اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِيۡلًا سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 23
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا عَلَيۡكَ الۡقُرۡاٰنَ تَنۡزِيۡلًا ۞
ترجمہ:
بیشک ہم نے آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن نازل فرمایا ہے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک ہم نے آپ پر تھوڑا تھوڑا کرز کے قرآن نازل فرمایا ہے۔ آپ اپنے رب کے فیصلہ پر صبر کیجئے اور آپ ان میں سے کسی کی اطاعت نہ کریں خواہ وہ گناہ کار ہو یا نا شکرا۔ ( الدھر :23-24
ربط آیات اور تھوڑا تھوڑا قرآن مجید نازل کرنے کی حکمت
اس سورت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ انسان حارث ہے، پہلے وہ موجود نہ تھا پھر اللہ تعالیٰ اس کو عدم سے وجود میں لایا :
ھَلْ اَتٰی عَلَی الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئًا مَّذْکُوْرًا۔ (الانسان : ١)
یقینا انسان پر ایک ایسا وقت آچکا ہے، جب وہ قابل ذکر چیز نہ تھا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اس نے انسان کو مختلط نطفہ سے پیدا کیا، پھر فرمایا ” نبتلیہ “ ( الانسان : ٢) ہم اس کو آزماتے ہیں، سو ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنادیا، پھر ہم نے اس کو سیدھا راستہ دکھا دیا، پھر بتایا کہ انسان اپنے اختیار سے فرقوں میں بٹ گئے، ان میں سے بعض سکر گزار تھے اور بعض ناشکرے، پھر اختصار کے ساتھ کفار کے عذاب کو بیان فرمایا اور اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ابرار اور اطاعت کرنے والوں کے اجر وثواب کو بیان فرمایا اور اخیر میں فرمایا :” وکان سعیکم متکورا۔ “ ( الانسان : ٢٢) یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کوششیں بار آور ہوئیں، پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے احوال دنیا بیان فرمائے اور اطاعت کرنے والوں کے احوال کو نافرمانی کرنے والوں کے احوال پر مقدم رکھا، اطاعت کرنے والوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور آپ کی امت ہے، سوا الانسان : ٢٣ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرکے فرمایا :
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ تَنْزِیْلاً ۔ (الانسان : ٢٣) بیشک ہم نے آپ پر تھوڑا تھوڑا کر کے قرآن نازل فرمایا ہے۔
اس آیت سے مقصود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل کو مضبوط کرنا ہے اور آپ کو تسلی دینا ہے، کیونکہ قریش مکہ آپ پر تہمت لگاتے تھے کہ آپ جو کلام پیش کرتے ہیں وہ کہانت اور جادو ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے رد میں فرمایا کہ یہ اللہ کا نازل کیا ہوا کلام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کلام کو تھوڑا تھوڑا کر کے جو نازل فرمایا ہے، اس میں بھی حکمت بالغہ ہے کہ جس وقت کے لیے جو حکم مقرر ہے اس وقت میں وہ حکم دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ کفار سے قتال کا حکم ہجرت کے بعد دیا گیا اور ہجرت سے پہلے کفار کی ایذاء کے مقابلہ میں آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا
تبیان القرآن سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 23