أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هَلۡ اَتٰى عَلَى الۡاِنۡسَانِ حِيۡنٌ مِّنَ الدَّهۡرِ لَمۡ يَكُنۡ شَيۡـٴً۬ـا مَّذۡكُوۡرًا ۞

ترجمہ:

یقینا انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت آچکا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یقینا انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت آچکا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا ہے ہم اس کو آزماتے ہیں، سو ہم نے اس کو سننے والا، دیکھنے والا بنادیا۔ ہم نے اس کو ( سیدھا) راستہ دکھا دیا، اب وہ چاہے شکر کرنے والا ہو یا نا شکرا۔ (الدھر : ٣۔ ١)

” ھل “ کا معنی

اس آیت کے شروع میں ” ھل “ کا لفظ ہے اور یہ استفہام کے لیے آیا ہے، اس کا معنی ہے :” کیا “ اس صورت میں اس آیت کا معنی ہوگا : کیا انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت آچکا ہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا اور یہ معنی صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سوال کررہا ہے : کیا انسان پر ایساوقت آچکا ہے، اور سوال کرنا عدم علم پر دلالت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نہ جانا، محال ہے، اس لیے مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں ” ھل “ ” قد “ کے معنی میں ہے، یعنی بیشک یا بالیقین انسان پر زمانہ میں ایک ایسا وقت آچکا ہے، اور اس کی نظیریہ آیت ہے :

ھَلْ اَتٰـکَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَۃِ ۔ (الغاشیہ : ١) بیشک آپ کے پاس قیامت کی خبر آچکی ہے۔

اس آیت میں ” انسان “ کے مصداق میں متعدد اقوال

اس آیت میں ” انسان “ کا لفظ ہے، علامہ علی بن محمد المادردی المتوفی ٤٥٠ ھ نے لکھا ہے : انسان کی تفسیر میں دو قول ہیں :

(١) قتادہ، السدی اور عکرمہ نے کہا : اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں کیونکہ آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا فرمایا، جیسا کہ اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اللہ عزوجل نے زمین کو ہفتہ کے دن پیدا فرمایا اور اس میں پہاڑ اتوار کے دن نصب کیے اور پیر کے دن درخت پیدا کیے اور مکروہ چیزیں منگل کے دن پیدا کیں اور نور بدھ کے دن پیدا کیا، اور جعرات کے دن اس میں چوپائوں کو پھیلا دیا اور حضرت آدم (علیہ السلام) کو سب مخلوق کے آخر میں جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا فرمایا، وہ جمعہ کی ساعات میں سے آخری ساعت تھی، عصر سے لے کر رات کے وقت تک۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٨٩، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٠٩٤٣ )

(١) حضرت ابن عباس (رض) اور ابن جریج کا قول یہ ہے کہ اس آیت میں ” انسان “ سے مراد ہر انسان ہے۔

( النکت والعیون ج ٥ ص ٦٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

دوسرے قول کی دلیل یہ ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ اَمْشَاجٍ (الدھر : ٢) بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا۔

اس دوسری آیت میں ” انسان “ سے مراد عام بنو آدم اور عام انسان ہیں اور دونوں آیتوں میں لفظ ” انسان “ معرفہ ہے اور یہ باقاعدہ ہے کہ جب معرفہ مکرر ہو تو دوسرا معرفہ پہلے معرفہ کا عین ہوتا ہے اور جب دوسری آیت میں انسان سے مراد عام جو آدم ہیں تو پہلی آیت میں ” انسان “ سے مراد عام بنو آدم ہونے چاہئیں، نیز اس لیے بھی تاکہ نظم قرآن میں خلل نہ آئے۔

اس آیت میں ” حین من الدھر “ فرمایا ہے، علامہ الماوردی نے کہا ہے : اس کی تفسیر میں تین قول ہیں :

جس مدت میں انسان قابل ذکر نہ تھا، اس مدت کے متعلق متعدد اقوال

(١) اس سے حضرت آدم (علیہ السلام) کے جسم میں روح پھونکے جانے سے چالیس سال پہلے کا زمانہ مراد ہے، اس وقت ان کا جسم مکہ اور طائف کے درمیان افتادہ تھا، ابو صالح کی روایت کے مطابق یہ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے۔

(٢) ضحاک نے حضرت ابن عباس (رض) سے دوسرا قول اس طرح روایت کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو گارے والی گیلی مٹی (طین) سے پیدا کیا گیا، اور ان کا جسم چالیس سال اس حالت میں رہا، پھر چالیس سال وہ سڑی ہوئی کیچڑ ( حمامسنون) کی حالت میں رہے، پھر چالیس سال وہ خشک بجتی ہوئی مٹی ( صلحاصل) کی حالت میں رہے، پھر ایک سو بیس سال بعد ان کے جسم کی تخلیق مکمل ہوگئی، پھر ان میں روح پھونک دی گئی۔

(٣) حضرت ابن عباس (رض) کا تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد غیر معین مدت اور غیر محدود زمانہ ہے۔

اس کے بعد فرمایا : جب وہ ( انسان) کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا، اس ارشاد کے بھی دو محمل ہیں :

(١) یحییٰ بن سلام نے کہا : وہ ( انسان) خلقت میں کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا اگرچہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ قابل ذکر چیز تھا۔

(٢) اس وقت انسان مٹی کا ایک جسم تھا جس کی صورت بنی ہوئی تھی، اس وقت اس کا نہ ذکر کیا جاتا تھا نہ وہ معروف تھا ؟ اس وقت اس کا کوئی نام نہ تھا، پھر اس میں روح پھونک دی گئی تو وہ قابل ذکر ہوگیا، یہ فراء اور قطرب اور ثعلب کا قول ہے۔

(النکت والعیون ج ٦ ص ٦٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت)

تبیان القرآن سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 1