۲۹- باب من برك على ركبتيه عند الإمام أو المحدث

جوشخص امام یا محدث کے سامنے دوزانو بیٹھ جاۓ

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں اس سائل پر عالم کے غضب کا ذکر ہے جس نے ادب کے تقاضے کو ملحوظ نہیں رکھا اور اس باب میں عالم کے سامنے متعلم کے ادب کا ذکر ہے ۔

۹۳- حدثنا أبو اليـمـان قـال أخبرنا شعيب، عن الزهري قال أخبرني أنس بن مالك أن رسول اللہ صلى الله عليه وسلم خرج فقام عبد الله بن حذافہ فقال من أبى؟ فقال أبوك حذافة. ثم أكثر أن يقول سلوني قبرك عمر على ركبتيه فقال رضينا باللہ ربا وبالإسلام دينا وبمحمد صلی اللہ علیہ وسلم نبيا، فسكت۔

اطراف الحدیث:۵۴۰ – ۷۴۹ -۴۶۲۱ – 6362 – 7295

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں ابوالیمان نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری انہوں نے کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو حضرت عبداللہ بن حذافہ کھڑے ہو گئے،  پس کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے پھر آپ نے بہت مرتبہ فرمایا: مجھ سے سوال کرو تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے گھٹنوں پر بیٹھ گئے پھر کہا: ہم اللہ کو رب مان کر راضی ہیں اور اسلام کو دین مان کر راضی ہیں اور ( سیدنا) محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہیں پھر آپ خاموش ہو گئے ۔

( صحیح مسلم :۲۳۵۹، سنن ترمذی :3056، سنن الکبری للنسائی : 11154، مسند احمد ج ۳ ص ۲۰۶ طبع قدیم مسند احمد : ۱۴۷. ۱۳ – ج۲۰ ۳۹۵)

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اس سے پہلے ہو چکا ہے ۔

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں حضرت عمر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوزانو بیٹھنے کا ذکر ہے ۔

 

حضرت عبداللہ بن حذافہ اور دوسروں کے سوال کا فرق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کی فہم اور ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تواضع کرنا

 

علامہ ابوالحسن علی بن خلف بن عبد الملک ابن بطال مالکی قرطبی متوفی ۴۴۹ھ لکھتے ہیں:

حضرت عبداللہ بن حذافہ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میرا باپ کون ہے؟ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ان کا کسی سے جھگڑا ہوتا تو وہ ان کو ان کے باپ کے غیر کی طرف منسوب کرتا تھا اس لیے انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے نسب کے متعلق دریافت کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ تمہارے باپ حذافہ ہی ہیں ۔

نیز اس حدیث سے حضرت عمر  رضی اللہ تعالٰی عنہ کی فہم اور ان کے علم کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، کیونکہ ان کو یہ خوف ہوا کہ آپ سے زیادہ  سوالات کرنا، آپ کو مشقت میں ڈالنے اور آپ کی نبوت میں شک کرنے کے مترادف ہے، اسی وجہ سے حضرت عمر نے کہا کہ ہم اللہ کو رب مان کر اور اسلام کو دین مان کر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی مان کر راضی ہیں اور حضرت عمر کو یہ خطرہ ہوا کہ زیادہ سوال کرکے آپ کو مشقت میں ڈالنے کی وجہ سے کہیں مسلمانوں پر عذاب نہ آجاۓ کیونکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے:

لا تسئلوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم ۔۔المائدہ:101۔۔

ایسی چیزوں کے متعلق سوال نہ کرو جوتم پر ظاہر کردی جائیں تو تم کو ناگوار ہوں ۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس حدیث کا معنی بیان کرتے ہوۓ فرمایا: کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استہزاء سوال کرتے تھے، کوئی شخص کہتا کہ بتائیں: میرا باپ کون ہے؟ اور جس شخص کی اونٹنی گم ہو جاتی وہ کہتا: بتائیں میری اونٹنی کہاں ہے؟ تب یہ آیت نازل ہوئی:” يأيها الذين امنوا لا تسئلوا عن أشياء‘‘(المائدہ:۱۰۱)۔ نیز اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ عالم سے صرف اس چیز کے متعلق سوال کیا جاۓ، جس کی ضرورت ہو اور حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گھٹنوں پر بیٹھے اس میں آپ کا احترام اور آپ کے سامنے تواضع ہے ۔

(شرح ابن بطال علی صحیح البخاری ج۱ ص ۱۶۰ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۴ھ )

حضرت عمر کا اپنے کلمات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب اور اکرام کرنا اور مسلمانوں پر شفقت کرنا ۔۔۔اور ان کی راۓ کا ہمیشہ صائب ہونا

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے جو فرمایا تھا: ہم اللہ کو رب مان کر اور اسلام کو دین مان کر راضی ہیں، اس کا معنی یہ ہے کہ ہمارے پاس جو اللہ کی کتاب ہے اور ہمارے نبی کی سنت ہے وہ ہمارے لیے کافی ہے اور ہمیں اب کسی چیز کے متعلق سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہے حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ادب اور اکرام کے لیے اور مسلمانوں پر شفقت کے لیے یہ کلمات کہے کہ کہیں ان کا شمار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء پہنچانے والوں میں نہ ہو جاۓ اور وہ اس آیت کا مصداق نہ بن جائیں:

إن الذين يودون الله ورسوله لعنهم الله في الدنيا والآخرة وأعدلهم عذابا مهينا (الاحزاب:۵۷)

 بے شک جولوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دیتے ہیں ان پر اللہ دنیا اور آخرت میں لعنت فرماتا ہے اور اس نے ان کے لیے ذلت والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

حضرت عمر کے اس قول میں دین سے مراد توحید ہے اور دین کا اطلاق اسلام ایمان اور احسان پر بھی حدیث میں ہے اور دین سے مراد وہ احکام میں جو حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک تمام نبیوں اور رسولوں میں مشترک رہے،  اور اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت عمر کی رائے ہمیشہ درست ہوتی ہے اور ان کی زبان سے وہی کلام صادر ہوتا ہے جو حق اور صواب ہو ۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۵۹۹۸ ۔ ج6 ص ۸۲۰ پر مذکور ہے اور اس کی وہی شرح ہے جو حدیث نمبر 6004 کی شرح کی گئی ہے ۔