وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 30
sulemansubhani نے Sunday، 29 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَمَا تَشَآءُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ يَّشَآءَ اللّٰهُ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا ۞
ترجمہ:
اور اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے بغیر تم نہیں چاہ سکتے، بیشک اللہ بہت علم والا، بےحد حکمت والا ہے.
اور اللہ کے چاہے بغیر تم نہیں چاہ سکے۔ اس آیت میں انسان کے چاہنے اور اللہ کے چاہنے کا ذکر ہے اور یہاں جبر و قدر کی بحث چھڑ گئی۔
امام رازی کی جبریہ کی تایپد میں تقریر
امام محمد بن عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں :
واضح رہے کہ یہ آیت آن آیات میں سے ہے جس سے استدلال کرتے ہوئے جبر و قدر کے استدلال کی موجیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہیں ہیں، پس قدریہ جو کہتا ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے وہ اس سے استدلال کرتا ہے :
فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ (الدھر : ٢٩) سو جو شخص چاہے اپنے رب کے راستہ کو اختیار کرے۔
اس سے معلوم ہوا کہ بندہ کے افعال اس کے چاہنے اور اس کے اختیار پر موقوف ہیں اور یہ صریح میرا مذہب ہے، اور اس کی نظیر یہ آیت ہے :
فَمَنْ شَآئَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآئَ فَلْیَکْفُرْ (الکہف : ٢٩) سو جو شخص چاہے ایمان لائے اور جو شخص چاہے کفر کرے۔
اور جبری جو کہتا ہے کہ بندہ اپنے افعال میں مجبور ہے، وہ کہتا ہے کہ جب اس آیت کو اسکے بعد والی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو اس سے جبریہ کا مذہب واضح طور پر نکل آتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جو چاہے اپنے رب کے راستہ کو اختیار کرے، اس کا تقاضا ہے کہ بندہ کی مشیت اس وقت خالص ہوگی جب وہ فعل کو مستلزم ہے اور مستلزم کا مستلزم، مستلزم ہونا ہے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ کی مشیت بندہ کی مشیت کو مستلزم ہے اور یہی جبر ہے، اسی طرح الکہف : ٢٩ سے بھی جبر پر استدلال ہوتا ہے کیونکہ اس کا تقاضا ہے کہ مشیت فعل کو مستلزم ہوتی ہے اور اللہ کی مشیت بندہ کی مشیت کو مستلزم ہے اور مستلزم کا مستلزم، مستلزم ہوتا ہے، پس واضح ہوا کہ بندہ کا ایمان لانا یا کفر کرنا اللہ کی مشیت سے ہوتا ہے اور یہی جبر ہے۔
امام رازی فرماتے ہیں : قاضی معتزلی نے جبریہ کے استدلال کا یہ جواب دیا ہے کہ اس آیت میں اللہ کی طرف راستہ اختیار کرنے کا ذکر ہے، اور ہم مانتے ہیں کہ اللہ اس راستہ کو چاہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس راستہ کو اپنانے کا حکم دیا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ اللہ اس راستہ کو چاہے اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بہ طور عموم کہہ دیا جائے کہ بندہ اس چیز کو چاہتا ہے جس کو اللہ چاہتا ہے، کیونکہ اس خاص چیز کے متعلق مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو چاہا اور اس کا ارادہ کیا۔
امام رازی اس کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں : قاضی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ اس آیت میں اس خاص چیز کے متعلق یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو چاہا اور اس کا ارادہ فرمایا اور یہ عام قاعدہ نہیں ہے، اس لیے کہ یہ احتمال ہے کہ اس خاص صورت میں بھی اللہ تعالیٰ نے چاہا ہو اور اسی جیسی اور صورتوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے چاہاہو۔
( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٦٢۔ ٧٦١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
علامہ آلوسی کی اہل سنت کی تایید میں تقریر اور امام رازی کا رد
علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ امام رازی کی تقریر کا خلاصہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
اس آیت سے جبریہ کا مذہب ثابت نہیں ہوتا، جس میں بندہ کے اختیار کی بالکل نفی ہوجاتی ہے اور بندہ اجبور محض ہوجاتا ہے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ کا راستہ اختیار کرنے کے لیے صرف بندہ کا چاہنا کافی نہیں بلکہ ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی بندہ کے لیے اس چیز کو چاہا ہو، تاہم بندہ کا چاہنا بہ طور کسب ہے اور اللہ کا چاہنا بہ طور خلق ہے۔
ہاں، اللہ تعالیٰ نے پہلی آیت میں جو فرمایا ہے :” فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ “ (الدھر : ٢٩) سو جو شخص چاہے اپنے رب کے راستہ کو اختیار کرے، اس سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندو کا مطلقاً چاہنا فعل کا مستلزم ہوتا ہے یعنی بندہ جب بھی کسی فعل کو چاہے گا وہ اس فعل کو کرے گا، حالانکہ واقعہ اسکے خلاف ہے، کیونکہ بندہ کئی مرتبہ کسی فعل کو کرنا چاہتا ہے لیکن وہ اس فعل کو نہیں کر پاتا، اس لیے ضروری ہے کہ دوسری آیت کی تحقیق کے لیے مانا جائے یعنی ” وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ “ (الدھر : ٣٠) اور اللہ کے چاہے بغیر تم نہیں چاہ سکے۔ خلاصہ یہ ہے کہ پہلی آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بندہ کا چاہنا فعل کو مستلزم ہے اور دوسری آیت سے بہ ظاہر ہوتا ہے کہ بندہ کی چاہت اس وقت فعل کو مستلزم ہوگی جب اللہ تعالیٰ بھی بندہ کی چاہت کو چاہے گا، سو اس کو غور و فکر سے پڑھو۔
یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں عقلیں حیران ہیں اور اس میں علماء کے قدم پھسل گئے ہیں، جبریہ کا سب سے قوی شبہ یہ ہے کہ اب تک کسی چیز کا وجود واجب نہ ہو وہ موجود نہیں ہوتی، پس جب کسی فعل کی علت تامہ متحقق ہوجائے تو اس فعل کا وجود لازم اور واجب ہوگا اور اس سے اضطرار اور بندہ کا مجبور ہونا لازم آئے گا اور اگر اس فعل کا وجود لازم نہ ہو تو معلول کا اپنی علت تامہ سے تخلف لازم آئے گا اور یہ محال ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ فعل کے صدور کے لیے یہ لازم نہیں کہ اس کا وجود واجب ہو تو پھر اس کے صدور میں ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی۔
تحقیق یہ ہے کہ نہ مطلقاً معتزلہ کا قول صحیح ہے کہ بندہ اپنے افعال کا خالق ہے نہ مطلقاً جبریہ کا قول صحیح ہے کہ بندہ مجبور محض ہے بلکہ حق ان دونوں کے درمیان ہے اور بندہ کا چاہنا اور اللہ کا چاہنا دونوں امر ثابت ہیں، علامہ کو رانی نے کہا ہے کہ بندہ اپنے افعال میں مختار ہے اور اپنے اختیار میں غیر مختار ہے، یعنی بندہ جو چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اسی کو پیدا کرتا ہے لیکن وہ اپنے چاہنے میں مختار نہیں ہے، وہ اسی فعل کو چاہتا ہے جس کو اللہ چاہتا ہے اور اس کو جو ثواب اور عذاب ہوتا ہے وہ اس کی نیک صلاحیت واقعیہ کی وجہ ہے یا اس کی بد صلاحیت واقعیہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور ہر شخص اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے مطابق عمل کرتا ہے اور سبحان ہے وہ جس نے ہر چیز کی تخلیق کی، اس کو بھلائی اور برائی کا ادراک کرایا اور پھر اس کو ہدایت دی۔
(روح المعانی جز ٢٩ ص ٢٨٨۔ ٢٨٧ ملخصاً و موضحاً دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
حافظ سیوطی کی قدریہ کے رد میں اس آیت کی تقریر
حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں :
امام ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے قدریہ پر لعنت کی ہے اور پھر لعنت کی، آپ نے تین بار اس طرح فرمایا ( قدریہ اور معتزلہ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ بندہ اپنے افعال کا خود خالق ہے) قدریہ کا قول نہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق ہے نہ فرشتوں کے قول کے موافق ہے اور نہ شیطان کے قول کے موافق ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللہ (الدھر : ٣٠) تم وہی چاہتے ہو جس کو اللہ چاہتا ہے۔
فرشتوں نے کہا :
لَا عِلْمَ لَنَآ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَآ (البقرہ : ٣٢) ہمیں صرف اسی چیز کا علم ہے جس کا تو نے ہمیں علم عطاء فرمایا ہے۔
اللہ کے نبی حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا :
وَ لَا یَنْفَعُکُمْ نُصْحِیْٓ اِنْ اَرَدْتُّ اَنْ اَنْصَحَ لَـکُمْ اِنْ کَانَ اللہ ُ یُرِیْدُ اَنْ یُّغْوِیَکُمْط ھُوَ رَبُّکُمْقف وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (ھود : ٣٤)
میری نصیحت سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا خواہ میں تمہاری خیرخواہی چاہوں اگر اللہ تمہیں گم راہی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہو، وہی تمہارا رب ہے، اور تم اسی کی طرف لوٹائے جائوگے۔
اور اہل جنت نے کہا :
وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلَآ اَنْ ہَدٰنَا اللہ ُ (الاعراف : ٤٣) اگر اللہ ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہم خود سے ہدایت پانیوالے نہ نے تھے۔
اور اہل دوزخ نے کہا :
رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا (المومنو : ١٠٦) اے ہمارے رب ! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔
اور شیطان نے کہا :
رب بما اویتنی (الحجر : ٣٩) اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے گم راہ کیا ہے۔
نیز حافظ سیوطی لکھتے ہیں امام ابن مردودیہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب خطبہ دیتے تو فرماتے : ہر آنے والی چیز قریب ہے، آنے والی چیز دور نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی عجلت کی وجہ سے کسی کام کو جلدی نہیں کرتا، جو اللہ چاہتا ہے نہ کہ وہ جو لوگ چاہتے ہیں، لوگ ایک چیز کا ارادہ کرتے ہیں اور اللہ کسی اور چیز کا ارادہ کرنا ہے، جو اللہ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے خوہ لوگ ناپسند کریں، جس چیز کو اللہ قرب کر دے اس کو کوئی دور کرنے والا نہیں ہے اور جس چیز کو اللہ دور کر دے اس کو کوئی قریب کرنے والا نہیں ہے اور اللہ کے اذان کے بغیر کوئی چیز واقع نہیں ہوتی۔
(الدرالمنثور، ج ٦ ص ٣٤٩، داراحیاء التراث، العربی، بیرو ت، ١٤٢١ ھ)
قدریہ کی رد میں احادیث اور آثار
اس مؤقف کی تایید میں درج ذیل احادیث اور آثار ہیں :
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیشک ایک تمام بنو آدم کے قلوب رحمن کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان قلب واحد کی طرح ہیں، وہ اس قلب، جس طرح چاہتا ہے پھیرتا رہتم ہے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ دعا کی : اے اللہ ! دلوں کے پھیرنے والے ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے۔
( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٥٤، مسند احمد ج ٢ ص ١٦٨، قدیم، مسند احمد ج ١١ ص ١٣٠، مؤسسۃ الرسالۃ، بیرو ت، صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٩٠٢)
قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی اندلسی متوفی ٥٤٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لبیے قبر اور غلبہ اور دلوں پر تصرف کرنا اس طرح آسان ہے جس طرح کسی شخص کے لیے اس چیز پر تصرف کرنا آسان ہے جو اس کے ہاتھ میں ہو اور اس سے یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت اور مشیت کے اعتبار سے تصرف فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور اس کے تصرف میں کوئی مزاحمت نہیں کرسکتا۔
(اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ٨ ص ١٤٢، دارالوفائ، بیروت، ١٤١٩ ھ)
علامہ ابی مالکی اندلسی متوفی ٨٢٨ ھ نے بھی اس حدیث کی یہی شرح لکھی ہے :
(اکمال اکمال المعلم ج ٨ ص ٢٧، دارالکتب العلمیہ، بیرو ت، ١٤١٥ ھ)
ابن الدیلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب (رض) کے پاس جا کر کہا : میرے دل میں تقدیر کے متعلق کچھ شبہات ہیں، آپ مجھے ایسی حدیث بیان کیجئے جس سے اللہ تعالیٰ میرے دل سے ان شبہات کو زائل کر دے، حضرت ابی ابن کعب نے کہا : اگر اللہ تمام آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دے تو وہ ان کو عذاب دے گا اور یہ اس کا ظلم نہیں ہوگا اور اگر وہ ان پر رحم فرمائے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہتر ہے اور اگر تم احد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو اس کو اللہ تعالیٰ اس وقت تک قبول نہیں فرمائے گا، جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آئو اور جب تک کہ تم کہ یہ یقین نہ ہو کہ جو مصیبت تم پر آئی ہے وہ تم سے ٹل نہیں سکتی تھی اور جو مصیبت تم سے ٹل گئی وہ تم پر آ نہیں سکتی تھی اور اگر تم اس عقیدہ کے خلاف پر مرگئے تو دوزخ میں داخل ہوگئے، پھر میں حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا، پھر میں حضرت حذیفہ بن یمان (رض) کے پاس گیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کہا، پھر میں حضرت زید بن ثابت (رض) کے پاس گیا تو انہوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح حدیث روایت کی۔
(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٩٩، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٧، مسند الشامیین رقم الحدیث : ١٩٦٢، المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٥٦٤، المستدرک ج ٢ ص ٥٤٤ ھ مسند احمد ج ٥ ص ١٨٣ ١ قدیم، مسند احمد ج ٣٥ ص ٤٦٦۔ رقم الحدیث : ٢١٥٨٩، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، ١٤٢٠ ھ)
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک جنازہ میں تھے جو بقیع الغرقد میں تھا، پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آ کر بیٹھ گئے، آپ کے پاس ایک لکڑی تھی جس سے آپ زمین کریدنے لگے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھا کر فرمایا : تم میں سے ہر شخص کا ٹھکانہ لکھ دیا گیا ہے کہ اس کا ٹھکانہ دوزخ میں ہے یا جنت میں ہے اور یہ لکھ دیا گیا ہے کہ وہ شخص بدبخت ہے یا نیک بخت ہے کہ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے نبی ! پس کیوں نہ ہم اس لکھے ہوئے قناعت کرلیں اور عمل کرنا چھوڑ دیں، پس جو شخص نیک بختوں میں سے ہوگا وہ نیکوں میں سے ہوجائے گا اور جو شخص بدبختوں میں سے ہوگا اور بدوں میں سے ہوجائے گا، آپ نے فرمایا : تم عمل کرتے رہو، ہر ایک کے لیے اس کا عمل آسان کردیا جائے گا، جو نیک بختوں میں سے ہوگا اس کے لیے نیکی کو آسان کردیا جائے گا اور جو بدبختوں میں سے ہوگا اس کے لیے بدی کو آسان کردیا جائے گا، پھر آپ نے ان آیات کی تلاوت کی۔
فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی۔ وَ اَمَّا مَنْم بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی۔ وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ (اللیل : ٥۔ ١٠)
پس جس نے ( اللہ کی راہ میں) اور ( اپنے رب سے) ڈرا۔ اور نیک بات کی تصدیق کی۔ تو ہم اس کے لیے نیک راستہ کو آسان کردیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور لاپرواہی کی۔ اور نیک بات کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کے لیے ( آخرت کی) تنگی کو آسان کردیں گے۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٣٦٢، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٤٧، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٤٤، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٦٩٤، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٨)
جبر وقدر کے مسئلہ میں علامہ خطابی کی تقریر
علامہ ابو سلیمان الخطابی المتوفی ٣٨٨ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو یہ خبر دی کہ اس باپ میں قیاس کو ترک کردیا جائے گا، اور یہ اسی چیز ہے جو ان چیزوں کے مشابہ نہیں ہے جن کا تمہیں علم ہے، اور آپ نے لوگوں کو یہ خبر دی کہ ان کے دنیا میں اعمال آخرت کے انجام کی علامت ہیں، پس جس شخص کے لیے نیک اعمال آسان کردیئے گئے تو اس کے لیے آخرت میں کامیابی کی توقع ہے اور جس کے لیے برے کام آسان کردیئے گئے اس کے لیے آخرت میں ہلاکت کا خطرہ ہے اور یہ علم ظاہر کے اعتبار سے علامات ہیں اور یہ کسی انجام کو واجب نہیں کرتیں، کیونکہ اللہ سبحانہٗ نے غیب کے علم کو اپنی مخلوق سے مخفی رکھا ہے، جس طرح اس نے وقت وقوع قیامت کو مخلوق سے مخفی رکھا ہے، پھر اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے اس کی بعض علامات بیان فرمائیں کہ اس زمانہ میں باندیوں سے ان کے مالک پیدا ہوں گے، اور تم دیکھو گے کہ ننگے پیر ننگے بدن فقراء بکریوں کو چرانے والے اونچی اونچی عمارتیں بنائیں گے، اسی طرح اس نے ظاہری اعمال کو اخروی انجام کی علامت بنادیا۔
( معالم السنن مع مختصر سنن ابو دائود ج ٧ ص ٦٣۔ ٦٢، دارالمعرفہ، بیروت)
نیز علامہ ابو سلیمان الخطابی لکھتے ہیں :
جب یہ کہا جاتا ہے کہ قضاء و قدر اللہ کی جانب سے ہیں تو لوگ اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہیں اور ان کا اپنے افعال میں کوئی اختیار نہیں ہے لیکن ان کا یہ گمان صحیح نہیں ہے، کیونکہ تقدیر کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بندوں کے عمل اور ان کے کسب کا پہلے سے علم ہوتا ہے اور خیر اور شر ہر چیز کو اللہ تعالیٰ پیدا فرماتا ہے اور جن افعال کو بندے اختیار کرتے ہیں ان کو بھی پیدا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ( معالم السنن مع مختصر سنن ابو دائود ج ٧ ص ٦٩ )
جبر و قدر کے مسئلہ میں علامہ ابن بطال کی تقریر
علامہ محمد بن خلف ابن بطال مالکی متوفی ٤٤٩ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
یہ حدیث اہل سنت کے اس مؤقف کی دلیل ہے کہ سعادت اور شقاوت اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی ہیں، اس کے بر خلاف قدریہ یہ کہتے ہیں کہ شر کو اللہ نے پیدا نہیں کیا اور اس حدیث میں جبریہ کا بھی رد ہے کیونکہ مجبوروہ شخص ہوتا ہے، جس سے کوئی فعل اس کی مرضی اور اس کی خواہش کے بغیر جبراً کرایا جائے اور اس حدیث میں مذکور ہے کہ نیک بخت کے لیے نیک کام آسان کردیئے جائیں گے اور بدبخت کے لیے برے کام آسان کردیئے جائیں گے، اور کسی کام کو آسان کرنا اس کام پر مجبور کرنے کی ضد ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان کاموں کو معاف فرما دیا جن کاموں پر ان کو مجبور کیا گیا تھا ( المستدرک ج ٢ ص ١٩٨، تلخیص الحبیر ج ١ ص ٢٨٢) اور کسی کام کو آسان کرنے کا معنی یہ ہے کہ انسان اس کام کو اپنی پسند اور اپنی خواہش کے موافق کرے۔ (شرح صحیح البخاری لا بن بطال ج ٣ ص ٣٤٩، مکتبۃ الرشید، ریاض، ١٤٢٠ ھ)
جبر و قدر کے مسئلہ میں علامہ عینی کی تقریر
علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
اس سائل سے مراد حضرت عمر (رض) ہیں یا کوئی اور صحابی، سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہر پیدا ہونے والے کے لیے جنت یا دوزخ میں ٹھکانہ لکھ دیا گیا ہے تو پھر ہم عمل کی مشقت کیوں اٹھائیں اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ عمل کرنے میں کوئی مشقت نہیں ہے کیونکہ جو شخص جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس کے لیے اس ٹھکانے کا عمل آسان کردیا گیا ہے، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب قضاء ازلی کا یہ تقاضا ہے تو پھر نیک کاموں پر تحسین اور ثواب اور برے کاموں کی مذمت اور ان پر عذاب کیوں ہوتا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تحسین اور مذمت اچھائی اور برائی کے محل ہونے کے اعتبار سے ہوتی ہے، اچھائی اور برائی کے فاعل ہونے کے اعتبار سے نہیں ہوتی، جیسے کسی اچھی چیز کی تعریف کی جاتی ہے اور بری چیز کی مذمت کی جاتی ہے اور رہا ثواب اور عقاب تو وہ باقی امور عادیہ کی طرح ہے اور جس طرح یہ کہنا درست نہیں ہے کہ لڑکی آگ میں ڈالنے سے کیوں جلتی ہے اور ابتداء ً کیوں نہیں جلتی، اسی طرح یہ کہنا بھی صحیح نہیں ہے کہ بندہ کو برے کام کرنے پر عذاب کیوں ہوتا ہے اور ابتداء ً عذاب کیوں نہیں ہوتا۔
علامہ طیبی نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکیمانہ اسلوب سے جواب دیا ہے اور لوگوں کو تقدیر پر تکیہ کرنے اور عمل ترک کرنے سے منع کیا ہے اور ان کو یہ حکم دیا ہے کہ عبودیت کے تقاضے سے ان پر جو عبادات لازم ہیں ان عبادات کو ادا کریں اور امور الٰہیہ میں تصرف نہ کریں اور عبادت کرنے اور عبادت ترک کرنے کو جنت اور دوزخ میں دخول کا سبب مستقل وقرار دیں، بلکہ ان کو فقط جتنی اور دوزخی ہونے کی علامت قرار دیں۔
علامہ خطابی نے کہا ہے کہ جبی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی لوگوں کے جنتی یا دوزخی ہونے کو لکھ دیا ہے تو لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس لکھے ہوئے کو عمل ترک کرنے کی حجت بنا لیا جائے تو آپ نے انہیں یہ بتایا کہ یہاں پر دو چیزیں ہیں، اور ایک چیز دوسری چیز کو باطل نہیں کرتی، ایک چیز باطنی ہے اور وہ علت موجبہ ہے جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور دوسری چیز علامت ظاہرہ ہے یعنی نیک اعمال کسی انسان کے جنتی ہونے کی ظاہری علامت ہے اور آپ نے بتایا کہ ہر انسان کو جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے، اس کے لیے اس ٹھکانے کا عمل آسان کردیا ہے اور دنیا میں اس کا عمل اس کے آخرت کے ٹھکانے کی علامت ہے اور اس کی نظریہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کا رزق مقدار کردیا ہے، اس کے باوجود اس کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کے حصول کے لیے کسب کرے اور کوشش کرے، اسی طرح ہر انسان کی مدت حیات مقدر کردی ہے اور اس کے باوجود اس کو بیماریوں میں علاج کرنے کا حکم دیا ہے، اسی طرح قدرتی آفات اور مصائب بھی مقدر ہیں، اس کے باوجود ان کے ازالہ کے لیے دعا کرنے کا حکم ہے، پس جس طرح رزق کے مقدر ہونے کے باوجود اس کے حصول کے لیے کسب اور کوشش کو ترک نہیں کیا جاتا، اور موت کا وقت مقرر ہونے کے باوجود علاج کو ترک نہیں کیا جاتا اور مصائب کے مقدر ہونے کے باوجود ان کو دور کرنے کی دعائوں کو ترک نہیں کیا جاتا، اسی طرح جنت یا دوزخ کے پیشگی مقدر ہونے باوجود ان کے حصول یا ان سے بچنے کی کوشش اور کسب کو ترک نہیں کیا جائے گا، خلاصہ یہ ہے کہ باطنی علت موجبہ کی وجہ سے ظاہری علامت کو ترک نہیں کیا جائے گا۔
( عمدۃ القاری ج ٨ ٢٧٣۔ ٢٧٢، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢١ ھ)
جبر و قدر کے مسئلہ میں علامہ ابی مالکی کی تقریر
علامہ محمد بن خلیفہ و شتانی ابی مالکی اندلسی متوفی ٨٢٨ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
سائل کے سوال کی تقریر یہ ہے کہ جب ہر شخص کے آخرت کے ٹھکانے کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہے اور جس چیز کی قضاء ازل میں ہوچکی ہے، اس کا نافذ ہونا ضروری ہے تو پھر عمل کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟ ہم عمل کرنے کو ترک کردیتے ہیں، علامہ مازری نے کہا : اس شخص کو جو شبہ ہوا تھا وہی شبہ معتزلہ کو بھی ہوا اور انہوں نے کہا کہ بندہ اپنے اعمال کا خود خالق ہے، انہوں نے کہا : بندہ کی معصیت اور نا فرنی اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور اس کی قضاء سے ہو تو بندہ کو اس معصیت پر عذاب دینا کس طرح درست ہوگا اور جب بندہ کی اطاعت اللہ تعالیٰ کا فعل ہو اور اس کے پیدا کرنے سے ہو تو پھر بندہ اس کی اطاعت کو کیوں کر طلب کیا جائے گا ؟ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے شبہ کو زائل کیا اور اس شخص کے گمان کے بر خلاف اس کو عمل کرنے کا حکم دیا اور اس کو یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں کے لیے نیک اعمال کو آسان کردیا ہے اور بدکار لوگوں کے لیے برے اعمال کو آسان کردیا ہے اور ہمارے نزدیک انسان اپنے افعال کا کسب کرتا ہے اور وہ اپنے افعال میں مجبور نہیں ہے، یعنی بندہ جس فعل کو اختیار کرتا ہے اور اس کا ارادہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس میں وہی فعل پیدا کردیتا ہے اور یہ بعید نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے اعمال کو آخرت میں اس کے جنتی یا دوزخی ہونے کی علامت بنا دے۔ اس تقریر سے جس طرح اس شخص کا شبہ زائل ہوتا ہے، اسی طرح معتزلہ کا شبہ بھی زائل ہوجاتا ہے۔ ( اکمال اکمال المعلم ج ٩ ص ١٥۔ ١٤، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٥ ھ)
جبر و قدر کے مسئلہ میں علامہ نواوی کی تقریر
علامہ یحییٰ بن شرف نواوی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
اس حدیث میں اہل سنت کے مذہب پر واضح دلیل ہے کہ تقدیر ثابت ہے اور تمام افعال خواہ وہ خیر ہوں یا شر ہوں، نافع ہوں یا مضر ہوں، وہ سب اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر سے واقع ہوتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
لَا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ ۔ (الانبیائ : ٢٣ )
اللہ سے (اس کے فعل کے متعلق) سوال نہیں کیا جائے گا اور لوگوں سے ( ان کے افعال کے متعلق) سوال کیا جائے گا۔
اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے افعال کی کوئی علت اور سبب نہیں ہے۔
امام ابوالمظفر السمعانی المتوفی ٤٨٩ ھ نے کہا ہے کہ اس باب کی معرفت کا طرقہ کتاب اور سنت پر موقوف ہے، اس کو قیاس اور محض عقل سے نہیں جانا جاسکتا، پس جو شخص کتاب اور سنت سے عدول کرے گا وہ گم راہ ہوجائے گا اور حیرت کے سمندر میں غرق ہوجائے گا اور وہ کسی اسی چیز تک نہیں پہنچے گا جس سے اس کا دل مطمئن ہو کیونکہ تقدیر اللہ تعالیٰ کے بھیدوں میں سے ایک بھید ہے، ایک سر اور راز ہے، اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مخلوق سے مخفی رکھا ہے، ایک قول یہ ہے کہ جب لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو ان پر تقدیر کا مسئلہ منکشف ہوجائے گا اور اس سے پہلے منکشف نہیں ہوگا۔
اس حدیث میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور تقدیر پر تکیہ کر کے عمل ترک کرنے سے منع فرمایا ہے، بلکہ احکام شرعیہ پر عمل کرنا واجب ہے اور ہر شخص آخرت میں جس ٹھکانے کے لیے پیدا کیا گیا ہے وہ اس پر آسان کردیا جائے گا، قلم تقدیر کو لکھ کر خشک ہوچکا ہے اور یہ لکھا ہوا لوح محفوظ میں ہے، اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس کی کیفیت اور صفت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے اور مخلوق اس کے علم کا احاطہ نہیں کرسکتی۔
( صحیح مسلم بشرح النوادی ج ١٠ ص ٦٧٠٣، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٢١٧ ھ)
جبر و قدر کے مسئلہ میں علامہ قاضی عیاض کی تقریر
قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی اندلسی متوفی ٥٤٤ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : عمل کرو، ہر شخص کے لیے وہ عمل آسان کردیا جائے گا جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے اور آپ کا استدلال اس آیت سے ہے :” فسنیسرہ للیسری۔ “ (اللیل : ٧) تو ہم اسکے لیے نیکی کو آسان کردیں گے، اس حدیث اور اس آیت میں جبریہ کے خلاف حجت قاطعہ ہے اور اس کی تشریح یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کا جنت یا دوزخ میں ٹھکانہ لکھ دیا ہے۔
ایک اور حدیث میں ہے : بلکہ ان کی قضاء کردی گئی اور اس کو ان میں نافذ کردیا گیا ہے۔
ہمارے ائمہ محققین نے کہا ہے کہ ان احادیث کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اس کا جاننے والا ہے کہ کون اس کی اطاعت کرے گا تو وہ اس کو جنت میں داخل کرے گا اور کون اس کی نافرمانی کرے گا تو وہ اس کو دوزخ میں داخل کرے گا، اور جو شخص جنت یا دوزخ کا مستحق ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اللہ کے علم میں جنتی تھا تو وہ جنت کا مستحق ہوگیا یا وہ اللہ کے علم میں دوزخی تھا تو دوزخ کا مستحق ہوگیا اور نہ اللہ تعالیٰ اپنے علم کی وجہ سے کسی شخص کو اپنی اطاعت یا معصیت پر مجبور کرتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کو پہلے سے یہ علم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اختیار اور ارادہ سے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کریں گے یا اس کی معصیت کریں گے اور ان کو پیدا کرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کو ان کے متعلق یہ علم ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اہی جنت کے متعلق فرمایا :
جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (الاحقاف : ١٤)
یہ ان کے ان کاموں کی جزاء ہے جن کو وہ دنیا میں کرتے تھے۔
اور دل دوزخ کے متعلق فرمایا :
جَزَآئُ اَعْدَآئِ اللہ ِ النَّارُ (حم السجدہ : ٢٨) یہ اس کی سزا ہے کہ وہ دنیا میں ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے۔
لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآئُ وْا بِمَا عَمِلُوْا وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰی۔ (النجم : ٣١)
تا کہ اللہ برے لوگوں کو ان کے برے کاموں کی سزا دے اور جن لوگوں نے نیک کام کیے ہیں ان کو ان کی نیکیوں کی جزاء دے۔
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے اعمال کے حساب سے ثواب اور عذاب دیتا ہے، اور سب چیزوں کو اس کو پہلے سے علم ہوتا ہے، پس وہ جس پر رحم فرماتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے اور اس کے لیے نیک عمل آسان کردیتا ہے اور جو اس کی نافرمانی کرتا ہے اور کفر کرتا ہے وہ اس کو رسوا اور ناکام کردیتا ہے، پس اللہ تعالیٰ نے نیکیوں کا حکم دیا اور برائیوں سے روکا تاکہ اس کی اطاعت کرنے والا، اس کی اطاعت کر کے جنت میں داخل ہوجائے اور اس کی نافرمانی کرنے والا اس کی نافرمانی کر کے دوزخ میں داخل ہوجائے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے بندوں کی آزمائش ہے تاکہ وہ دیکھے کہ برے کیسا عمل کرتے ہیں اور یہ دیکھے کہ ان میں کون زیادہ اچھا عمل کرتا ہے اور تاکہ حکم دینے اور منع کرنے سے اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر حجت پوری ہوجائے اور بندوں کے لیے ان کی ہدایت کا راستہ یا گم راہی کا راستہ آسان ہوجائے اور مزین ہوجائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی۔ وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی۔ وَ اَمَّا مَنْم بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی۔ وَ کَذَّبَ بِالْحُسْنٰی۔ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی۔ (اللیل : ٥۔ ١٠)
پس جس نے ( اللہ کی راہ میں) دیا اور ( اپنے رب سے) ڈرا۔ اور نیک بات کی تصدیق کی۔ تو ہم اس کے لیے نیک راستہ آسان کردیں گے۔ اور جس نے بخل کیا اور لاپرواہی کی۔ اور نیک بات کی تکذیب کی۔ تو ہم اس کے لیے ( آخرت کی) تنگی کو آسان کردیں گے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کے متعلق فرمایا :
وَلٰـکِنَّ اللہ حَبَّبَ اِلَیْکُمُ الْاِیْمَانَ وَزَیَّنَـہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَط أُولٰٓئِکَ ھُمُ الرّٰشِدُوْنَ ۔ فَضْلاً مِّنَ اللہ ِ وَنِعْمَۃً (الحجرات : ٧۔ ٨)
لیکن اللہ نے تمہارے نزدیک ایمان کو پسندیدہ بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں خوش نما بنادیا اور کفر اور فسق اور معصیت کو تمہارے نزدیک ناپسندیدہ بنادیا، یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ اللہ کے فضل اور اس کے انعام ہے۔
ان الذین لا یومنون بالاخرۃ ربنا لھم اعما لہم فہم یعمھون۔ (النمل : ٤)
بے شک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے لیے ان کے اعمال کو خوش نما بنادیا ہے، پس وہ بھٹک رہے ہیں۔
اَفَمَنْ زُیِّنَ لَـہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ فَرَاٰہُ حَسَنًاط فَاِنَّ اللہ یُضِلُّ مَنْ یَّشَآئُ وَیَہْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ (فاطر : ٨)
پس کیا جس شخص کے لیے اس کے برے اعمال مزین کردیئے گئے ہیں وہ ان ( برے اعمال) کو اچھا سمجھنے لگتا ہے، سو بیشک اللہ جس کو چاہتا ہے گم راہی میں رکھتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔
پس ان میں سے کوئی شخص بھی اپنے عمل میں مجبور نہیں ہے، جیسا جبریہ کہتے ہیں اور نہ ہی قدریہ کا یہ کہنا صحیح ہے کہ انسان جو چاہے وہ کرسکتا ہے خود اللہ چاہے یا نہ چاہے۔
جبر و قدر کے مسئلہ میں مصنف کی تقریر
اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے، انسان کا بھی خالق ہے اور اس کے اعمال کا بھی خالق ہے اور وہ انسان کے اسی فعل کو پیدا کرتا ہے جس کو وہ اختیار کرتا ہے اور ارادہ کرتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ انسان کے اختیارکو بھی اللہ تعالیٰ پیدا فرماتا ہے تو پھر یہ جبریہ کا مذہب ہے، متکلمین نے اس اعتراض سے جان چھڑانے کے لیے کہا کہ اختیار اور ارادہ حال ہے اور حال ان کی اصطلاح میں بالذات موجود ہے نہ بالذات معدوم ہے اور ایسی چیز خلق کے تحت نہیں آتی، احداث کے تحت آتی ہے، لہٰذا اختیار اور ارادہ کا خلق نہیں ہوتا کہ جبرلازم آئے بلکہ اس کا احداث ہوتا ہے اور اختیار اور ارادہ کا محدث خود انسان ہے اور بعض متکلمین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ انسان کے اختیار اور ارادہ کے سوا اس کے تمام افعال کا خالق ہے اور قرآن مجید میں ہے :
قُلِ اللہ ُ خَالِقُ کُلِّ شَیْئٍ (الرعد : ١٦) آپ کہیے : اللہ ہر چیز کا خالق ہے۔
اس آیت میں ہر چیز کے عموم سے انسان کا اختیار اور ارادہ مستثنیٰ ہے، یعنی انسان کے اختیار کے سوا اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے لیکن یہ دونوں جواب اقتاعی ہیں تحقیقی نہیں ہیں، ان سے اصل اشکال کی گرہ نہیں کھلتی لیکن اگر ان جوابوں کو نہ مانا جائے تو پھر جبر لازم آئے گا، اور اگر جبر کو مان لیا جائے اور یہ کہا جائے کہ انسان کے ارادہ کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اور انسان مجبور محض ہے تو پھر سوال ہوگا کہ جب انسان کو نیکی کرنے یا نہ کرنے کا اختیار نہیں ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کو نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا حکم کیوں دیا اور اس حکم کو پہچانے کے لیے نبی اور رسول کیوں بھیجے، کتابیں کیوں نازل کیں، جنت اور دوزخ کیوں بنائی، حساب اور کتاب کی کیا ضرورت ہے ؟ نیز ہم ہدایۃً جانتے ہیں کہ ہم جو بھی کام کرتے ہیں اپنی مرضی اور خوشی سے کرتے ہیں حالانکہ جبر میں تو زبردستی کرایا جاتا ہے، پھر جب اہل قدر کی بات صحیح ہے نہ اہل جبر کی تو پھر ہمیں اس اشکال کو حل کرنے کے درپے نہیں ہونا چاہیے، جیسا کہ علامہ نووی نے کہا ہے کہ یہ عقدہ ہم سے دنیا میں حل نہیں ہوگا، آخرت میں ہم پر یہ مسئلہ منکشف ہوجائے گا، تاہم یہ سوال پھر بھی ہوگا کہ اس مسئلہ میں ہمارا کیا عقیدہ ہونا چاہیے ؟ تو ہمارے لیے اجمالی طور پر اتنا مان لینا کافی ہے کہ ہمارا اور ہمارے تمام افعال کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ہم احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں مجبور نہیں ہیں، ہم اپنے اختیار سے اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور ہمیں یہ اختیار اللہ تعالیٰ نے ہی دیا ہے۔ ہم چونکہ تمام کام اپنے اختیار سے کرتے ہیں اس لیے جبر نہیں ہے اور چونکہ ہمیں یہ اختیار اللہ تعالیٰ ہی نے عطاء فرمایا ہے، اس لیے قدر نہیں ہے۔ ہم ان دقیق ایحاث میں نہیں پڑتے کہ اس اختیار کی کیا صفت ہے اور کیا کیفیت ہے ؟ ہم نے اس مسئلہ میں جن مشاہیر مفسرین اور محدثین کی تحقیقات پیش کی ہیں، ان کا بھی یہی مآل ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 30