أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَوَقٰٮهُمُ اللّٰهُ شَرَّ ذٰلِكَ الۡيَوۡمِ وَ لَقّٰٮهُمۡ نَضۡرَةً وَّسُرُوۡرًا‌ۚ ۞

ترجمہ:

سو اللہ نے اس کو اس دن کے شر سے بچا لیا اور ان کو تر و تازگی اور فرحت عطاء فرمائی

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو اللہ نے ان کو اس دن کے شر سے بچا لیا اور ان کو تر و تازگی اور فرحت عطاء فرمائی۔ اور ان کے صبر کی جزاء میں ان کو جنت اور ریشمی لباس عطاء فرمایا۔ وہ جنت میں مسندوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے گے، وہ جنت میں نہ گرمی کی دھوپ پائیں گے اور نہ سردی کی ٹھنڈک۔ اور درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور پھلوں کے خوشے ان کے قریب کردیئے جائیں گے۔ اور ان کے لیے چاندی کے برتن اور ایسے گلاس گردش میں لائے جائیں گے جو شیشہ کی طرح شفاف ہوں گے۔ یہ شیشے کی مثل برتن چاندی کے ہوں گے ( پلانے والے) ان کو ٹھیک ٹھیک اندازے پر رکھیں گے۔ وہاں ان کو ایسے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کے چشمے کی آمیزش ہوگی۔ اس چشمہ کو جنت میں سلسبیل کہا جاتا ہے۔ اور دائمی جنتی لڑکے ان کے پاس گردش کریں گے، تم انہیں دیکھ کر یہ گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ تم وہاں جہاں بھی دیکھو گے تو سراسر نعمتیں اور عظیم سلطنت ہی دیکھو گے۔ اہل جنت کے اوپر باریک ریشم کے سبز کپڑے ہوں گے اور دبیز ریشم کے بھی اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، اور ان کا رب انہیں پاکیزہ شراب پلائے گا۔ ( کہا جائے گا :) یہ ہے کہ تمہاری جزا اور تمہاری کوشش بار آور ہوئیں۔ (الدھر : ٢٢۔ ١١)

جنت میں ابرار کو ملنے والی نعمتیں

الدھر : ١١ سے الدھر : ٢٢ تک اللہ تعالیٰ نے جنت کی وہ نعمتیں بیان کی ہیں، جو اللہ تعالیٰ نے ابرار کو آخرت میں عطاء فرمائی ہیں۔

اس سے پہلے یہ بتایا تھا کہ ابرار نے محض اللہ کی رضا کے لیے اور قیامت کے خوف سے محتاجوں اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلایا تھا اور ان پر صدقہ کیا تھا، اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ان دونوں غرضوں کو پورا کردیا، ان کو قیامت کے دن کے ہول سے بھی بچا لیا اور چونکہ ان سے راضی ہوگیا، اس لیے ان کو تروتازگی اور خوشی عطاء فرمائی، اس کی مزید تفصیل اس کے بعد کی آیات میں ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 11