أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

 

وَالۡمُرۡسَلٰتِ عُرۡفًا ۞

 

ترجمہ:

ان ہوائوں کی قسم جو مسلسل بھیجی جاتی ہیں

 

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان ہوائوں کی قسم جو مسلسل بھیجی جاتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی قسم جو بہت تیز چلتی ہیں۔ پھر ان ہوائوں کی قسم جو (بادلوں کو) پھیلاتی ہیں۔ پھر ان فرشتوں کی قسم جو حق اور باطل کو جدا کرنے والے ہیں۔ پھر ان فرشتوں کی قسم جو ( دلوں میں) ذکر ڈالنے والے ہیں۔ حجت قائم کرنے کی وجہ سے یا عذاب سے ڈرانے کی وجہ سے۔ بیشک جس ( قیامت) کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔ (المرسلات : ٧۔ ١)

جن پانچ چیزوں کی اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پانچ چیزوں کی قسم کھا کر یہ فرمایا ہے کہ جس قیامت کے واقع ہونے کا اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے وعدہ فرمایا ہے، وہ ضرور آنے والی ہے، ان پانچ چیزوں کے ناموں کا اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا، لیکن ان کی صفات کا ذکر فرمایا ہے، اور ان کے موصوف کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے، بعض نے کہا : ان کا موصوف ہوائیں ہیں، بعض نے کہا : ان کا موصوف فرشتے ہیں، بعض نے کہا : ان کا موصوف قرآن مجید ہے، بعض نے کہا : ان کا موصوف انبیاء (علیہم السلام) ہیں اور جمہور مفسرین نے یہ کہا کہ پہلی تین صفات کا موصوف ہوائیں ہیں اور بعد کی دو صفات کا موصوف فرشتے ہیں، امام ابن جریر اور حافظ ابن کثیر وغیرہم کا یہی مختار ہے اور ہم نے بھی اسی کے موافق ان آیات کا ترجمہ کیا ہے، ہم پہلے ان صفات کے معانی ذکر کریں گے، پھر ہر احتمال کے موافق ان آیات کا محمل بیان کریں۔

المرسلات : ٥۔ ١ کے الگ الگ محامل

المرسلات : ١ میں فرمایا :” والمرسلت عرفا “ ” المرسلات “ کا معنی ہے : جن کو بھیجا گیا ہو، خواہ وہ ہوائیں ہو یا فرشتے ہوں یا قرآن مجید ہو یا انبیاء (علیہم السلام) ہوں اور ” عرفا “ کے دو معنی ہیں : نیکی اور تواتر اور تسلسل۔ اب اگر اس کا معنی نیکی اور بھلائی ہو اور اس صف کا موصوف ہوائیں ہوں تو اس کا معنی ہے : جو ہوائیں نیکی اور بھلائی کے ساتھ چلتی ہیں، اور اگر اس صفت کا موصوف فرشتے ہوں تو اس کا معنی ہے : وہ فرشتے جو مسلمان کے پاس اللہ کی رحمت لے کر پہنچے، اور اگر اس کا موصوف قرآن مجید ہو تو اس کا معنی ہے : قرآن مجید جو رحمت کے ساتھ نازل کیا گیا، اور اگر اس کا موصوف انبیاء (علیہم السلام) ہوں تو وہ رحمت کے ساتھ بھیجے گئے ہیں اور وہ ” عرفا “ یعنی معروف کاموں کی تلقین اور تبلیغ کرتے ہیں۔

اور اگر ” عرفا “ کا معنی تواتر اور تسلسل ہو اور اس کا موصوف ہوائیں ہوں تو اس کا معنی ہے : وہ ہوائیں جو مسلسل چلائی جاتی ہیں اور اگر اس کا موصوف فرشتے ہوں تو اس کا معنی ہے : وہ فرشتے جن کو مسلسل بھیجا گیا اور اگر اس کا موصوف قرآن مجید ہو تو اس کا معنی ہے : قرآن مجید کی آیات جو تواتر کے ساتھ نازل کی گئیں اور اگر اس کا موصوف انبیاء (علیہم السلام) ہوں تو اس کا معنی ہے : وہ انبیاء (علیہم السلام) جو مسلسل ہدایت دینے کے لیے آتے رہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 1