أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَالۡمُلۡقِيٰتِ ذِكۡرًا ۞

ترجمہ:

پھر ان فرشتوں کی قسم جو ( دلوں میں) ذکر کر ڈالنے والے ہیں

تفسیر:

المرسلات : ٥ میں فرمایا :” فالملقیت ذکرا “۔ ” الملقیت “ کا معنی ہے : پیش کرنے والے، پہنچانے والے، اگر اس کا موصوف ہوائیں ہوں تو اس کا معنی یہ ہے کہ عقل والا یہ دیکھے گا کہ جب زور کی آندھی چلتی ہے تو وہ بڑے بڑے پتھروں اور چٹانوں کو منہدم کردیتی ہے، مضبوط اور تن اور درختوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے، سمندر میں موجوں کو اٹھا کر طوفان لے آتی ہے، سو ان امور کا مشاہدہ کر کے وہ خوف زدہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کو یاد کر کے اس کے ذکر کی پناہ میں آئے گا اور اس طرح یہ معنی صادق آئے گا کہ ہوائیں دلوں میں اللہ کے ذکر کو ڈالتی ہیں، اور اس کا موصوف فرشتے ہوں تو اس کا معنی ہے : فرشتے اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کے ذکر کو انبیاء (علیہم السلام) تک پہنچاتے ہیں اور اگر اس کا موصوف قرآن مجید ہو تو پھر اس کا معنی ظاہر ہے کیونکہ قرآن مجید کی آیات اللہ تعالیٰ کے ذکر پر مشتمل ہیں، اور اگر اس کا موصوف انبیاء (علیہم السلام) ہوں تو اس کا معنی یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) مخلوق کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی دعوت دیتے ہیں اور ان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر کرنے کا حکم دیتے ہیں اور اس کی طرف راغب کرتے ہیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 5