أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِىَۙ ۞

ترجمہ:

یقینا جب ان کی روح ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جائے گی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یقینا جب ان کی روح ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جائے گی۔ اور کہا جائے گا کہ کوئی دم کرنے والا ہے ؟۔ اور وہ گمان کرے گا کہ یہ جدائی کی ساعت ہے۔ اور پنڈلی، پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔ اس دن آپ کے رب کی طرف لے جایاجائے گا۔ ( القیامہ : ٣٠۔ ٢٦ )

” کلا “ اور تراقی “ کا معنی

القیامہ : ٢٦ میں ” کلا “ کا لفظ ہے، اس کے دو معنی ہیں، یہ کسی کو کسی کام سے روکنے اور باز رکھنے کے معنی میں آتا ہے، اور تحقیق اور یقین کے اظہار کے لیے بھی آتا ہے۔

الزجاج نے کہا :” کلا ‘ یہاں پر دنیا کو آخرت پر ترجیح دینے سے روکنے اور منع کرنے کے لیے ہے، گویا کہ یوں کہا گیا کہ جب تم نے جان لیا کہ ایمان لانے والے اور اعمال صالحہ کرنے والے آخرت میں کامیاب ہیں، اور کفر کرنے والے اور برے کام کرنے والے آخرت میں ناکام ہیں، اول الذکر دائمی نعمتیں پائیں گے اور ثانی الذکر ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے اور تم کو معلوم ہوگیا کہ آخرت کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو پھر تم دنیاکو آخرت پر ترجیح دینے سے باز آجائو اور یاد رکھو کہ تمہارے سامنے موت آنے والی ہے اور پھر دنیا کی بہ عارضی راحتیں تم سے منقطع ہوجائیں گی اور پھر بعد کی زندگی شروع ہوگی اور جو ہمیشہ ہمیشہ قائم رہے گی۔

دوسرے مفسرین نے کہا : ” کلا “ اس آیت میں تحقیق اور یقین کے معنی میں ہے، یعنی جب ان کی روح ہنسلی کی ہڈیوں تک پہنچ جائے گی۔ اس آیت میں ” التراقی “ کا لفظ ہے، یہ ” الترقوہ “ کی جمع ہے، اس کا معنی ہے : ہنسلی ” بلغت روحہ التراقی “ اس کا معنی ہے، وہ جاں بلب ہوگیا، ہنسلی کا معنی ہے : گردن کے نیچے اور سینہ کے اوپر کی ہڈی، یعنی جب اس کی روح اس کے جسم سے نکل کر اس کے گلے تک پہنچ جائے گی اور اب وہ کسی لمحہ بھی مرا چاہتا ہوگا۔

مقاتل نے کہا : قیامت کے دہشت ناک احوال سننے کے بعد بھی کافر ایمان نہیں لائے گا، لیکن وہ اپنے آپ سے موت کی دور نہیں کرسکے گا اور گھونٹ گھونٹ کر کے موت کو پیتا رہے گا، لیکن بالآخر اس کو مرنا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 26