أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ هٰذَا كَانَ لَـكُمۡ جَزَآءً وَّكَانَ سَعۡيُكُمۡ مَّشۡكُوۡرًا  ۞

ترجمہ:

( کہا جائے گا) یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کوششیں بار آور ہوئیں  ؏

الدھر : 22 میں فرمایا : ( کہا جائے گا :) یہ ہے تمہاری جزاء اور تمہاری کوششیں بارآورہوئیں۔

ابرار کا جنت میں کلمات تحسین سے استقبال

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوجائیں گے اور جنت کی نعمتوں کا مشاہدہ لیں گے، اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہ تمام نعمتیں تمہارے لیے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے لیے تمہارے واسطے تیار کیا تھا، باوجود اس کے کہ تمہارے اعمال کم تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کو تمہارے اعمال کی جزاء میں تیار فرمایا ہے، اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کی زبان سے یہ کہلوائے گا کہ وہ اہل جنت سے کہیں :

سَـلٰـمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔ (الرعد : ٢٤ )

تم پر سلام ہو تم نے جو صبر کیا تھا آخرت کا یہ گھر اس کی کیسی اچھی جزا ہے۔

کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ہَنِٓیْئًام بِمَآ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ الْخَالِیَۃِ ۔ (الحاقہ : ٢٤ )

جو اعمال تم نے گزشتہ زمانہ میں کیے تھے ان کے بدلہ میں خوشی سے کھانا پینا تمہیں مبارک ہو۔

اہل جنت سے فرشتوں کے اس کلام سے مقصود یہ تھا کہ اہل جنت کو مزید خوش اور مسرور کیا جائے کیونکہ جب مجرم کی سزا دی جاتی ہے تو اس کو بتایا جاتا ہے : یہ تیری بد اعمالیوں کا نتیجہ ہے تاکہ اس کے غم اور افسوس میں اور اضافہ ہو، اسی طرح ابرار اور نیک لوگوں کو انعامات دے کر یہ بتایا جائے گا کہ یہ تمہاری اطاعت اور عبادات کا صلہ ہے تاکہ ان کی مسرت اور شادمانی میں اور زیادتی ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو یعنی میرے علم میں تمہارے لیے یہ انعامات مقدر تھے، اسی لیے میں نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے یہ انعامات تیار کیے۔

بندوں کی نیکیوں کے مشور ہونے اور اللہ تعالیٰ کے شاکرہونے کی توجیہ

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : تمہاری سعی ( نیک اعمال) مشکور ہیں، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابرار اور نیک بندوں کے نیک اعمال پر ان کا شکر ادا کیا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ کے لائق یہ ہے کہ بندے اس کا شکر ادا کریں، نہ کہ اللہ تعالیٰ بندوں کا شکر ادا کرے۔ اس سوال کے حسب ذیل جوابات ہیں :

(١) شکر کرنے کا معنی یہ ہے کہ مشکور کی حمد وثناء اور تعریف اور تحسین کی جائے، آخرت میں اللہ تعالیٰ بندوں کے نیک اعمال کی تحسین فرمائے گا اور بتائے گا کہ ان نیک اعمال کی وجہ ہی سے ان کو جنت میں ان بلند مقامات پر رکھا گیا ہے اور ان کو یہ انعامات دیئے گئے اور یہی ان کے نیک اعمال کا مشکور ہونا ہے۔

(٢) اللہ تعالیٰ کے شکر کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ بندوں کے نیک اعمال کو قبول فرماتا ہے، ان کے نیک اعمال کی اچھی جزا عطاء فرماتا ہے اور ان کے نیک اعمال کی قدر دانی اور قدر افزائی فرماتا ہے۔

(٣) جو شخص تھوڑی سی چیز سے راضی ہوجائے اس کو شکور کہا جاتا ہے یعنی وہ بہت زیادہ شکر ادا کرنے والا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تھوڑی سی عبادت سے راضی ہوجاتا ہے اور ان کی کم عبادت پر ان کو بہت زیادہ اجر عطاء فرماتا ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَاِنَّ اللہ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ۔ (البقرہ : ١٥٨ )

جس نے خوشی سے کوئی نیکی کی تو بیشک اللہ ( اس کا) قدر دان بہت جاننے والا ہے۔

(٤) بندے کے اللہ سے قرب کا آخری درجہ یہ ہے کہ وہ اللہ سے راضی بھی ہو اور مرضی بھی ہو یعنی اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوجائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

یٰٓـاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ (الفجر : ٢٧۔ ٢٨ )

اے مطمئن روح !۔ تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ جا کہ تو اس سے راضی ہو، وہ تجھ سے راضی ہو۔

سو جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ ( انعامات) تمہاری جزاء میں تو یہ بندے کے راضی ہونے کی طرف اشارہ ہے اور جب فرمایا : تمہاری سعی مشکور ہے یعنی تمہاری اطاعات اور عبادات کی تحسین کی گئی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے راضی ہونے کی طرف اشارہ ہے، امام رازی نے فرمایا : یہ بندے کے قرب کا آخری درجہ ہے تو ابرار کے ثواب کے ذکر میں اس کو سب سے آخر میں ہی ذکر کرنا مناسب تھا، اس لیے ابرار کے ثواب کے بیان کے آخر میں فرمایا : یہ ہے تمہاری جزاء اور تمہاری کوششیں بار آور ہوئیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 22