أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ ۞

ترجمہ:

اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی

 

القیامہ : ٢٩ میں فرمایا : اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ جائے گی۔

پنڈلی سے پنڈلی لپٹنے کے دو محمل

اس آیت میں ” الساق “ کا لفظ ہے ” الساق “ کا حقیقی معنی ہے : پنڈلی جو کہ مخصوص عضو ہے، اور اس کا مجازی معنی ہے : کسی کام یا کسی چیز کی شدت، کیونکہ جب انسان کوئی بہت سخت اور مشکل کام کرتا ہے تو اپنی پنڈلی سے پائنچے اوپر اٹھا لیتا ہے اور جب انسان دنیا سے رخصت ہونے لگتا ہے تو اس کے لیے یہ بہت سخت اور مشکل وقت ہوتا ہے، اب کی دو مشکلیں اور دوسختیاں ایک دوسرے سے لپیٹ جاتی ہیں، ایک دنیا سے انتقال کی سختی، دوسرے اپنے مال اور اولاد سے جدائی کی سختی، اسی طرح اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے جدائی کی پیشانی اور دوسری یہ پریشانی کہ اس دنیا میں اس کا دل لگا ہوا تھا، اب وہ ایسی جگہ قبر میں جانے والا ہے، اس اجنبی جگہ وہ کیسے رہے گا ؟ یہاں پر ایک آدمی کے لئے کئی کمرے ہوتے ہیں، ایک کمرہ مطالعہ کا ہوتا ہے اور ایک کمرہ کھانے پینے اور آرام کا ہوتا ہے، یہاں اس کو بجلی کی روشنی اور بجلی کے پنکھے میسر ہوتے ہیں، باتیں کرنے اور دل بہلانے کے لئے دوست اور احباب ہوتے ہیں، پھر اس کو قبر میں رکھ دیا جائے گا اور وہ بہت تنگ جگہ ہوگی، نہ وہاں روشنی ہوگی نہ ہوا ہوگی، نہ اس سے کوئی باتیں کرنے والا ہوگا، نہ وہ سیر اور تفریح کے لیے کہیں جاسکے گا، اس چھوٹی سی تنگ اور تاریک جگہ میں اس کا کیسے گزاراہ ہوگا، پس ایک مشکل سے کئی مشکلات اور ایک سختی کے ساتھ کئی سختیاں اور ایک پریشانی سے کئی پریشانیاں وابستہ ہوتی ہیں۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ ” الساق “ سے اس کا حقیقی معنی مراد ہے یعنی پنڈلی، الشعبی اور قتادہ نے کہا : جب انسان پر نزع روح کا وقت آتا ہے تو وہ تکلیف کی شدت میں بےقراری سے ایک ٹانگ کے اوپر دوسری ٹانگ مارتا ہے، اس طرح ایک پنڈلی دوسری پنڈلی کے ساتھ چمٹ جاتی ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ اس کی پنڈلیاں مرنے کے بعد سوکھی ہوئی ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہوتی ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 29