أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلّٰىۙ ۞

ترجمہ:

نہ اس نے تصدیق کی اور نہ اس نے نماز پڑھی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : نہ اس نے تصدیق کی اور نہ اس نے نماز پڑھی۔ لیکن اس نے تکذیب کی اور روگردانی کی۔ پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوگیا۔ تیرے لیے ( مرتے وقت) خرابی ہو، پھر ( قبر میں) تیرے لیے خرابی ہو۔ پھر تیرے لیے ( حشر میں) خرابی ہو، پھر تیرے لیے ( دوزخ میں) خرابی ہو۔ ( القیامہ ٣٥۔ ٣١)

” اولیٰ لک فاولیٰ “ کا شان نزول اور اس کے معانی

یہ آیات ابو جہل کے متعلق نازل ہوئی ہیں، یعنی ابو جہل نے نہ تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور رسالت کی تصدیق کی اور نہ آپ کے پیغام پر عمل کرتے ہوئے نماز پڑھی، یہ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے۔ قتادہ نے کہا : اس نے یہ اللہ کی کتاب کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی، اور ایک قول ہے : نہ اس نے اللہ کے پاس اپنے اجر کا ذخیرہ کرنے کے لئے صدقہ دیا اور نہ وہ نمازیں پڑھیں جن کے پڑھنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے، اور ایک قول ہے : نہ وہ دل سے ایمان لایا اور نہ اس نے بدن سے نماز پڑھی۔

اس کے بعد فرمایا : اس نے قرآن کی تکذیب کی اور ایمان لانے سے اعراض کیا، پھر وہ اپنے گھر والوں کی طرف اکڑتا ہوا گیا۔

القیامہ : ٣ میں ” یتمطی “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : غرور سے اکڑتا ہوا، ناز سے مٹکتا ہوا، ” مطا “ کا معنی ہے : پشت، اس کی جمع ” امطاء “ ہے ” مطیۃ “ کا معنی ہے : سواری اور بوجھ، اس کی جمع ” مطایا “ ہے ” مطو “ اور ” مطائ “ کا معنی ہے، اکڑنا، تیز تیز چلنا، ” امطائ “ کا معنی ہے : جانور پر بوجھ لادنا، ” تمطی “ کا معنی ہے : اکڑنا، مٹک مٹک کر چلنا۔