اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِـوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُكُوۡرًا – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Thursday، 26 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّمَا نُطۡعِمُكُمۡ لِـوَجۡهِ اللّٰهِ لَا نُرِيۡدُ مِنۡكُمۡ جَزَآءً وَّلَا شُكُوۡرًا ۞
ترجمہ:
(ابرار کہتے ہیں :) ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں ہم تم سے اس کے عوض نہ کوئی صلہ چاہتے ہیں نہ ستائش
الدھر : ٩ میں فرمایا : (ابرار کہتے ہیں :) ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے اس کے عوض نہ کوئی صلہ چاہتے ہیں نہ ستائش۔
ابرار کا محتاجوں کے ساتھ نیکی کر کے صلہ اور ستائش سے منع کرنا اور اس کی وجوہ
اس سے پہلی آیات میں ذکر فرمایا تھا کہ ابرار ( نیک لوگ) مسکین، یتیم اور قیدی کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہیں اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ ان کے اس حسن سلوک کی دو غرضیں تھیں، ایک اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول، جس کو انہوں نے اپنے اس قول سے ظاہر کیا : ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں اور دوسری قیامت کے دن کا خوف جس کا انہوں نے اس قول سے اظہار کیا : بیشک ہم اپنے رب سے اس دن کا خوف رکھتے ہیں جو بےحد ترش اور بہت سخت ہے۔ ( الدھر : ١٠)
ہو سکتا ہے کہ ان ابرار نے اپنی زبان سے یہ کہا ہو کہ ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں تاکہ ان کا یہ کہنا اس پر دلیل ہو کہ وہ ان ضرورت مندوں سے اپنے اس احسان کا بدلہ نہیں چاہتے، نہ اپنے متعلق کلمات تحسین سننا چاہتے ہیں، اور انہوں نے اپنی زبان سے اس لیے یہ کہا ہو کہ دوسرے احسان کرنے والے بھی سن لیں کہ کسی کے ساتھ نیکی کر کے نہ اس سے اس نیکی کا معاوضہ طلب کرنا چاہیے نہ اس کی تعریف و توصیف کا منتظر رہنا چاہیے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ بات انہوں نے دل میں کہی ہو اور ان کی نیت صلہ اور ستائش کی نہ ہو اور زبان سے انہیں نے کچھ نہ کہا ہو، مجاہد سے روایت ہے کہ انہوں نے زبان سے کچھ نہیں کہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ کو ان کے دل کے حال کا پتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف فرمائی۔
انسان جب کسی کے ساتھ نیکی کرتا ہے تو کبھی تو وہ نیکی صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہے اور ان ابرار کی یہ نیکی ایسی ہی تھی اور کبھی یہ نیکی کسی صلہ کی طلب اور ستائش کی چاہت کے لیے ہوتی ہے، اول الذکر نیت محمود ہے اور ثانی الذکر نیت مذموم ہے اور اس کے مذموم ہونے پر دلیل یہ آیت ہے :
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَہٗ رِئَآئَ النَّاسِ (البقرہ : ٢٦٤ )
اے ایمان والو ! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور (طعنہ کی) ایذاء سے باطل نہ کرو، مثل اس شخص کے جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتا ہے۔
اس لیے ابرار نے صراحت کے ساتھ کہا : ہم تم سے صلہ چاہتے ہیں نہ ستائش۔
القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 9