أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيُطۡعِمُوۡنَ الطَّعَامَ عَلٰى حُبِّهٖ مِسۡكِيۡنًا وَّيَتِيۡمًا وَّاَسِيۡرًا ۞

ترجمہ:

وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں.

الدھر : ٨ میں فرمایا : وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔

ایثار کی فضلیت میں احادیث

اس آیت میں فرمایا ہے : وہ اللہ کی محبت میں، اس کا معنی ہے : ہرچند کہ انہیں خود کھانے کی خواہش ہوتی ہے اور کھانے کی ضرورت ہوتی ہے، پھر بھی وہ اپنے اوپر دوسرے ضرورت مندوں کو ترجیح دیتے ہیں اور ان کے لیے ایثار کرتے ہیں۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ سب سے زیادہ عظیم ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور تمہیں خود مال کی ضرورت ہو اور تمہیں فقر کا خطرہ ہو اور خوش حالی کی امید ہو اور صدقہ دینے میں اتنی تاخیر نہ کرو حتیٰ کہ تمہاری روح تمہارے حلقوم تک پہنچ جائے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث ١٤١٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣٢)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص نے پوچھا : یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کون سا صدقہ سب سے زیادہ عظیم ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اس وقت صدقہ کرو جب تم تندرست ہو اور تمہیں خود مال کی ضرورت ہو اور تمہیں فقر کا خطرہ ہو اور خوش حالی کی امید ہو اور صدقہ دینے میں اتنی تاخیر نہ کرو حتیٰ کہ تمہاری روح تمہارے حلقوم تک پہنچ جائے۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤١٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠٣٢)

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان نے ضرورت کے باوجود کسی برہنہ مومن کو کپڑے پہنائے تو اللہ اس کو جنت کا سبز لباس پہنائے گا، اور جس مسلمانوں نے اپنی بھوک کے باوجود کسی مسلمان کو کھانا کھلایا، اللہ اس کو جنت کے پھلوں سے کھلائے گا اور جس مسلمان نے پیاس کے باوجود کسی مسلمان کو پانی پلایا، اللہ اس کو جنت کی شراب سے پلائے گا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٨٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٤٩، مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ١١١، حلیۃ الاولیاء ج ٨ ص ١٤٣، مسند احمد ج ١٤۔ ١٣ طبع قدیم، مسند احمد ج ١٧ ص ١٦٧۔ ١٦٦۔ رقم الحدیث : ١١١٠١، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)

الدھر : ٨ حضرت علی کے متعلق نازل ہوئی ہے یا ایک انصاری کے متعلق ؟

امام ابو الحسن مقاتل بن سلیمان بلخی متوفی ١٥٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یہ آیت حضرت ابو الدحداح انصاری (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ آیت حضرت علی بن ابی طالب (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے، انہوں نے ایک دن روزہ رکھا، جب افطارکا ارادہ کیا تو ایک سائل نے نداء کی : تمہارے پاس جو طعام ہے : وہ مجھے کھلائو، کیونکہ میں نے آج سارے دن سے کچھ نہیں کھایا، حضرت ابوالدحداح یا حضرت علی (رض) نے اپنی اہلیہ سے کہا : اٹھو ! اس کو ایک روٹی اور سالن دے دو ، اور اس کو کھانا کھلا دو ، تھوڑی دیر بعد ایک یتیم لڑکی نے آ کر صدا دی اور کہا : مجھے کھانا کھلائو، میں بہت کم زور ہوں اور میں نے سارے دس سے کچھ نہیں کھایا، حضرت ابو الدحداح نے کہا : اے ام الدحداح ! اس کو ایک روٹی اور سالن دو اور اس کو کھانا کھلائو، کیونکہ اللہ کی قسم ! یہ اس مسکین سے زیادہ مستحق ہے، وہ ابھی اس کو کھلانے میں مشغول تھے کہ دروازہ پر ایک قیدی نے آ کر سوال کیا : تمہارے شہر میں ایک اجنبی مسافرآیا ہے، اس کو کھانا کھلائو، پس میں تمہارے ہاں قیدی ہوں اور مجھے بھوک نے بہت ستارکھا ہے، پس اس ذات کی رضا کے لیے جس نے تمہیں عزت دی ہے اور مجھے ذلت میں مبتلا کیا ہے تم مجھے کھانا کھلا دو ، پھر حضرت ابو الدحداح نے کہا : اے ام الدحداح ! اٹھو اور اس مسافر قیدی کو ایک روٹی اور سالن کھلا دو ، یہ ان دونوں سائلوں سے زیادہ مستحق ہے، پھر انہوں نے ان کو تین روٹیاں کھلا دیں اور ان کے لیے صرف ایک روٹی رہ گئی، تب اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل کی مدح میں یہ آیتیں نازل کیں : وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ( وہ کہتے ہیں :) ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے اس کے عوض نہ کوئی صلہ چاہتے ہیں نہ ستائش۔ بیشک ہم اپنے رب سے اس دن کا خوف رکھتے ہیں جو بےحد ترش اور بہت سخت ہے۔ ( الدھر : ١٠۔ ٨)

(تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٤٢٨، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٤ ھ)

حضرت علی (رض) کا اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو تین دن بھوکا رکھ کر مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلانا

امام ابو اسحاق احمد بن ابراہیم الثعلبی متوفی ٤٢٧ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت کے سبب نزول میں مفسرین کا اختلاف ہے، مقاتل نے کہا : یہ آیت ایک انصاری کے متعلق نازل ہوئی ہے جس نے ایک دن میں ایک مسکین، ایک یتیم اور ایک قیدی کو کھانا کھلایا، اس کے بعد امام ثعلبی نے اپنی سند کے ساتھ اس انصاری کے قصہ کو بیان کیا ہے، وہ کہتے ہیں : ہمیں علی بن ابی حمزہ نے بیان کیا ہے، انہوں نے کہا : ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک مسکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ کر کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کھانا کھلائیں، آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! میرے پاس تمہیں کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے، لیکن میں تلاش کرتا ہوں، پھر وہ شخص ایک انصاری کے پاس گیا، وہ اپنی بیوی کے ساتھ رات کا کھانا کھا رہا تھا، اس نے کہا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تھا، میں نے آپ سے کہا : مجھے کھانا کھلائیں، آپ نے فرمایا : میرے پاس تمہیں کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے لیکن میں تلاش کرتا ہوں، اس انصاری نے اپنی بیوی سے پوچھا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس کی بیوی نے کہا : اس کو کھلائو اور پلائو، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک یتیم گیا اور کہنے لگا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کھانا کھلایئے، آپ نے فرمایا : میرے پاس تمہیں کھلانے کے لیے کچھ نہیں ہے لیکن میں تلاش کرتا ہوں، پھر وہ یتیم اس انصاری کے پاس گیا جس کے پاس مسکین گیا تھا اور اس نے کہا : مجھے کھانا کھلائو اس انصاری نے اپنی بیوی سے کہا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس کی بیوی نے کہا : اس کو کھانا کھلائو، پس انہوں نے اس کو کھانا کھلایا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک قیدی گیا اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کھانا کھلایئے، آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! تمہیں کھلانے کے لیے میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میں تلاش کرتا ہوں، پھر وہ قیدی اس انصاری کے پاس گیا اور اس سے کہا : مجھے کھانا کھلائو، انصاری نے اپنی بیوی سے کہا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس کی بیوی نے کہا : اس کو کھلانا کھلائو، ان تینوں کو کھانا کھلانے کے واقعات ایک ہی وقت میں ہوئے، تب اللہ تعالیٰ نے اس انصاری کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی : وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ (الدھر : ٨) (الکشف والبیان ج ١٠ ص ٩٨، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٤ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ قرطبی نے بھی امام ثعلبی سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ١١٦۔ ١١٥)

اس روایت کو نقل کرنے کے بعد امام ثعلبی اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں :

حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) بیمار ہوگئے، ان کے نانا سید محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) ان کی عیادت کے لیے گئے اور انہوں نے کہا : اے ابو الحسن ! کاش تم اپنے بچوں کے لیے نذر مان لیتے اور جو نذر پوری نہ کی جائے اس کی کوئی حقیقت ہے، تب حضرت علی (رض) نے کہا : اگر میرے دونوں بیٹے تندرست ہوگئے تو میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے تین دن کے روزے رکھوں گا، حضرت علی خیبر کے یہودی شمعون کے پاس گئے اور اس سے تین صاع ( بارہ کلو گرام) جو قرض لیے، اس یہودی نے کہا : کیا خیال ہے اگر تم ان تین صاع جو کے عوض مجھے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی سے کچھ اون کے دھاگے بنوا کر دے دو ، آپ نے سیدہ فاطمہ (رض) سے مشورہ کیا، انہوں نے اس کی موافقت کی، حضرت علی بازار سے جو َلے آئے، حضرت فاطمہ نے وہ جوَ پیسے، آٹا گوندھا اور پانچ روٹیاں پکائیں تاکہ بہ شمول رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر ایک کے لیے ایک ایک روٹی ہوجائے، حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی، پھر گھر آئے اور اپنے آگے کھانا رکھا، اتنے میں ایک مسکین آ کر دروازے پر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا : اے اہل بیت محمد ! السلام علیکم ! میں مسلمان مسکینوں میں سے ایک مسکین ہوں، آپ مجھے کھانا کھلائیں، اللہ آپ کو جنت کے دستر خوان سے کھانا کھلائے گا، حضرت علی نے فرمایا : اس کو کھانا کھلادو اور انہوں نے ایک دن اور ایک رات کچھ کھائے بغیر گزارا اور سوا خالص پانی کے اور کسی چیز کو تناول نہیں کیا، دوسرے دن پھر حضرت فاطمہ نے ایک صاع ( چار کلو گرام) گندم کو پیسا اور آٹا گوندھ کر اس کی رویاں پکائیں، حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، گھر گھر آئے، ان کے سامنے کھانا رکھا گیا، اتنے میں ایک یتیم دروازے پر آ کر کھڑا ہوگیا اور کہا : اے اہل بیت محمد ! السلام علیکم ! میں مہاجرین کی اولاد سے ایک یتیم ہوں، میرے والدین شہید ہوگئے، آپ مجھے کھانا کھلائیں، اللہ آپ کو جنت کے دستر خوان سے کھانا کھلائے گا، پھر حضرت علی نے اس کو کھانا کھلادیا اور وہ دن بھوکے گزارے، اور پانی کے سوا کسی چیز کو تناول نہیں کیا، تیسرے دن حضرت فاطمہ (رض) نے باقی ایک صاع جوَ کی پیسا اور آٹا گوندھ کر روٹیاں پکائیں اور حضرت علی (رض) نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نماز پڑھی، پھر گھر آئے، ان کے سامنے کھانا رکھا گیا، اتنے میں ایک قیدی آ کر دروازے پر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا : اے اہل بیت محمد ! السلام علیکم ! آپ ہمیں گرفتار کرتے ہیں اور کھانا نہیں کھلاتے، آپ مجھے کھاناکھلائیں کیونکہ میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا قیدی ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کو جنت کے دستر خوان سے کھانا کھلائے گا، انہوں نے اس کو کھانا کھلا دیا، اور تین دن اور تین راتیں انہوں نے کچھ نہیں کھایا، اور سوائے پانی کے اور کسی چیز کو تناول نہیں کیا، اور چوتھا دن آیا تو وہ اپنی نذر پوری کرچکے تھے، حضرت علی (رض) نے اپنے دائیں ہاتھ سے حضرت حسن کو پکڑا اور بائیں ہاتھ سے حضرت حسین (رض) کو پکڑا، اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے، بھوک کی شدت سے ان کے جسم بےحد دبلے ہوچکے تھے اور ان کے جسموں پر کپکی طاری تھی، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی حالت دیکھی تو فرمایا : اے ابو الحسن ! یہ تمہاری کیا حالت ہو رہی ہے، میری بیٹی فاطمہ کے پاس چلو، وہ سب ان کے پاس گئے، وہ اس وقت محراب میں تھیں اور بھوک کی شدت سے ان کا پیٹ ان کی کمر سے چپکا ہوا تھا اور ان کی آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں تھیں، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں دیکھا تو فرمایا : اے اللہ مدد فرما ! مجھے کے اہل بیت تو بھوک سے بےحال ہو رہے ہیں، پھر حضرت جبریل (علیہ السلام) آسمان سے اترے اور کہا : اے محمد ! آپ یہ لیں ! اللہ تعالیٰ آپ کو اپ کے اہل بیت کے متعلق خوش خبری دیتا ہے، آپ نے فرمایا : اے جبریل ! ہم کیا لیں ؟ تو حضرت جبریل نے آپ کو یہ آیات پڑھائیں : وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ الایات ( الدھر : ١٠۔ ٨)

(الکشف و البیان ج ١٠ ص ١٠١۔ ٩٨ ملخصاً ، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢٤ ھ)

حضرت علی کے مذکور ایثار کی روایت کو نقل کرنے والے مفسرین

حسب ذیل مفسرین نے بھی اس روایت کا ذکر کیا ہے :

علامہ ابو الحسن علی بن الواحدی النیشا پوری المتوفی ٤٦٨ ھ : الوسیط ج ٤ ص ٤٠١۔ ٤٠٠، بیروت، ١٤١٥ ھ۔ امام الحسین بن مسعود البغوی الشافی المتفی ٥١٦ ھ : معالم التنزیل ج ٥ ص ١٩١، بیروت، ١٤٢٠ ھ۔ علامہ ابو الفرج عبد الرحمان بن علی بن محمد الجوزی المتوفی ٥٩٧ ھ : زاد المسیرج ٨ ص ٤٣٢، بیروت، ١٤٠٧ ھ۔ علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ : الجامع الاحکام القرآن جز ٢٩ ص ١١٦۔ ١١٥، بیروت، ١٤١٥ ھ۔ امام فخر الدین محم بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ : تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٤٦، بیروت، ١٤١٥ ج۔

مشہور شیعہ مفسر ابو جعفر محمد بن الحسن لاطوسی المتوفی ٤٦٠ ھ لکھتے ہیں :

عام اور خاص علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ آیات حضرت علی (علیہ السلام) اور فاطمہ اور الحسن اور الحسین (علیہم السلام) کے متعلق نازل ہوئی ہیں کیونکہ انہوں نے مسکین، یتیم اور قیدی کو تین راتیں اپنے افطار پر ترجیح دی اور خود وہ (علیہم السلام) بھوکے رہے اور کھانے پینے کی کسی چیز سے افطار نہیں کیا، تب اللہ تعالیٰ نے ان کی بہت عمدہ تعریف کی اور ان کے متعلق یہ سورت نازل کی اور ان کے لیے یہ فضلیت کافی ہے کہ قیامت تک ان کی عظمت میں اس سورت کی تلاوت ہوتی رہے گی اور یہ آیت اس پر دلیل ہے کہ یہ سورت مدنی ہے۔ (التبیان ج ١٠ ص ٢١١، داراحیاء التراث العربی، بیروت)

محققین مفسرین کا حضرت علی کے اس ایثار کی روایت کو مسترد کرنا

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جاہل شخص یہ نہیں جانتا کہ اس قسم کا ایثار کرنا مذموم ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلِ الْعَفْوَ (البقرہ : ٢١٩)

لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں، آپ کہیے کہ جو ( تمہاری ضرورت ہے) زیادہ ہو۔

یعنی جو تمہاری اور تمہارے اہل و عیال کی ضرورت سے زائد ہو اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تواتر کے ساتھ یہ حدیث منقول ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعدخوش حالی رہے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٢٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٤٣ )

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مرد جو کچھ خرچ کرتا ہے، اس میں افضل دینار وہ ہے جس کو وہ اپنے عیال پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جس کو اللہ کی راہ میں اپنی سواری پر خرچ کرتا ہے اور وہ دینار ہے جس کو اللہ کی راہ میں اپنے اصحاب پر خرچ کرتا ہے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٤، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٦٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٧٦٠، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٩١٨٢)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دینار کو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو اور ایک دینار کو تم اپنے غلام پر خرچ کرتے ہو اور ایک دینار کو تم مسکین پر خرچ کرتے ہو اور ایک دینار کو تم اپنے اہل پر خرچ کرتے ہو، ان میں سب سے زیادہ اجر اس کا ہے جس کو تم اپنے اہل پر خرچ کرتے ہو۔

( صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٩٩٥، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٩١٨٣)

حضرت عبد اللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کے پاس ان کا کار مختار ( سیکرٹری) آیا، آپ نے پوچھا : کیا تم نے غلاموں کو ان کی روزی دے دی ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : جائو ان کو ان کی روزی دو ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی شخص کے گناہ گار ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ جس کو روزی دینے کا وہ مالک ہے اس کو روزی نہ دے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٦)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (خرچ کرنے میں) سب سے پہلے اپنے نفس سے ابتداء کرو اور اس پر صدقہ کرو، پھر اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل کو دو ، پھر اگر اہل کو دینے سے کچھ بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں کو دو ، پھر اگر ان کو دینے سے بچ جائے تو تمہارے سامنے اور دائیں بائیں جو لوگ ہیں ان کو دو ۔

( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٧، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٤٦ )

کیا کوئی صاحب عقل یہ گمان کرسکتا ہے کہ حضرت علی (رض) ان احادیث اور ان احکام سے ناواقف تھے، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے پانچ اور چھ سال کے بچوں کو تین دن اور تین راتیں بھوکا رکھا، حتیٰ کہ وہ بھوک کی شدت سے بےحال ہوگئے ان کی آنکھیں اندر دھنس گئیں اور ان کے پیٹ ان کے کمر سے چپک گئے، حتیٰ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا یہ حال دیکھ کر رو پڑے، چلو مان لیا کہ حضرت علی (رض) نے اپنے نفس پر اس سائل کو ترجیح دی تو کیا ان کے لیے یہ جائز تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کو بھی اس ایثار پر برانگیختہ کرتے، چلو مان لیا کہ ان کی اہلیہ نے بھی حضرت علی (رض) کی طرح اپنے نفس پر اس سائل کو ترجیح دی، تو کیا حضرت علی (رض) کے لیے یہ جائز تھا کہ وہ اپنے چھوٹ چھوٹے بچوں کو بھی تین دن اور تین راتیں بھوکا رہنے کی ترغیب دیتے، نیز حضرت علی (رض) کے لیے یہ کب ضروری تھا کہ وہ سائل کو پانچوں روٹیاں دے دیتے، وہ سائل کو ایک روٹی دے دیتے، باقی روٹیاں وہ خود اور انکے اہل و عیال کھاتے، کوئی احمق اور جاہل ہی ایسا کام کرسکتا ہے، جو دل حق آگاہ ہیں وہ حضرت علی (رض) کے متعلق ایسے کام کا گمان نہیں کرسکتے، مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ قید خانوں میں بیٹھے ہوئے ایسی احادیث گھڑتے رہتے ہیں اور جب باہر علماء کے پاس یہ احادیث پہنچتی ہیں تو وہ ان کے مسترد کردیتے ہیں اور ہر چیز کے لیے آفت اور سازش ہوتی ہے اور دین کی آفت اور سازش سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ( الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ١١٩۔ ١١٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اس قصہ پر تعصب کیا گیا ہے کہ یہ حدیث موضوع اور من گھڑت ہے، جیسا کہ حکیم ترمذی اور ابن جوزی نے ذکر کیا ہے، موضوع ہونے کے لفظی اور معنوی دلائل خود اس حدیث میں موجود ہیں، پھر اس حدیث کا تقاضا یہ ہے کہ یہ سورت مدنی ہو کیونکہ حضرت علی کی حضرت فاطمہ سے شادی مدینہ میں ہوئی تھی اور وہیں حضرت حسن اور حضرت حسین (رض) پیدا ہوئے تھے حالاکنہ النحاس نے سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ یہ سورت مکی ہے اور یہی جمہور کا مؤقف ہے، یہ کہنے سے کہ یہ آیت حضرت علی اور حضرت فاطمہ کے متعلق نازل نہیں ہوئی، ان کی شان اور فضلیت کم نہیں ہوتی اور نہ یہ لازم آتا ہے کہ وہ ابرار میں داخل ہوں بلکہ اور مسلمانوں کی بہ نسبت وہ ابرار میں پہلے داخل ہیں، حضرت علی (رض) تمام مسلمانوں کے مولیٰ اور محبوب ہیں اور حضرت سیدہ فاطمہ (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جسم کا ٹکڑا ہیں اور حسنین کریمین (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوح اور ریحان ( خوشی اور خوش بو) ہیں اور جنت کے جوانوں کے سردار ہیں اور وہ اپنی فضلیت کے ثبوت میں اس من گھڑت روایت سے مستغنی ہیں۔ ( روح المعانی جز ٢٩ ص ٢٧١۔ ٢٧٠، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی نے کہا ہے کہ یہ حدیث موضوع ہے، کلبی نے اس حدیث کو از ابو صالح از حضرت ابن عباس روایت کیا ہے اور امام ثعلبی نے اس کو اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ( الکاف الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ج ٤ ص ٦٧٠) اور امام ابن جوزی نے لکھا ہے : یہ حدیث موضوع ہے۔ ( کتاب الموضوعات ج ١ ص ٣٩٠) اور حکیم ترمذی نے کہا ہے : یہ حدیث ان احادیث میں سے ہے جن کو محققین کے قلوب مسترد کردیتے ہیں، اس حدیث میں اس طرح ملمع کاری کی گئی ہے اور اس کو ایسا مزین اور برا اثر بنایا گیا ہے کہ جاہل آدمی یہ تمنا کرتا ہے کہ کاش ! وہ بھی ایسا کام کرے اور وہ یہ نہیں جانتا کہ ایسا کام کرنے والا قابل مذمت ہے۔ ( نوارد الاصول ج ١ ص ١٥٥۔ ١٥٤ )

الدھر : ٨ صرف حضرت علی (رض) کے متعلق نازل نہیں ہوئی بلکہ اس کا تعلق تمام ابرار کے ساتھ ہے

ہر چند کے بعض مفسرین نے اس روایت کو اپنی تفاسیر میں ذکر کیا ہے، لیکن ان میں سے محققین نے یہ لکھا ہے کہ اس آیت کو حضرت علی (رض) کے ساتھ مخصوص کرنا صحیح نہیں ہے، بلکہ یہ آیت تمام ابرار اور نیک کام کرنے والوں کے لیے عام ہے اور اس آیت کی بشارت میں تمام مؤمنین داخل ہیں اور حضرت علی (رض) بھی ان میں شامل ہیں۔

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں :

محققین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے شروع میں فرمایا تھا : اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو امتحان اور آزمائش کے لیے پیدا فرمایا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس نے سب کو ہدایت دی ہے اور ان کے اعذار اور شبہات کو زائل فرما دیا ہے، پھر مخلوق کی دو قسمیں بن گئیں، ایک گروہ شاکرین کا ہے اور ایک گروہ کافرین کا ہے، پھر کافروں کے لیے عذاب کی وعید کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد شاکرین کے لیے وعدہ کا ذکر فرمایا، پس فرمایا :” اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ “ ( الدھر : ٥) بیشک نیکو کار مشروب کے جام پئیں گے، یہ جمع کا صیغہ ہے جو تمام شکر گزاروں اور نیکو کاروں کو شامل ہے اور ایسی عام آیت کی ایک شخص کے ساتھ تخصیص کرنا صحیح نہیں ہے، کیونکہ یہ سورت شروع سے اس آیت تک یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس میں تمام اطاعت کرنے والوں اور نیکی کرنے والوں کے حال کا بیان ہے، پس اگر ہم اس آیت کو کسی ایک شخص کے ساتھ مخصوص کردیں تو اس سورت کا نظام خراب ہوجائے گا، اور اس کی ترتیب فاسد ہوجائے گی۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ ان آیات میں جو صفات بیان کی گئی ہیں وہ جمع کے صیغوں کے ساتھ ہیں اور عام ہیں، سو فرمایا :

اِنَّ الْاَبْرَارَ یَشْرَبُوْنَ (الدھر : ٥) نیکو کار مشروب کے جام پئیں گے۔

یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمًا (الدھر : ٧) وہ نذر پوری کرتے ہیں اور قیامت کے دن سے ڈرتے ہیں۔

وَ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّیَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا۔ (الدھر : ٨) وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔

اس طرح اس کے بعد بشارتوں کی تمام آیات بھی جمع کے صیغوں کے ساتھ ہیں اور عام ہیں، اور ان آیات کے عموم میں حضرت علی (رض) کے دخول کا انکار نہیں ہے اور وہ اطاعت کرنے والوں کے اخروی انعام کی تمام بشارتوں میں داخل ہیں، جیسا کہ ان آیات کے عموم میں دو سے متقی صحابہ اور تابعین اور بعد کے نیک مسلمان داخل ہیں، سو اب اس آیت کو حضرت علی (رض) کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٤٧، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

صحیح یہ ہے کہ یہ آیت تمام ابرار ( نیکوکاروں) کے متعلق نازل ہوئی ہے، اور ہر اس شخص کے متعلق جس نے کوئی نیک کام کیا، سو یہ آیت تمام مؤمنین کے لیے عام ہے، اور نقاش، ثعلبی، قشیری اور متعدد مفسرین نے حضرت علی (رض) ، حضرت فاطمہ (رض) اور ان کی باندی فضہ کے قصہ میں ایک حدیث ذکر کی ہے، جو صحیح ہے نہ ثابت ہے، جس کو لیث نے از مجاہد از حضرت ابن عباس، الدھر : ٧ کی تفسیر میں روایت کیا ہے۔ ( جامع الاحکام القرآن جز ٢٩ ص ١١٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ اس قصہ کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :

اس قصہ سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس آیت میں ” ابرار “ سے مراد فقط اہل بیت ہوں کیونکہ خصوصیت سبب کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ الفاظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے، لہٰذا اس آیت میں دوسرے نیک مسلمان بھی داخل ہیں جو مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلائیں اور یہ قصر راوی کے ضعیف کی وجہ سے ضعیف ہے، مگر یہ قصہ علماء کے درمیان مشہو رہے اور ان کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے، حکیم ترمذی (رح) نے کہا : یہ قصہ من گھڑت ہے، اس کو جاہل احمق کے سوا کوئی بیان نہیں کرسکتا، ابن جوزی نے اس کا موضوعات میں ذکر کیا ہے اور کہا کہ اس کے موضوع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، نیز اس قصہ کی بناء پر لازم آئے گا کہ یہ سورت مدنی ہو حالانکہ جمہور کے نزدیک یہ سورت مکی ہے، اور حضرت علی (رض) کے ساتھ حضرت فاطمہ (رض) کا نکاح جنگ احد کے بعد مدینہ میں ہوا تھا۔ ( روح البیان ج ١٠ ص، ٣١٨، داراحیاء العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

الدھر : ٨ میں ” علیٰ حبہ “ کی ضمیر کے مرجع میں دو قول ہیں : یعنی اللہ کی محبت میں کھانا کھلانا یا اپنے نفس کی خواہش کے باوجود کھانا کھلایا

اس آیت میں فرمایا ہے :” علی حبہ “ اس کی دو تفسیریں ہیں، ایک یہ کہ ” حبہ “ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے، فضیل بن عیاض نے کہا : وہ اللہ سے محبت کی وجہ سے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں، الدارنی نے بھی اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔

دوسری تفسیر یہ ہے کہ ” حبہ “ کی ضمیر طعام کی طرف راجع ہے یعنی اس کے باوجود کہ اس شخص کو طعام کی خواہش ہو اور اسے کھانے کی ضرورت ہو، پھر بھی وہ مسکین، یتیم اور قیدی کی ضرورت کو اپنی محبت اور خواہش پر ترجیح دے اور ایثار کرے، جیسا کہ ان آیات میں ہے :

وَاٰتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَاب (البقرہ : ١٧٧)

نیک وہ شخص ہے جو مال سے اپنی محبت کے باوجود وہ مال رشتہ داروں کو یتیموں کو، مسکینوں کو، مسافروں کو، سوال کرنے والوں اور غلاموں کو ان کے آزاد کرنے کے لیے دے

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران : ٩٢)

تم اس وقت تک نیکی کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔

اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تحسین فرمائی ہے جو ایثار کرتے ہیں اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں، سو فرمایا :

وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ(الحشر : ٩)

اور وہ اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ ان کو خود بھی شدید خواہش ہو۔

اپنے پر دوسروں کو ترجیح دینے کی آیات اور احادیث کا محمل اور ایثار کا معیار

ان آیات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان اپنے کھانے، کپڑے، دوائوں کے لیے کچھ نہ رکھے اور نہ اپنے ماں باپ اور اہل و اعیال کے لیے کچھ رکھے اور دوسرے ضرورت مندوں میں اپنا مال تقسیم کرتا پھر خواہ وہ خود، اس کے ماں باپ اور اہل و عیال فاقوں سے مرتے رہیں کیونکہ یہ ضروری ہے کہ ایک موضوع پر قرآن مجید اور احادیث کی تمام تصریحات کو سامنے رکھے کر کوئی حکم نکالا جاتا ہے، ان آیات میں اپنی پسندیدہ چیزوں کو صدقہ کرنے کی فضلیت ہے اور ایثار کا بیان ہے، لیکن دوسری آیت میں فرمایا ہے :

وَیَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلِ الْعَفْوَ (البقرہ : ٢١٩)

لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کتنا خرچ کریں ؟ آپ کہیے کہ جو ( تمہاری ضرورت سے) زیادہ ہو۔

اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : سب سے پہلے اپنے نفس سے ابتداء کرو اور اس پر صدقہ کرو، پھر اگر اس سے کچھ بچ جائے تو اپنے اہل کو دو ، پھر اہل کو دینے سے کچھ بچ جائے تو اپنے رشتہ داروں کو دو ، پھر اگر ان کو دینے سے بچ جائے تو تمہارے سامنے اور دائیں بائیں جو لوگ ہیں ان کو دو ۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٧، سنن نسائی رقم الحدیث : ٢٥٤٦ )

اس لیے الدھر : ٧ کا محمل یہ ہے کہ اپنی، اپنے ماں باپ کی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات سے جو مال زائد ہو یا جو طعام زائد ہو اور تمہیں اس مال اور طعام کی شدید خواہش بھی ہو تو تم اس میں سے مسکین، یتیم اور قیدی کو کھلائو، اس کی مزید وضاحت اس حدیث ہوتی ہے :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی :

لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ (آل عمران : ٩٢)

تم اس وقت تک نیکی کو حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیزوں میں سے خرچ نہ کرو۔

تو حضرت ابو طلحہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے :” لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ “ (آل عمران : ٩٢) اور میرا سب سے زیادہ پسندیدہ مال بیر حاء کا باغ ہے اور یہ اللہ کے لیے صدقہ ہے، میں اللہ کے پاس اس نیکی کے ذخیرہ ہونے کی توقع کرتا ہوں، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ اس باغ کو جہاں چاہیں خرچ کریں، آپ نے فرمایا : رہنے دو ، یہ نفع آور مال ہے، یہ نفع آور مال ہے ( دوبارہ فرمایا) تم نے اس کے متعلق جو کہا ہے وہ میں نے سن لیا اور میرا مشورہ یہ ہے کہ تم اس کو اپنے قرابت داروں میں تقسیم کردو، پھر حضرت ابو طلحہ نے اس باغ کو اپنے قرابت داروں میں اور اپنے عم زاد میں تقسیم کردیا۔ ( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٤٦١، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٩٨، سنن ابودائود رقم الحدیث : ١٦٨٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٦٠٢، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٠٦٦

” مسکین “ اور ” یتیم “ کا معنی

اس آیت میں ” مسکین “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : جو خود کمانے پر قادر نہ ہو، ایک قول یہ ہے کہ جس کے پسا بالکل مال نہ ہو وہ مسکین ہے، قرآن مجید میں ہے :

اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۔ یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ ۔ اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ۔ (البلد : ١٤۔ ١٦)

یا بھوک والے دن کھانا کھلایا۔ کسی رشتہ دار یتیم کو۔ یا کسی خاک پر پڑے ہوئے مسکین کو۔

اور اس آیت میں ” یتیم “ کا لفظ ہے، یتیم اس بچہ کو کہتے جس کا باپ اس کے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہوچکا ہو، ہر وہ چیز جو یکتا اور منفرد ہو، اس کو بھی یتیم کہتے ہیں، جو موتی سیپی میں اکیلا ہو اس کو در یتیم کہتے ہیں۔ ( المفردات ج ٢ ص ٧١٥) امام رازی نے کہا : جو اپنی کم عمری کی وجہ سے کمانے کے قابل نہ ہو اور اس کا کمانے والا فوت ہوچکا ہو، اس کو یتیم کہتے ہیں۔

اسیر کے معنی اور مصداق میں مفسرین کے متعدد اقوال اور مسلمان قیدیوں اور مشرک قیدیوں کو کھانا کھلانے اور ان پر صدقہ کرنے کے احکام

اور اس آیت میں ” اسیر “ ( قیدی) کا لفظ ہے، اس کے معنی اور مصداق میں متعدد اقوال ہیں :

(١) حضرت ابن عباس (رض) ، حسن بصری اور قتادہ نے کہا : اسیر مشرکین میں سے ہوتا ہے، روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرک قیدیوں کو بھیجتے تاکہ ان کی حفاظت کی جائے اور ان کے حق کو قائم رکھا جائے کیونکہ اس وقت تک ان کو کھانا کھلانا واجب ہے، حتیٰ کہ امام ان کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ ان کو قتل کیا جائے گا اور ان سے فدیہ لے کر ان کو آزاد کردیا جائے گا یا ان کو غلام بنایا جائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قیدی کافر ہو یا مسلمان ہو، کیونکہ جب اس کے کفر کے باوجود اس کو کھانا کھلانا واجب ہے تو اگر وہ مسلمان ہوگا تو بہ طریق اولیٰ اس کو کھانا کھلانا واجب ہوگا۔ اگر یہ کہا جائے کہ جب اس کو قتل کرنا واجب ہوگا تو اس کو کھانا کھلانا کیوں واجب ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایک حال میں اس کو قتل کرنے کا وجوب، دوسرے حال میں اس کو کھانا کھلانے کے وجوب کے منافی نہیں ہے اور یہ واجب نہیں ہے کہ جب اس کو ایک وجہ سے سزا دی جائے تو اس کو دوسری وجہ سے بھی سزا دی جائے، یہی وجہ ہے کہ جس شخص پر قصاص لازم ہو اور اس پر قتل سے کم سزا بھی ہو تو اس کو قتل سے کم سزا دینا مستحسن نہیں ہے، پھر یہ سوال ہے کہ قیدی کو کھانا کھلانا کس پر واجب ہے ؟ تو ہم کہتے ہیں کہ سربراہ مملکت پر واجب ہے کہ اس کو کھانا کھلائے اور اگر وہ نہ کھلائے تو پھر ہم عام مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کو کھانا کھلائیں۔

(٢) السدی نے کہا : اسیر سے مراد غلام ہے۔

(٣) اسیر سے مراد مقروض ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا مقروض تمہارا قیدی ہے، سو تم اپنے مقروض کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ ( الکشاف ج ٤ ص ٦٦٩ )

(٤) اسیر سے مراد وہ مسلمان ہے جس کو کسی جرم کی وجہ سے قید میں رکھا گیا ہو، یہ مجاہد، عطاء اور سعید بن جبیر کا قول ہے، حضرت ابو سعید خدری نے اس سلسلہ میں ایک حدیث مرفوع بھی روایت کی ہے۔

(٥) اسیر سے مراد بیوی ہے کیونکہ وہ بھی خاوند کی قید میں ہوتی ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ وہ تمہاری مددگار ہیں۔ ( مشکل الآثار ج ٢ ص ٢١٢، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٦٣ )

قفال نے کہا ہے۔ کہ ” اسیر “ کا لفظ ان تمام معانی کا متحمل ہے کیونکہ ” اسیر “ کا معنی ہے : کسی کو تسمہ کے ساتھ باندھنا اور اسیر کو بند کرنے کے لیے تسمہ کے ساتھ باندھا جاتا ہے، پھر اسیر کو قیدی کے معنی میں استعمال کیا جانے لگا، خاہ اس کو باندھ دیا جائے اور نہ اور اس کا رجوع اس کی طرف ہوگیا، جس کو بند کیا گیا ہو اور قید میں رکھا گیا ہو۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٤٨، داراحیاء التراث العربی، بروت، ١٤١٥ ھ)

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :

امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں ” اسیر “ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں قیدی صرف مشرکین ہوتے تھے۔

امام سعید بن منصور، امام ابن شبہ اور امام ابن مردویہ نے حسن بصری سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی، اس وقت قیدی صرف مشرکین تھے۔ ( مصنف ابن ابی شبہ رقم الحدیث : ١٠٤٠٨، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٦ ھ)

امام عبد بن حمید نے قتادہ سے اس آیت کی تفسیر میں روایت کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اور اس وقت قیدی مشرکین تھے، پس اللہ کی قسم ! تمہارے مسلمان بھائی کا تم پر حق اور اس کی حرمت بہت زیادہ ہے۔

امام ابن المنذر نے اس آیت کی تفسیر میں ابن جریح سے روایت کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمان کو قید نہیں کرتے تھے، لیکن یہ آیت ان قیدیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے جو مشرکین تھے، ان سے فدیہ لینے کے لیے انہیں گرفتار کیا جاتات ھا، سو یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی اصلاح کرنے کا حکم دیتے تھے۔

امام عبد بن حمید نے مکرمہ سے ” اسیر “ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ عرب ہند اور دیگر علاقوں سے جن کو گرفتار کریں، تم پر لازم ہے کہ تم ان کو کھلائو اور پلائو حتیٰ کہ تم ان کو قتل کردو یا ان سے فدیہ لے کر ان کو آزاد کردو۔

امام ابو شیبہ نے ابو رزین سے روایت کیا ہے کہ میں شقیق بن سلمہ کے ساتھ تھا، ان کے پاس سے کچھ مشرکین قیدی گزرے انہوں نے مجھے ان پر صدقہ کرنے کا حکم دیا اور پھر اس آیت کو تلاوت کیا۔

( مصنف ابن ابی شبہ رقم الحدیث : ١٠٤٠١، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٦ ھ)

امام ابن شیبہ نے سعید بن جبیر اور عطاء سے روات کیا ہے کہ یہ آیت اہل قبل وغیرہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔

(مصنف ابن ابی شیبہ : ١٠٤٠٥، الدرالمنثور ج ٨ ص ٣٤٣۔ ٣٤٢، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ایک قول یہ ہے کہ خواہ کوئی بھی اسیر ہو، کیونکہ حسن بصری سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی اسیر لایا جاتاتو آپ اس کو کسی مسلمان کے سپرد کردیتے اور فرماتے : اس کے ساتھ نیک سلوک کرو، اس کے پاس وہ قیدی دو یا تین دن رہتا تو وہ اس کو اپنے نفس پر ترجیح دیتا، قتادہ نے کہا : ان دونوں قیدی مشرک ہوتا تھا تو تمہارا مسلمان بھائی اس کا زیادہ مستحق ہے کہ تم اس کو کھانا کھلائو۔

امام ابن عساکر نے مجاہد سے روایت ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر میں قدیوں کو گرفتار کیا تو سات مہاجرین نے ان قیدیوں پر خرچ کیا : حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت علی، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمان، حضرت سعد، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح، انصار نے کہا : ہم نے ان مشرکین کو اللہ کی رضا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رضا کے لیے قتل کیا ہے اور تم ان پر خرچ کر کے ان کی مدد کر رہے ہو، تب اللہ تعالیٰ نے ان مہاجرین کے متعلق ١٩ آیات نازل کیں، ” ان الابرار یشربون “ سے لے کہا ” عینا فیھا تسمی سلسبلا “ تک اور ان آیات میں یہ دلیل ہے کہ قیدی خواہ مشرک ہوں ان کو کھانا کھلانا مستحسن ہے اور اس میں ثواب کی توقع ہے۔

پہلی حدیث (حضور قیدی کو کسی مسلمان کے حوالے کردیتے تھے) حافظ ابن حجر نے اس کے متعلق کہا ہے کہ کسی قابل ذکر محدث نے اس کی روایت نہیں کیا اور ابن العراقی نے کہا : میں اس سے واقف نہیں ہوں، اور دوسری حدیث کو امام ابن عساکر کے سوا اور کسی نے روایت نہیں کیا اور مجھے اس کی صحت پر اعتماد نہیں ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ یہ آیات مدینہ ہوں اور تم کو معلوم ہوچکا ہے کہ اس میں اختلاف ہے۔

ہاں عامۃ العلماء کے نزدیک دارالاسلام میں کفار کے ساتھ نیک سلوک کرنا جائز ہے اور ان پر صدقات واجبہ کو صرف نہیں کیا جائے گا، ابن جبیر اور عطاء نے کہا ہے کہ اس اسیر سے مراد وہ ہے جو اہل قبلہ سے ہو، علامہ طیبی نے کہا : اس قول کا محمل یہ ہے کہ جب دارالحرب میں کوئی مسلمان کفار کی قید میں ہو تو اس کو کھانا کھلانا مستحسن ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس اسیر سے مراد وہ مسلمان ہے جو دارالحرب میں کفار کی قید میں ہو اور اس کو آزاد کرانے کے لیے فدیہ کی ضرورت ہو، اور وہ فدیہ کو طلب کرنے کے لیے نکلے، محی السنۃ نے مجاہد، ابن جبیر اور عطاء سے نقل کیا ہے کہ اس اسیر سے وہ مراد ہے جو اہل قبلہ سے ہو، اور اس میں یہ دلیل ہے کہ مسلمان قیدیوں کو کھانا کھلانا مستحسن ہے اور اس پر یہ اعتراض ہے کہ جو مسلمان مال دار ہو اور اس پر کسی کا قرض ہو جس کو ادا کرنے پر وہ قادر ہو اور وہ عناداً قرض ادا نہ کرتا ہو یا کسی اور نفسیاتی غرض سے اور اس وجہ سے اس کو قید کرلیا گیا ہو تو اس کو کھانا کھلانا مستحسن نہیں ہے، حضرت ابی سعید خدری (رض) نے کہا : اس اسیر سے مراد غلام ہے کیونکہ وہ بھی مالک کی قید میں ہوتا ہے اور وہ اپنی خواہش سے کوئی کام نہیں کرسکتا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مقروض بھی تمہارا قیدی ہے، اس لیے اس آیت میں اسیر سے مراد مقروض بھی ہوسکتا ہے۔ ( روح المعانی جز ٢٩ ص ٢٦٨۔ ٢٦٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 8