أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاصۡبِرۡ لِحُكۡمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعۡ مِنۡهُمۡ اٰثِمًا اَوۡ كَفُوۡرًا‌ۚ‏ ۞

ترجمہ:

آپ اپنے رب کے فیصلہ پر صبر کیجئے اور آپ ان میں سے کسی کی اطاعت نہ کریں خواہ وہ گناہ گار ہو یا شکرا۔

الدھر : ٢٤ میں فرمایا : آپ اپنے رب کے فیصلہ پر صبر کیجئے اور آپ ان میں سے کسی کی اطاعت نہ کریں خواہ وہ گناہ گار ہو یا نا شکرا۔

کفار کا آپ کا لالچ دے کر اور دھمکا کر تبلیغ اسلام سے روکنا اور آپ کی استقامت

امام مقاتل بن سلیمان بلخی متوفی ١٥٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

آپ صبر کیجئے حتیٰ کہ آپ کے اور اہل مکہ کے درمیان اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماے دے، اور جب یہ آپ کو برا کہیں تو آپ جواب میں ان کو برا نہ کہیں اور جب یہ آپ کو ایذاء پہنچائیں تو آپ جواب میں ان کو ایذاء نہ پہنچائیں۔

اور فرمایا : آپ ان میں سے کسی کی اطاعت نہ کریں، اس سے مراد ولید بن مغیرہ ہے، وہ گناہ گار ہو یا نا شکرا، ناشکرے سے مراد عتبہ بن ربیعہ ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ کفار دارالندوۃ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، ان میں عمروبن عمیر بن مسعود الثقفی بھی تھا، انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ بتائو کہ تم نے اپنے باپ دادا کا دین کیوں چھوڑ دیا ؟ ولید بن مغیرہ نے کہا : اگر تم مال کے طلب گار ہو تو میں تمہیں اپنا آدھا مال دے دیتا ہوں۔ شرطی کہ تم اپنے دین کا پیغام سنانا چھوڑ دو ، اور ابو النجتری بن ہشام نے کہا : لات اور غزیٰ کی قسم ! اگر یہ اپنے دین سے پھرگئے تو میں اپنی بیٹی کی ان کے ساتھ شادی کردوں گا۔ وہ عرب کی تمام عورتوں سے زیادہ حسین و جمیل ہے اور وہ گفتگو میں بھی سب سے زیادہ فصیح وبلیغ ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی یہ باتیں سن کر خاموش رہے اور آپ نے ان کو کوئی جواب نہیں ڈیا، پھر ابن مسعود ثقفی نے کہا : کیا بات ہے تم ہمیں جواب کیوں نہیں دیتے ؟ ، اگر تمہیں اپنے رب کے عذاب کا خوف ہے تو میں تم کو اس عذاب سے پناہ میں رکھوں گا، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ سن کر ہنسی آگئی، پھر آپ نے اپنے کپڑے سمیٹے اور وہاں سے اٹھ کر چل دیئے اور تب یہ آیت نازل ہوئی : آپ ان میں سے کسی کی اطاعت نہ کریں خواہ وہ گناہ گار ہو یا نا شکرا، یعنی ولید بن مغیرہ اور ابو البختری کی اطاعت نہ کریں۔ (تفسیر مقاتل بن سلیمان ج ٣ ص ٤٣٣۔ ٤٣٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٤ ھ)

امام عبد الرزاق بن ھمام صنعانی متوفی ٢١١ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

قتادہ کہتے ہیں : ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ ابو جہل نے یہ کہا تھا : اگر میں نے ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان کی گردن کو اپنے پیروں سے روندوں گا۔

( تفسیر القرآن العزیزرقم الحدیث : ٣٤٤٢، دارالمعرفہ، بیروت، ١٤١١، جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٧٩٧)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے آپ پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے آزمائش اور امتحان کے لیے نازل کیا ہے، سو آپ اپنی رسالت کی تبلیغ اور اپنے رب کے نازل کردہ فرائض کے امتحان اور آزمائش میں صبر کیجئے اور جن کاموں کا آپ کو حکم دیا ہے، ان پر عمل کرتے رہیے اور ان کافروں میں سے کسی کی اطاعت نہ کریں خواہ وہ گناہ گارہوں یا نا شکرے، اس ارشاد کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معصیت اور نافرمانی میں اپنی قوم کے گناہ گار مشرکوں کی اطاعت نہ کریں جو آپ معصیت پر سوار کرنا چاہتے ہیں اور نہ شکروں کی بات مانیں جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں پر اس کا شکر ادا نہیں کرتے اور بتوں کی تعظیم کرتے ہیں۔ ( جامع البیان جز ٢٩ ص ٢٧٧، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

آپ کو کفار کی اطاعت سے منع کرنے کے متعلق امام رازی کی توجیہ

امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت پر یہ سوال ہوتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کافروں میں سے کسی کی اطاعت نہیں کرتے تھے، پھر اس ممانعت کا کیا فائدہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لوگ ہدایت، ارشاد اور متنبہ ہونے کے محتاج ہیں کیونکہ لوگوں کی طبیعتوں میں شہوات اور ناجائز خواہشیں ہیں جو ان کو فتنہ اور فساد پر ابھارتی ہیں، اور اگر لوگوں میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اس کی توفیق سے مستغنی ہوتا تو لوگوں میں اس کے سب سے زیادہ مستحق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے جو معصوم ہیں اور جب آپ بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اس کی توفیق سے مستغنی نہیں ہیں تو ہر مسلمان پر یہ منکشف ہوجائے گا کہ وہ ناجائز خواہشوں اور شہات باطلہ اور تمام معاصی سے بچنے اور باز رہنے میں اللہ تعالیٰ کی ہدایت اور اس کی توفیق کا محتاج ہے، سو وہ اسی کی طرف راغب ہو اور اسی سے گڑ گڑا کر دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اسے برے کاموں سے بچائے اور نیک کاموں پر لگائے رکھے۔

( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٥٨، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)

امام رازی کے علاوہ اور کوئی قابل ذکر مفسر اس آیت کی تفسیر میں اس سوال کی طرف متوجہ ہوا اور نہ اس کا جواب ذکر کیا، البتہ علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣١ ھ نے امام رازی ہی کی مذکور الصدر تفسیر کو اپنی عبارت میں نقل کردیا ہے۔

(روح البیان ج ١٠ ص ٣٢٧، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)

آپ کو کفار کی اطاعت سے منع کرنے کے متعلق مصنف کی توجیہ

ہماری رائے یہ ہے کہ امام رازی نے جو اس سوال کا جواب ذکر کیا ہے، اس کی متانت اور اس کے حسن اور خوبی اور اس کی گہرائی اور گیرائی کا کوئی ثانی نہیں ہے، تاہم مصنف کے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں خطاب بہ ظاہر آپ سے ہے لیکن حقیقت میں اس سے مراد آپ کی امت ہے اور اس آیت میں صنعت تعریض ہے، فرمایا آپ سے ہے اور سنایا آپ کی امت کو ہے یعنی اے مسلمانو ! جب تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی گناہ گاروں اور نا شکروں کی اطاعت سے منع کیا ہے تو سوچو کہ تمہارے لیے یہ ممانعت کس قدر سخت اور قوی ہے اور اس آیت میں خطاب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی مراد نہیں ہے، اس پر دلیل یہ ہے کہ اس شخص کو کسی کام سے منع کیا جاتا ہے جس کے لیے وہ کام کرنا ممکن ہو، اور جس شخص کے لیے کوئی کام کرنا ممکن ہی نہیں ہے اس کو اس کام سے منع نہیں کیا جاتا مثلاً گونگے سے یہ نہیں کہا جاتا کہ تم فحش گفتگو نہ کرو، کیونکہ اس کے لیے گفتگو کرنا ممکن ہی نہیں ہے، اسی طریقہ پر ہم کہتے ہیں کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول معصوم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے داعی ہیں، اس وجہ سے آپ کے لیے گناہ گاروں اور نا شکروں کی اطاعت کرنا ممکن ہی نہیں ہے، اس لیے ہمارے نزدیک اس آیت میں اسناد مجاز عقلی ہے اور اس آیت میں بہ ظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا ہے، آپ گناہ گاروں اور نا شکروں کی اطاعت نہ کریں لیکن حقیقت میں یہ خطاب آپ کی امت سے ہے کہ وہ گناہوں اور ناشکروں کی اطاعت نہ کریں کیونکہ آپ کے لیے تو ان کی اطاعت کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ ہمارے جواب کو مزید تفصیل سے سمجھنے کے لیے ” ولا تمنن تستکیر “ المدثر : ٦) کا مطالعہ کریں۔

آپ کو کفار کی اطاعت سے منع کرنے کے متعلق سید مودودی کی تقریر

سید ابو الاعلیٰ مودودی متوفی ١٣٩٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں اللہ تعالیٰ کی ترجمانی کرتے ہوئے اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

یعنی ان میں سے کسی سے دب کر دین حق کی تبلیغ سے باز نہ آئو، اور کسی بد عمل کی خاطر دین کی اخلاقی تعلیمات میں، یا کسی منکر حق کی خاطر دین کے عقائد میں ذرہ برابر بھی ترمیم و تغیر کرنے کے لیے تیار نہ ہو، جو کچھ حرام و ناجائز ہے اسے بر ملا حرام و ناجائز کہو، خواہ کوئی بدکار کتنا ہی زور لگائے کہ تم اس کی مذمت میں ذرا سی نرمی ہی برت لو اور جو عقائد باطل ہیں انہیں کھلم کھلا باطل اور جو حق ہیں انہیں علانیہ حق کہو چاہے کفار تمہارا منہ بند کرنے یا اس معاملہ میں کچھ نرمی اختیار کرلینے کے لیے تم پر کتنا ہی دبائو ڈالیں۔ ( تفہیم القرآن ج ٦ ص ٢٠٢، ترجمان الرقآن، لاہور، ١٤١١ ھ)

اس عبارت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ادب اور آپ سے عقیدت کی رمق بھی نہیں ہے اور نہیں لگتا کہ یہ آپ کے کسی امتی کا کلام ہے اور کیا کسی بندے کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اللہ بن کر جو چاہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتا پھرے۔

القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 24