أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا نَخَافُ مِنۡ رَّبِّنَا يَوۡمًا عَبُوۡسًا قَمۡطَرِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک ہم اپنے رب سے اس دن کا خوف رکھتے ہیں جو بےحد ترش اور سخت ہے.

الدھر : ١٠ میں فرمایا : ( ابرار نے کہا :) بیشک ہم اپنے رب سے اس دن کا خوف رکھتے ہیں جو بےحد ترش اور سخت ہے۔

” عبوس “ اور قمطریر “ کا معنی

اس آیت میں دو مشکل لفظ ہیں :” عبوسا “ اور قمطریرا “۔

” عبوسا “ کے معنی ہے : منہ بنانے والا، تیوری چڑھانے والا، ترش رو، سخت منہ بگاڑنے والا، اس آیت میں ” عبوسا “ ” یوم “ کی صفت ہے، اس کا معنی ہے : ایسا دن جو لوگوں پر بہت سخت اور دشوار ہو، قاموس میں لکھا ہے : ایسا مکروہ دن جس سے لوگوں کے منہ بگڑجائیں۔ (القاموس ص ٥٥٥، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٤ ھ) امام رازی نے لکھا ہے کہ ” یوم “ کی صفت جو ” عبوس “ لائی گئی ہے یہ مجاز ہے، یعنی وہ دن منہ بنانے یا بگاڑنے والا نہیں ہے بلکہ اس دن کی سختی اور شدت سے لوگوں کے منہ بگڑ جاتے ہیں، جیسے کہتے ہیں :” نھارہ صائم “ اس کا حقیقی معنی ہے : اس کا دن روزہ دار ہے حالانکہ اس سے مراد ہوتا ہے : اس دن میں وہ روزہ دار ہے، اس طرح ” یوما عبوسا “ کا معنی ہے : اس دن کے ھول اور اس کی شدت سے لوگوں کے منہ بگڑ جائیں گے، روایت ہے کہ کافر کی آنکھوں کے درمیان سے اس دن پسینہ تیل کی طرح بہہ رہا ہوگا۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٤٩ )

” قمطرات الناقۃ “ کے الفاظ اس وقت بولے جاتے ہیں جب اونٹنی دم اٹھا کے، ناک چڑھا کر اور منہ بنا کر مکروہ شکل اختیار کرے، اس مناسبت سے ہر مکروہ اور رنج میں مبتلا کرنے والے دن کو ” قمطریر “ کہا جانے لگا، اور جس دن میں بہت عصائب اور آلام نازل ہوں، اس دن کو ” قمطریر “ کہتے ہیں اور چونکہ قیامت کا دن بہت ہولناک ہوگا، اس لیے قیامت کے دن کو ” قمطریر “ کہتے ہیں۔ ( المفردات ج ٢ ص ٣٣)