أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيُسۡقَوۡنَ فِيۡهَا كَاۡسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنۡجَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

وہاں ان کو ایسے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کے چشمہ کی آمیزش ہوگی.

سونٹھ کے پانی کی توجیہ

الدھر : ١٧ میں فرمایا : وہاں ان کو ایسے جام بھی پلائے جائیں گے جن میں سونٹھ کے چشمے کی آمیزش ہوگی۔

اس سے پہلی آیتوں میں مشروب کے برتنوں کی تفصیل بیان فرمائی تھی اور مشروب کی مقدار کا بیان فرمایا تھا اور اس آیت میں مشروب کی کیفیت کا بیان فرمایا ہے کہ اس میں سونٹھ کے چشمے کی آمیزش ہوگی، اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب کھانے کے بعد ہاضمے کے لیے سونٹھ کا پانی پیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ جنت میں کھانے پینے کے بعد الگ سے سونٹھ کا پانی پینے کی ضرورت نہیں ہوگی، جنت کے مشروبات میں از خود سونٹھ کا پانی ملا ہوا ہوگا۔

القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 17