٣٤- باب كيف يقبض العلم

علم کو کس طرح اٹھالیا جاۓ گا ؟

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں حدیث کی حرص کا بیان ہے اور علم حدیث تمام انواع علوم میں سب سے اشرف اور افضل علم ہے اور اس باب میں علوم کے اٹھانے کا ذکر ہے سو اس میں یہ تنبیہ ہے کہ اس سے پہلے کہ علوم اٹھالیے جائیں، علم حدیث پر حرص کر کے اس کو زیادہ سے زیادہ حاصل کر لیا جائے ۔

اس کے بعد امام بخاری نے اس اثر معلق کا ذکر کیا ہے:

وكتب عمر بن عبد العزيز إلى أبي بكر بن حزم أنـظـر مـا كـان مـن حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكتبه ، فإني خفت دروس العلم وذهاب العلماء ، ولا يقبل إلا حديث النبی صلی الله عليه وسلم ، وليفشوا العلم، وليجلسوا حتی يعلم من لا يعلم، فإن العلم لا يهلك حتى يكون سرا۔

اور عمر بن عبد العزیز نے ابوبکر بن حزم کی طرف مکتوب لکھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو حدیث بھی ہے،  اس کو تلاش کر کے لکھ لو، کیونکہ مجھے یہ خطرہ ہے کہ علم مٹ جاۓ گا اور علماء ( دنیا سے) چلے جائیں گے اور(پھر) صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو قبول کیا جائے گا اور علم کو پھیلاؤ اور مجلس ( تعلیم ) منعقد کرو حتی کہ جس کو علم نہیں ہے اس کو تعلیم دی جاۓ کیونکہ علم اس وقت تک ضائع نہیں ہوگا حتی کہ اس کو راز بنالیا جاۓ ۔

اثر مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عمر بن عبد العزیز کا بھی خلفاءراشد بن مھدیین میں شمار کیا گیا ہے‘’ کتاب الایمان ‘‘ میں ان کا تعارف ہو چکا ہے۔

(۲) ابوبکر بن حزم بن محمد بن حزم الانصاری المدنی، ہیں سلیمان بن عبدالملک اور عمر بن عبدالعزیز نے ان کو قضا کا منصب دیا اور حج کا امیر بنایا اور ان کو مدینہ کا گورنر بنا دیا یہ ڈاڑھی میں عنابی رنگ کا خضاب لگاتے تھے یہ ۸۴ سال کی عمر گزارکر ہشام بن عبدالملک کی خلافت میں ۱۲۰ ھ میں فوت ہوگئے، امام ترمذی کے سوا باقی ائمہ ستہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں ۔( عمدة القاری ج ۲ ص ۱۹۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

عمر بن عبدالعزیز کا احادیث کی تدوین کا حکم دینا

اس تعلیق میں یہ بتایا ہے کہ احادیث نبویہ کی تدوین عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ہوئی ہے اس سے پہلے علماء حدیث اپنے حفظ پر اعتماد کرتے تھے عمر بن عبد العزیز ۱۰۰ھ کی ابتداء میں خلیفہ مقرر ہوۓ تھے جب ان کو یہ خطرہ ہوا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی احادیث کولکھ کر منضبط اور مدون نہ کیا گیا تو وہ ضائع ہوجائیں گی کیونکہ علماء کے فوت ہونے سے ان کے ساتھ ساتھ علم بھی اٹھ رہا ہے تو انہوں نے احادیث کو تلاش کرکے انہیں لکھنے اور منضبط کر نے کا حکم دیا ابونعیم نے ’’ تاریخ اصبہان‘‘ میں اس قصہ کا ذکر کیا ہے ۔(اس تصریح سے معلوم ہوا کہ منکرین حدیث کا یہ پروپیگنڈہ غلط ہے کہ اڑھائی سو سال بعد احادیث کی تدوین کی گئی ۔ سعیدی غفرلہ )( فتح الباری ج۱ ص ۶ ۶۴ دار المعرفة بیروت ۱۴۲۱ھ )

اس کے بعد امام بخاری لکھتے ہیں:

حدثنا العلاء بن عبد الجبار قال حدثنا عبدالعزيز بن مسلم، عن عبد الله بن دينار بذلك، يعنی حديث عمر بن عبدالعزيز، إلى قوله ذهاب العلماء۔

ہمیں العلاء بن عبدالجبار نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبدالعزیز بن مسلم نے حدیث بیان کی از عبداللہ بن دینار، اس اثر کی یعنی عمر بن عبد العزیز کی حدیث، علماء کے (دنیا سے ) جانے تک ۔

اثر مذکور کے رجال کا تعارف

امام بخاری نے اس اثر کو روایت کر کے یہ اشارہ کیا ہے کہ یہ اثر صرف تعلیقا مروی نہیں ہے بلکہ موصولاً بھی مروی ہے ۔ یہ اثر العلاء بن عبدالجبار سے مروی ہے ابوحاتم نے کہا: یہ صالح الحدیث ہیں، العجلی نے کہا: یہ ثقہ ہیں یہ ۲۱۲ ھ میں فوت ہوگئے تھے، امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں امام مسلم نے ان سے کوئی حدیث روایت نہیں کی ۔ اس اثر کے دوسرے راوی عبدالعزیز بن مسلم ہیں، امام بخاری نے ان سے متعدد احادیث روایت کی ہیں یحی بن معین اورابوحاتم نے کہا: یہ ثقہ ہیں یحی بن اسحاق نے کہا: یہ ابدال میں سے تھے امام ابن ماجہ کے سوا باقی ائمہ ستہ نے ان سے احادیث روایت کی ہیں یہ 167ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص۱۹۶)

۱۰۰- حدثنا إسماعيل بن أبي أويس قال حدثني مالك عن هشام بن عروة عن أبيه، عن عبداللہ بن عمرو بن العاص قال سمعت رسول اللہ صلی الله عليه وسلم يقول إن الله لا يقبض العلم انتزاعا ينتزعـه مـن الـعبـاد، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء، حتى إذا لم يبق عالما، إتخذ النّاس رءووسا جهالا فسئلوا،فافتوا بغير علم فضلوا وأضلّوا۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل بن ابی اویس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے امام مالک نے حدیث بیان کی از ہشام بن عروه از والد خود از حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے: بے شک اللہ علم کو (اس طرح) نہیں اٹھاۓ گا کہ علم کو بندوں (کے سینوں ) سے نکال لے لیکن علماء کے اٹھانے سے. علم کو اٹھا لے گا، حتی کہ جب وہ کسی عالم کو باقی نہیں رکھے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے، ان سے سوال کیا جاۓ گا تو وہ بغیر علم کے فتوے دیں گے، پس خود بھی گم راہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گم راہ کریں گے۔

قال الفربري حدثنا عباس قال حدثنا قتيبة حدثنا جرير، عن هشام نحوه . [ طرف الحدیث:۷۳۰۷)

فربری نے کہا: ہمیں عباس نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی،  انہوں نے کہا: ہمیں جریر نے حدیث بیان کی از ہشام اسی حدیث کی مثل ۔

( صحیح مسلم : ۲۶۷۳، سنن ترمذی: 2652، سنن ابن ماجہ: ۵۲ ، السنن الکبری للنسائی: ٬۵۹۰۷ مصنف عبد الرزاق:۲۰۴۸۱، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۱۷۷ مسند الحمیدی:٬۵۸۱ الزهد لابن المبارک:816، صحیح ابن حبان :۴۵۷۱، المعجم الاوسط :۵۵ شرح السنۃ: ۱۴۷ حلیۃ الاولیاء ج۱۰ص ۲۵ تاریخ اصبهان ج ا ص ۱۹۶ دلائل النبوۃ للبیہقی ج۶ ص ۵۴۳ تاریخ بغداد ج ۳ ص ۷۴ مسند ابوداؤد الطیالسی : ۲۲۹۲ البزار: ۲۳۳ مسند احمد ج ۲ ص ۱۶۲ طبع قدیم، مسند احمد :6511 ۔ ج۱۱ ص ۵۹ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں علم کے اٹھاۓ جانے کا ذکر ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں اور ان سب کا پہلے تعارف ہو چکا ہے۔

علم کوسینوں سے نکالنے پر قدرت کے باوجود علم کوسینوں سے نہ نکالنا اور اس باب کی مؤید دیگر احادیث

اس حدیث میں فرمایا: بے شک اللہ علم کو نہیں اٹھاۓ گا کہ علم کو بندوں سے نکال لے لیکن علماء کے اٹھانے سے علم کو اٹھالے گا ۔

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے فضل سے اپنے بندوں کو جو علم عطا فرمایا ہے وہ ان سے واپس نہیں لے گا جوعلم اللہ تعالی کی معرفت کراتا ہے اور جس سے اس کے احکام شرعیہ کا پتا چلتا ہے ہاں! اگر کوئی شخص علم کو ضائع کر دے تو پھر اللہ تعالی اس سے علم کو اٹھالیتا ہے مگر اس علم کو اس کے سینہ سے نہیں نکالتا اس حدیث کی مزید وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے:

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تین بار فرمایا: علم کے ختم ہونے سے پہلے اس کو حاصل کرلو مسلمانوں نے کہا: یارسول اللہ ! علم کیسے ختم ہوگا! حالانکہ ہم میں اللہ کی کتاب موجود ہے، پھر آپ غضب ناک ہوۓ، اللہ آپ کو غضب میں نہ لاۓ، پھر آپ نے فرمایا: تم کو تمہاری مائیں روئیں کیا بنی اسرائیل میں تورات اور انجیل موجود نہیں تھیں پھر کوئی چیز ان سے کفایت نہ کرسکی، پھر آپ نے تین بارفرمایا: بے شک حاملین علم کے اٹھ جانے سے علم اٹھ جاتا ہے ۔

( المعجم الکبیر : 7906 ۔ ج ۸ ص ۲۳۲ داراحیاء التراث العربي بيروت )

 

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوۓ،  اس دن آپ اونٹ پر سوار تھے اور آپ نے حضرت الفضل بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھایا ہوا تھا اس وقت آپ نے فرمایا: اے لوگو! علم کو اس سے پہلے حاصل کرلو کہ اس کو اٹھالیا جاۓ، اس سے پہلے قرآن مجید میں یہ آیت نازل ہو چکی تھی :

يأيها الذين امنوا لا تسئلوا عن أشياء إن تبدلكم تسؤكم . (المائدہ:۱۰۱ )

اے ایمان والو! اشیاء کے متعلق سوال نہ کرو اگر وہ تم پر ظاہر کردی گئیں تو تم کو برا لگے گا۔

ہم کئی چیزوں کا ذکر کرتے تھے اور یہ آیت ہم کو سوال کرنے سے منع کرتی تھی، پھر ہمارے پاس ایک اعرابی آیا، مسلمانوں نے اس کو ایک چادر پہنائی اس نے اس چادر کو بہ طور عمامہ باندھ لیا حتی کہ میں نے اس چادر کا کنارہ اس کی بائیں بھوں پر دیکھا پھر ہم نے کہا: تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرو اس نے کہا: یانبی اللہ!  علم ہم سے کس طرح اٹھالیا جاۓ گا حالانکہ ہمارے پاس قرآن مجید ہے ہم نے اس کا علم حاصل کرلیا ہے اور ہم نے اپنی بیویوں کو اور اپنی اولاد کو اور اپنے خدام کو قرآن مجید سکھا دیا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور آپ کے چہرے پر غضب کی سرخی چھائی ہوئی تھی، آپ نے فرمایا: اے شخص! تیری ماں تجھے روۓ، یہ یہود اور نصاری ہیں ان کے سامنے ان کی کتابیں ہیں ان کے انبیاء جو کچھ لے کر آئے تھے، یہ اس کے ایک حرف کے ساتھ بھی متعلق نہیں ہوۓ پھر آپ نے تین بارفرمایا: سنو! اہل علم کے ( دنیا سے) چلے جانے سے علم چلا جاتا ہے ۔

( المعجم الکبیر: ۷۸۶۷ ۔ ج ۸ ص۲۱۶ – ۲۱۵ داراحیاء التراث العربي بيروت )

علم کو سینوں سے نکال لینا اللہ تعالی کی قدرت میں ہے، لیکن یہ احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ اس کا وقوع نہیں ہوگا۔

جہل کی دوقسمیں: جہل بسیط اور جہل مرکب اور دیگر مسائل

نیز اس حدیث میں جاہلوں کا ذکر ہے اور جہل کی دو قسمیں ہیں: جہل بسیط اور جہل مرکب، جہل بسیط یہ ہے کہ آدمی کو کسی چیز کا علم نہ ہو اور وہ کہے: مجھے اس چیز کا علم نہیں ہے اور جہل مرکب یہ ہے کہ اس کو کسی چیز کا علم نہ ہو اور وہ یہ سمجھے کہ اس کو اس چیز کا علم ہے

اس کی دو جہالتیں ہیں: ایک وہ اس چیز سے جاہل ہے اور دوسرے وہ اپنی جہالت سے بھی جاہل ہے ۔ اس حدیث میں جن جاہلوں کو مفتی بنانے کا ذکر ہے اس سے مراد وہ جاہل ہیں جو جہل مرکب میں مبتلا ہوں ۔

نیز اس حدیث میں جاہلوں کو رئیس اور سردار بنانے کی مذمت ہے اور علم کی حفاظت کر نے اور علم کے ساتھ مشغول رہنے کی ترغیب ہے اور یہ کہ حقیقی ریاست علماء اور مفتیوں کی ہے۔

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم :6672 ۔ ج ۷ ص ۴۰۵ پر ہے اور اس کی شرح کا عنوان ہے:

علم کے اٹھنے  کے پھیلنے کی پیش گوئی ہمارے زمانہ میں پوری ہوئی

جاہلوں کورئیس اور شیخ بنانے کی مذمت ۔