أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يُوۡفُوۡنَ بِالنَّذۡرِ وَيَخَافُوۡنَ يَوۡمًا كَانَ شَرُّهٗ مُسۡتَطِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

وہ نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کا شر پھیلا ہوا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن ڈرتے ہیں جس کا شر پھیلا ہوا ہے۔ وہ اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ( ابرار کہتے ہیں :) ہم تم کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کھلاتے ہیں، ہم تم سے اس کے عوض نہ کوئی صلہ چاہتے ہیں نہ ستائش۔ بیشک ہم اپنے رب سے اس دن کا خوف رکھتے ہیں جو بےحد ترش اور بہت سخت ہے۔ ( الدھر : ١٠۔ ٧)

” نذر “ کا لغوی اور اصطلاحی معنی اور نذر کے شرعی احکام

” نذر “ کا لغوی معنی ہے : وعدہ کرنا اور اس کا شرعی ہے : بندہ اللہ تعالیٰ سے کسی عبادت کے کرنے کا وعدہ کرے، خواہ مطلقاً ، جیسے کہے : اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مجھ پر اتنا صدقہ کرنا لازم ہے، خواہ معلقا ًجیسے کہے : اگر اللہ نے میرے مریض کو شفاء دے دی یا میرے گم شدہ شخص کو مجھ سے ملا دیا تو میں اس کی رضا کے لیے اپنے مال میں سے اتنا صدقہ کروں گا، یا اس کی رضا کے لئے اتنی نفل نمازیں پڑھوں گا۔

واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت غیر مشروط طور پر کرنی چاہیے اور اپنے کسی کام کی شرط لگا کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا مکروہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی معصیت میں نذر نہیں ماننی چاہیے اور اس کی عبادت کی جو نذر مانی جائے، اس کا پورا کرنا واجب ہے اور غیر اللہ کی نذر ماننا جائز نہیں ہے۔

عبادت کی نذر ماننے کی کراہت پر دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نذر نہ مانا کرو کیونکہ نذر تقدیر سے مستغنی نہیں کرتی، ( یعنی جو کام نہیں ہونا وہ نہیں ہوگا خواہ تم اس کام کے لیے نذر مانو یا نہ مانو) نذر کے ذریعہ عبادت کا حصول صرف بخیل سے ہوتا ہے۔ ( سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٣٨، مسند احمد ج ٢ ص ٢٣٥، صحیح مسلم رقم الحدیث المسلسل : ٤٢١٧)

اور معصیت کی نذر کی ممانعت کی دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کی معصیت میں نذر جائز نہیں اور اس کا کفارہ وہ ہے جو قسم کا کفارہ ہے۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث ٣٢٩٠، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٢٤، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٨٤٣، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢١٢٥، مسند احمد ج ٦ ص ٢٤٧ )

اور عبادت کی نذر کا پورا کرنا واجب ہے، اس پر دلیل یہ حدیث ہے :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی، اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ کی اطاعت کرے اور جس نے اللہ کی معصیت کی نذر مانی ہے وہ اللہ کی معصیت نہ کرے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٦٩٦، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٢٨٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٥٢٦، سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٨١٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢١٤٦، مسند احمد ج ٦ ص ٣٦)

غیر اللہ کی نذر ماننے کے عدم جواز کی دلیل یہ ہے کہ تمام فقہاء نے یہ تصریح کی ہے کہ نذر عبادت ہے اور غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے، جاہل عوام یوں نذر مانتے ہیں کہ اے اللہ کے ولی ! اگر آپ نے میرے فلاں بیمار کو تندرست کردیا یا میرے فلاں گم شدہ شخص کو مجھ سے ملا دیا تو میں آپ کے مزار پر چادر چڑھائوں گا یا بریانی کی دیگ پیش کروں گا، یہ طریقہ ناجائز ہے، اگر اولیاء اللہ سے مدد مانگنی ہو تو اس کا صحیح طریقہ یہ ہے اے اللہ کے ولی آپ اللہ سے دعا کریں کہ اللہ میرے فلاں بیمار کو تندرست کر دے، اگر آپ کی دعا سے میرا بیمار تندرست ہوگیا تو میں ایک دیگ کا صدقہ کر کے اس کا ثواب آپ کی نذر کروں گا اور آپ کو ہدیہ کروں گا اور اس دیگ کو آپ کے مزار کے فقراء کے کھانے کے لیے پیش کروں گا۔ اس طریقہ سے جب وہ اولیاء اللہ سے مدد کی درخواست کرے گا تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا اور اس درخواست میں ” نذر “ کا لفظ ہدیہ اور تحفہ کے معنی ہے۔

ہم نے نذر کے موضوع پر مفصل گفتگو الحج : ٢٩ میں کی ہے، تبیان القرآن ج ٧ ص ٧٤٥۔ ٧٤٠ میں مطالعہ فرمائیں۔

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے ابرار ( نیک بندوں) کے اخروی اجر وثواب کا بیان فرمایا تھا اور اس آیت میں یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ نیک اعمال کون سے ہیں جن کی وجہ سے ابرار کو آخرت میں ایسا اجر وثواب ملتا ہے، سو فرمایا : وہ نذر پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کا شر پھیلا ہوا ہے۔

قیامت کے اھوال کو شر کہنے کی توجیہ اور اولیاء اللہ کا اس دن کے شر سے محفوظ رہنا

نذر پوری کرنے کے بعد یہ ذکر فرمایا ہے : وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس کا شر پھیلا ہوا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر نیک عمل اس وقت مقبول ہوتا ہے جس اس عمل سے عبادت کی نیت کی جائے، سو بتایا کہ ان کی نذر پوری کرنا اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے ہے، وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس کا شر پھیلا ہوا ہے۔ اسی پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اس کا شر تو قیامت کے دن پھیلے گا، ابھی تو نہیں پھیلا ہوا، حالانکہ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس کا شر پھیلا ہوا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ جو کام مستقبل میں یقینا ہونا ہو، اس کی تحقیق وقوع کے لیے ماضی سے تعبیر کردیتے ہیں۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ قیامت کے جس قدر دہشت ناک احوال ہیں، وہ سب اللہ تعالیٰ کے افعال ہیں اور اللہ تعالیٰ کے افعال حکمت اور صواب ہوتے ہیں، پھر ان کو شر کہنا کس طرح درست ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو اس حیثیت سے شر نہیں کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے افعال ہیں، بلکہ قیامت کے دن جن لوگوں پر وہ دہشت ناک احوال طاری ہوں گے، ان کے حق میں وہ شر ہوں گے، جس طرح امراض مہلکہ اور شدید مصائب کو شر کہا جاتا ہے، حالانکہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اولیاء اور نفوس قدسیہ کے متعلق فرمایا ہے :

لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ (الانبیائ : ١٠٣) قیامت کی بڑی دہشت بھی انہیں غم گین نہ کرسکے گی۔

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قیامت کا ہول اور اس کا خوف بہت شدید ہوگا، کیا تم نہیں دیکھتے کہ آسمان پھٹ جائیں گے اور پگھلے ہوئے تانبے کی طرح ہوجائیں گے اور ستارے جھڑ جائیں گے اور سورج اور چاند کو لپیٹ دیا جائے گا، یہ زمین دوسری زمین سے بدل جائے گی، پہاڑ دھنکی ہوئی روئی کی طرح اڑ رہے ہوں گے اور سمندروں میں آگ لگی ہوئی ہوگی اور ان چیزوں کو دیکھ کر تمام مکلفین کو ہول اور خوف ہوگا اور سب پر دہشت طاری ہوگی، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

یَوْمَ تَرَوْنَھَا تَذْھَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّآ اَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَھَا وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَا ھُمْ بِسُکٰرٰی وَلٰـکِنَّ عَذَابَ اللہ ِ شَدِیْدٌ۔ (الحج : ٢)

جس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی، اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حاملہ عورت کا حمل ساقط ہوجائے گا اور تمہیں لوگ مدہوش دکھائی دیں گے حالانکہ واقع میں وہ مدہوش نہیں ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بہت سخت ہے۔

یَوْمًا یَّجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِیْبَا۔ (المزمل : ١٧) وہ دن جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا۔

فی نفسہ اس دن کا ھول اور خوف بہت شدید ہوگا لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے اولیاء کو اس دن کے دہشت ناک احوال اور خوف سے محفوظ رکھے گا۔

دوسرا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن کا شر، فساق، فجار اور کفار میں پھیلا ہوا ہوگا اور مؤمنین اس دن کے شر سے مامون اور محفوظ ہوں گے اور اس پر قرآن مجید کی حسب ذیل آیات دلالت کرتی ہیں :

لَا یَحْزُنُہُمُ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ (الانبیا : ١٠٣) قیامت کی بڑی دہشت بھی انہیں غم گین نہ کرسکے گی۔

یٰـعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ وَلَآ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ ۔ (الزخرف : ٦٨) اے میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غم گین ہو گے۔

جنات عدن میں داخل ہوتے وقت مؤمنین کہیں گے :

الْحَمْدُ ِ اللہ ِ الَّذِیْ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَط اِنَّ رَبَّنَا لَغَفُوْرٌ شَکُوْرُ ۔ (فاطر : ٣٤)

اللہ کا ( لاکھ لاکھ) شکر ہے جس نے ہم سے غم کو دور کردیا، بیشک ہمارا رب بہت بخشنے والا اور شکر کرنے کی اچھی جزا دینے والا ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 7