أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَالۡعٰصِفٰتِ عَصۡفًا ۞

ترجمہ:

پھر ان ہوائوں کی قسم جو بہت تیز چلتی ہیں

تفسیر:

المرسلات : ٢ میں فرمایا :” فالعصفت عصفا “” عاصف “ کا معنی تند و تیز ہوا، آندھی، اگر اس کا موصوف ہوا ہو تو پھر اس کا معنی ظاہر ہے کہ سخت آندھی چیزوں کی توڑ پھوڑ کر رکھ دیتی ہے، جیسے سخت اور تیز آندھی نے قوم عاد کو ہلاک کردیا تھا اور اگر اس کا موصوف فرشتے ہوں تو اس کا معنی ہے : وہ فرشتے جو تیزی کے ساتھ آندھی کی طرح آئے یا وہ آندھی کی طرح تیزی سے کفار کی روحوں کو لے گئے، اور اگر اس کا موصوف قرآن ہو تو اس کا معنی یہ ہے کہ اگرچہ ابتداء میں قرآن کا نظام ضعیف ہوتا ہے لیکن وہ بہ تدریج آندھی کی طرح شدید ہوجاتا ہے اور باطل کے تمام مکر اور سازشوں کو اڑا کرلے جاتا ہے اور اگر اس کا موصوف انبیاء (علیہم السلام) ہوں تو اس کا معنی ہے : ابتداء میں انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم اور تبلیغ میں نرمی ہوتی ہے، پھر بہ تدریج ان کی تعلیم اور تبلیغ میں شدت اور سختی آتی جاتی ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 2