پچھلے دنوں فتاوی رضویہ شریف کا مطالعہ کر رہا تھا کہ ایک جگہ اچانک رکنا پڑا

ہوا کچھ یوں کہ اعلی حضرت سے ایک سوال ہوا کہ حضور علیہ السلام کی شان میں کچھ نازیبا کلمات اخبارات میں چھاپے جاتے ہیں تو چھاپنے والے پہ بھی حکم لگے گا یا صرف مصنف پہ حکم لگے گا ؟؟؟  ( مفہوما )

جواب میں اعلی حضرت نے لکھا تھا کہ ” الحَمْد للهْ‎ فقیر نے وہ ناپاک ملعون کلمات نہ دیکھے ، جب سوال کی اس سطر پہ آیا جس سے معلوم ہوا کہ کہ آگے کلماتِ لعینہ منقول ہونگے ان پر نگاہ نہ کی ایک ہی لفظ پہ نظر پڑی جو دل کو زخمی کرنے کے لیے کافی ہے اب جواب لکھتے ہوئے کاغذ تہ کر لیا ہے تا کہ کلماتِ مردودہ پہ نظر نہ پڑے “

میں نے جواب ادھر تک پڑا تو حیرانگی ہوئی کہ مجھے تو سوال میں کوئی ایسا لفظ نظر نہیں آیا تو اعلی حضرت ایسا کیوں فرما رہے ہیں اب ایک بار پھر سوال پڑھا لیکن سوال میں کوئی ایسا لفظ نہیں تھا ۔۔۔

پھر جواب کی طرف متوجہ ہوا دوبارہ پڑھنا شروع کیا تو جواب کے آخر میں اعلی حضرت نے وضاحت فرمائی تھی کہ ” فقیر کے ہاں فتاوی مجموعہ پر نقل ہوتے ہیں میں نے نقل فرمانے والے صاحب سے کہہ دیا ہے کہ ان ملعون الفاظ کو نقل نہ کریں سنا گیا ہے کہ سائل کا قصد اس فتوے کے چھاپنے کا ہے درخواست کرتا ہوں کہ ان ملعونات کو نکال ڈالیں ان کی جگہ دو ایک سطریں خالی صرف نقطے لگا کر چھوڑ دیں کہ مسلمانوں کی آنکھیں ان لعنتی ناپاکوں کے دیکھنے سے باذنہ تعالی محفوظ رہیں “

یہانتک پڑھ کے جو لطف آیا آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ سبحان الله‎ اعلی حضرت نے ان گستاخانہ الفاظ کو سوال میں نقل کرنے سے منع فرمایا

اور ہم ؟؟؟؟؟ ہم تو جو گستاخی بھری ویڈیو یا تحریر آتی ہے سب سے پہلے شیئر کرنا شاید اپنے اوپر لازم سمجھتے ہیں اور اس ویڈیو وغیرہ کو دیکھنے والوں کی تعداد لاکھوں تک چلی جاتی ہے ۔۔۔ اسکی مثال اس حالیہ ملعونہ کی ویڈیو ہے جس نے معاذاللہ نبوت کا دعوی کیا ۔۔۔

اے خدا کے بندو ! یہ ہر گز مناسب طریقہ نہیں ، جب بھی ایسی کوئی تحریر یا ویڈیو وغیرہ ہو تو اسکو شیئر کبھی نہ فرمائیں تا کہ کوئی زبان ان ناپاک الفاظ کو پڑھ نہ پائے اور کوئی کان ان ملعون الفاظ کو سن نہ پائے ۔۔۔

کافی دنوں سے یہ لکھنے کا ارادہ تھا لیکن شاید اس کا بہترین وقت یہ ہی تھا ۔۔۔

منقول