وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 14
sulemansubhani نے Sunday، 29 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَدَانِيَةً عَلَيۡهِمۡ ظِلٰلُهَا وَذُلِّلَتۡ قُطُوۡفُهَا تَذۡلِيۡلًا ۞
ترجمہ:
اور درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور پھلوں کے خوشے ان کے قریب کردیئے جائیں گے۔
الدھر : ١٤ میں فرمایا : اور درختوں کے سائے ان پر جھکے ہوئے ہوں گے اور پھلوں کے خوشے ان کے قریب کردیئے جائیں گے۔
ابرار کی دو قسم کی جنتیں ملنا اور سورج اور چاند کے بغیر درختوں کے سائے کی توجیہات
پہلی آیت میں بتایا تھا کہ ابرام کو ایک جنت وہ دی جائیگی جس میں ان کو ریشمی لباس پہنایا جائے گا اور اس جنت میں ان کو گرمی اور سردی سے بھی محفوظ رکھا جائے گا اور دوسری جنت ایسی دی جائے گی جس میں درختوں کے سائے ان کے قرب کردیئے جائیں گے، کیونکہ ان ابرار نے کہا تھا کہ ہم اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ ( الدھر : ١٠) اور ہر وہ شخص جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو اللہ تعالیٰ اسے دو جنتیں عطاء فرماتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّـتٰنِ ۔ (الرحمن : ٤٦)
اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتیں ہیں۔
سو ان ابرار کو بھی دو جنتیں دی جائیں گی۔
اس جگہ ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ سایہ وہاں ہوتا ہے جہاں سورج ہو، پس جب جنت میں سورج نہیں ہوگا تو وہاں سایہ بھی نہیں ہونا چاہیے، پھر درختوں کے سائے کیسے ہوں گے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ درختوں کے سائے سے مراد یہ ہے کہ اگر وہاں سورج ہوتا تو وہاں جو سائے ہوتے ان کو اہل جنت کے قریب کردیا جائے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنت میں دوسرے اجسام نورانیہ کی روشنی ہو جس کی وجہ سے درختوں کا سایہ ہو کیونکہ جنت میں بہر حال اندھیرا تو نہیں ہوگا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ درختوں کے ساتئے سے مراد خود درخت ہوں، اور یہ بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ سورج اور چاند کے بغیر وہاں سایہ پیدا کر دے، کیونکہ انسان سائے میں بھی تلذذ حاصل کرتا ہے، جیسے جنت میں سونے اور چاندی کی کنگھیاں ہوں گی حالانکہ جنت میں بالوں کے اندر نہ میل کچیل ہوگا اور نہ بال الجھے ہوئے ہوں گے، جنہیں سنوارنے کے لیے کنگھی کرنے کی ضرورت ہو، اور جیسے پیاس کے بغیر جنت میں تلذذ کے لیے مشروب پلائے جائیں گے۔
نیز فرمایا : اور پھلوں کے خوشے ان کے قریب کردیئے جائیں گے، یعنی اگر وہ کھڑے ہوں تب بھی خوشوں سے پھل توڑ سکیں گے اور اگر اپنی مسندوں پر بیٹھے ہوں یا مسہریوں پر لیٹے ہوں تب بھی خوشوں سے پھل توڑ سکیں گے۔
القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 14