وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَۚ اِذَا رَاَيۡتَهُمۡ حَسِبۡتَهُمۡ لُـؤۡلُـؤًا مَّنۡثُوۡرًا – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 19
sulemansubhani نے Sunday، 29 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَيَطُوۡفُ عَلَيۡهِمۡ وِلۡدَانٌ مُّخَلَّدُوۡنَۚ اِذَا رَاَيۡتَهُمۡ حَسِبۡتَهُمۡ لُـؤۡلُـؤًا مَّنۡثُوۡرًا ۞
ترجمہ:
اور دائمی جنتی لڑکے ان کے پاس گردش کریں گے تم انہیں دیکھ کر یہ گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں.
جنتی لڑکوں کے دائمی ہونے کی توجیہہ
الدھر : ١٩ میں فرمایا : اور دائمی جنتی لڑکے ان کے پاس گردش کریں گے، تم انہیں دیکھ کر یہ گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔
بچپن میں انسان کے چہرے پر بھولپن اور معصومیت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اس کا چہرہ پر بہار اور پرکشش ہوتا ہے اور اسے دیکھنے سے طبیعت خوش ہوتی ہے، اور جیسے جیسے انسان کی عمر بڑھتی ہے اس کے چہرے پر پکا پن آجاتا ہے، چہرے پر م سے اور والے نکل آتے ہیں، اس کے چہرے کی خوب صورتی، رونق اور کشش جاتی رہتی ہے اور وہ چہرہ جو بچپن میں بھولا بھالا اور معصوم لگتا تھا، جوان ہونے کے بعد خرانٹ لگنے لگتا ہے، اس کے برعکس جنت میں جو اہل جنت کی خدمت پر مامور لڑکے ہوں گے، ان کے چہروں پر ہمیشہ اسی طرح بھولپن، معصویت، رونق اور رعنائی رہے گی جو دنیا میں بالغ ہونے سے پہلے لڑکوں کے چہروں پر ہوتی ہے۔
اس لیے فرمایا : اور دائمی جنتی لڑکے یعنی ان لڑکوں کی صورتوں میں جو بھولپن اور معصومیت ہوگی اور دائمی ہوگی، اس کے بر خلاف دنیا میں لڑکوں کے چہرے پر یہ کیفیت بالغ ہونے سے پہلے تک رہتی ہے، اس آیت کی دوسری تفسیر یہ کی ہے کہ وہ لڑکے دائمی ہیں یعنی ان کی موت نہیں آئے گی لیکن پہلی تفسیر راجح ہے، اس کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ ” مخلدون “ کا معنی ہے :” محلون “ یعنی وہ زیورات سے آراستہ ہوں گے۔
نیز اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم انہیں دیکھ کر یہ گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔
یعنی وہ حسین و جمیل اور صبیح اور بلح لڑکے جب مجلس میں متفرق جگہوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے تو تم انہیں دیکھ کر یہ گمان کرو گے کہ وہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔
القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 19