا بھی یہی تقاضا ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ آپ نے بالکل نہیں لکھا اور آپ کی طرف لکھنے کی نسبت مجاز ہے ‘
اور بعض اہل بیت سے روایت ہے کہ آپ لکھے ہوئے الفاظ کو دیکھ کر پڑھتے تھے لیکن اس روایت کی کوئی معتمد سند نہیں ہے ‘ #ہاں ابو الشیخ نے اپنی سند کے ساتھ عقبہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت تک وصال نہیں فرمایا جب تک آپ نے پڑھا اور لکھا نہیں ‘ اور جب امام شعبی سے اس روایت کے بارے میں پوچھا گیا تو  آپ اس روایت کی تصدیق کی کہ ہاں یہ درست ہے (روح المعانی)
صلح حدیبیہ کے وقت جب صلح نامہ لکھاگیا تو آخر میں حضرت علی نے محمدرسول اللہ
لکھا تو کفار نے کہا کہ اگر ہم رسول مانتے تو جھگڑا کیوں؟
اس پر حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا کہ یہ مٹاؤ
قال علي: لا، والله لا امحوك ابدا، فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم الكتاب، وليس يحسن يكتب، فكتب هذا ما قاضى عليه محمد بن عبد الله(بخاری)
آپ نے حضرت علی  سے فرمایا رسول اللہ (کے الفاظ) مٹا دو ‘ حضرت علی نے کہا نہیں ! خدا کی قسم ! میں آپ (کے رسالت والے  الفاظ) کو ہرگز نہیں مٹائوں گا ‘ تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (لکھنا شروع کیا ‘ حالانکہ آپ اچھی طرح (مہارت سے) نہیں لکھتے تھے۔ پس آپ نے لکھا یہ وہ ہے جس پر محمد بن عبداللہ نے صلح کی
ففي شرح مسلم للنووي قال القاضي عياض : احتج بهذا ناس على أن النبي صلى الله عليه وسلم كتب بيده وقالوا : إن الله تعالى أجرى ذلك على يده إما بأن كتب القلم بيده وهو غير عالم بما كتب ، أو بأن الله تعالى علمه ذلك حينئذ زيادة في معجزته ، كما علمه ما لم يعلم

ترجمہ:شرح مسلم میں ہے کہ قاضی عیاض نے کہا ہے کہ اس حدیث سے لوگوں(علماء) نے اس پر استدلال کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ہاتھ سے لکھا ہے ‘ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر یہ لکھائی جاری کردی ‘ یا تو آپ کے علم کے بغیر قلم نے لکھ دیا یا اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کے لکھنے کا علم دے دیا اور آپ کو پڑھنے والا بنادیا اور یہ آپکے معجزہ میں زیادتی ہے جیسا کہ رب نے وہ آپکو وہ  سب سکھادیا جو آپ جانتے نہ تھے
خلاصہ کلام اگر چہ آپ امی تھے یعنی  آپ کسی دنیاوی استاذ سے پڑھے ہوئے نہ تھے مگر جب پڑھنے لکھنے کی بات اتی تو آپ اپنے معجزہ سے یہ کرجاتے تھے
جبکہ علامہ آلوسی نے لکھ دیا ہے کہ وصال سے قبل رب نے آپکو لکھنے پڑھنے کا علم بھی عطا فرمایا تھا
بس بات ختم
#گرائمر کی بات
اور اسکی یہ بھونڈی اور جاھلانہ بات کی صحابہ کرام سے معاذاللہ گرائمر کی غلطی ہوئی کہ لنسفعن کو لنسفعا لکھ دیا۔۔۔
معاذاللہ یہ خود کتنا بڑا جاھل ہے
کہ علم صرف و  نحو کےقوائد وگرائمر سے کتنا ناواقف ہے اور خود گرائمر کا پتہ نہیں اور الزام صحابہ کرام پہ لگا دیا
صحابہ کرام نے تو پورا پورا گرائمر کا خیال رکھا اور بالکل ٹھیک لکھا۔۔
#نون خفیفہ و تنوین

چونکہ نون خفیفہ اور تنوین کے درمیان مشابہت ہے(تنوین میں دو زبر ہوتے ہیں جسکی آواز نون ہی کی طرح ہوتی ہے #اً اس لئے نون خفیفہ کو تنوین کی شکل میں بھی لکھتے ہیں)اور تنوین کو حالت وقف میں الف سے بدل دیا جاتا ہے(جیسے علیماً سے علیمَا) اسی طرح نون خفیفہ کو بھی الف سے بدل دیا جاتا ہے
جیسے کہ سورہ یوسف میں #لَیَکُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ
میں  ٫
لَیَکُونًا بھی اصل میں #لَیَکُوْنَنْ ہے اس میں حالت وقفی کی رعایت کی گئی ہے اور  لَیَکُوْنَنْ کو لیکوناً لکھاگیا
بالکل اسی طرح سورہ علق میں   #لَنَسْفَعًا کے اخیر میں یہی نون خفیفہ ہے جو اصل میں #لَنَسْفَعَنْ ہے
چونکہ گرائمر کے اصول کے مطابق حالت وقفی کی رعایت کرتے ہوئے الف کے ساتھ لکھا جاسکتا ہے اس لئے صحابہ نے مکمل گرائمر کا اعتبار کرتے ہوئے #لَنَسْفَعًا لکھ دیا جو بالکل درست ہے
ان پڑھ مولوی طارق دوبارہ گرائمر پڑھے،عربی النسل اور مجتھد صحابہ کو عربی سکھانے کی ضرورت نہیں خود جاکر اپنا گرائمر اور اپنا ایمان  ٹھیک کرے

بے ادب گستاخ فرقوں کو سنادے اے حسن
یوں کہا کرتے ہیں سنی داستان اھل بیت
✍️ سگِ درگاہِ جیلانی ذوالقرنین رضوی