أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَوَاقِعٌ ۞

ترجمہ:

بیشک جس ( قیامت) کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے

تفسیر:

المرسلات : ٧ میں فرمایا : بیشک جس ( قیامت) کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔

اللہ تعالیٰ کے کیے ہوئے وعدہ کا پورا ہونا

یہ اس سے پہلی کھائی ہوئی قسموں کا جواب ہے، یعنی ہوائوں، فرشتوں، قرآن اور نبیوں کی قسم ! تم سے جس قیامت کے وقوع کا وعدہ کیا گیا وہ ضرور واقع ہونے والی ہے، یا اس کا معنی یہ ہے کہ تم کو جس عذاب سے ڈرایا گیا تھا، اگر تم اللہ پر ایمان نہ لائے تو وہ عذاب تم پر ضرور واقع ہوگا، یا تم سے جو وعدہ کیا گیا تھا کہ تم کو مرنے کے بعد ضرور دوبارہ زندہ کیا جائے گا، سو تم سے کیا ہوا وہ وعدہ ضرور پورا کیا جائے گا، اس کے بعد کی آیتوں میں قیامت کے وقوع کی علامات بیان فرمائیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 7