أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيۡلٌ يَّوۡمَئِذٍ لِّلۡمُكَذِّبِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔

المرسلات : ١٥ میں فرمایا : اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔

” ویل “ کا معنی

یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی توحید کی تکذیب کرتے تھے، اور اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور رسولوں کی تکذیب کرتے تھے اور انبیاء علہیم السلام کے لائے ہوئے پیغام اور ان کی دی ہوئی خبروں کی تکذیب کرتے تھے اور قیامت کی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کی تکذیب کرتے تھے، ان کے لیے ” ویل “ ہے یعنی عذاب، ہلاکت اور رسوائی ہے۔

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ ” ویل “ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

حضرت نعمان بن بشیر نے کہا کہ ” ویل “ جہنم میں ایک وادی ہے جس میں انواع و اقسام کا عذاب ہوگا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب دوزخ کی آگ شکستہ ہوگی تو دوزخ کا ایک انگارہ لے کر اس پر مارا جائے گا اور پھر دوزخ کی آگ ایک دوسرے کو کھاجائے گی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے سامنے جہنم کو پیش کیا گیا تو میں نے ویل سے بڑی اس میں کوئی وادی نہیں دیکھی، اور یہ بھی روایت ہے کہ ویل وہ جگہ ہے جس میں تمام دوزخیوں کی قے اور ان کی پیپ کو جمع کیا جائے گا اور اس میں سے تھوڑی تھوڑی پیپ بہتی رہے گی۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٨٤٥) اور لوگوں کو معلوم ہے کہ سب سے بری اور گندی جگہ وہ ہوتی ہے جہاں پر بدبو دار نجاست اور غلاظت اور بول اور براز کو ڈالا جائے، سو تمام دوزخیوں کو بدبو دارنجاستوں اور غلاظتوں کو دوزخ کی اس وادی میں ڈالا جائے گا، جس کا نام ویل ہے۔

(الجامع الاحکام القرآن جز ٢٩ ص ١٢٨، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 15