أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ هٰٓؤُلَاۤءِ يُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَةَ وَيَذَرُوۡنَ وَرَآءَهُمۡ يَوۡمًا ثَقِيۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک یہ لوگ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہیں اور بھاری دن (قیامت) اپنے پس پشت ڈال دیتے ہیں۔

قیامت کے دن کو پس پشت ڈالنے اور اس دن کے بھاری ہونے کی توجیہ

الدھر : ۲۷ میں فرمایا : بیشک یہ لوگ جلد ملنے والی چیز سے محبت کرتے ہیں اور بھاری دن اپنے پس پشت ڈال دیتے ہیں۔

اس سے پہلی آیتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب تھا اور مؤمنین کے لیے ہدایت تھی اور اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کافروں کے متعلق بتایا ہے کہ یہ کفار کفر پر ڈٹے رہنے کو پسند کرتے ہیں کیونکہ ان کی ناجائز نفسانی خواہشیں کفر پر قائم رہنے سے ہی پوری ہوتی ہیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو توحید اور رسالت کی جو دعوت دی ہے اور اسلام کے احکام پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے، اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور جن چیزوں پر ایمان اور عمل ان کو آخرت کے عذاب سے نجات دے اس سے اعراض کرتے ہیں، رہا یہ کہ ان کے متعلق فرمایا : وہ بھاری دن یعنی قیامت کے دن کو پس پشت ڈال دیتے ہیں، اس کی کیا توجیہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے قیامت کے دن کے محاسبہ اور اس دن کے عذاب سے بچنے کی کوئی تیاری نہیں کی بلکہ اس کے لئے کوئی کوشش نہیں کی تو گویا انہوں نے قیامت کے دن کے عذاب کی وعید پس پشت ڈال دیا اور قیامت کے دن کو بھاری دن فرمانے کی توجیہ یہ ہے کہ چونکہ اس دن بہت سخت ہولناک امور پیش آئیں گے تو گویا وہ بہت بھاری دن ہوگا یعنی اس کی ہولناکیاں کفار اور فساق پر بہت بھاری ہوں گی۔

القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 27