حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیقؓ سے منسوب ایک روایت کی حقیقت!
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیقؓ سے منسوب ایک روایت کی حقیقت!
ازقلم: اسد الطحاوی
ایک روایت مسند ابی داود طیالسی سے پیش کی جاتی ہے ۔ متعہ کے تعلق سے جسکا اسکین نیچے لگا ہوا ہے اسکو لکھنے کی حاجت نہیں ہے ۔
اصل میں اس روایت میں امام شعبہ کے شیخ مسلم القری سے وھم ہوا ہے ۔ انہوں نے متعہ الحج کی بجائے متعہ النساء بیان کر دیا ہے ۔
جبکہ امام شعبہ کے دوسرے شاگرد امام روح نے اسکو جب بیان کیا تو تفصیلی بیان کیا ہے ۔ جس سے روایت کے اصل متن کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ جسکو امام احمد روایت کرتے ہیں اپنی مسند میں جو کہ درج ذیل ہے :
حدثنا روح ، حدثنا شعبة ، عن مسلم القري ، قال: سالت ابن عباس , عن متعة الحج، فرخص فيها، وكان ابن الزبير ينهى عنها، فقال: هذه ام ابن الزبير تحدث , ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رخص فيها، فادخلوا عليها فاسالوها , قال: فدخلنا عليها، فإذا امراة ضخمة عمياء، فقالت:” قد رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها
مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی جبکہ حضرت ابن زبیر اس سے منع فرماتے تھے جضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ابن زبیر کی والدہ (اسماء بنت ابی بکر)ہی بتاتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے تم جا کر ان سے پوچھ لو ہم ان کے پاس چلے گئے، وہ بھاری جسم کی نابینا عورت تھیں اور انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔
[مسند احمد ، برقم: 26946، وسندہ صحیح]
جبکہ یہی روایت جب امام ابو داود طیالسی نے بیان کی امام شعبہ سے مسلم القری کے طریق سے تو راوی مسلم متن کو مختصر کر دیا اور متعہ الحج کی بجائے متع النساء کہہ دیا ۔
اور اس روایت میں وھم کی نشاندہی امام مسلم نے بھی کی ہے امام شعبہ نے خود اس روایت کو بیان کرتے ہوئے اپنے شیخ مسلم القری کاوھم بیان کیا ہے ۔
جیسا کہ امام مسلم جب اس روایت کو بیان کرتے ہیں جسکو ہم اوپر نقل کر چکے مسند احمد سے اس میں اختلاف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
وحدثناه ابن المثنى ، حدثنا عبد الرحمن . ح وحدثناه ابن بشار ، حدثنا محمد يعني ابن جعفر جميعا، عن شعبة بهذا الإسناد، فاما عبد الرحمن ففي حديثه المتعة، ولم يقل متعة الحج، واما ابن جعفر، فقال شعبة: قال مسلم: لا ادري متعة الحج او متعة النساء
عبدالرحمان اور محمد بن جعفر دونوں نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کی، ان میں سے عبدالرحمان کی حدیث میں صرف لفظ تمتع ہے، انھوں نے حج تمتع کے الفاظ روایت نہیں کیے۔
جبکہ ابن جعفر نے کہا: شعبہ کا قول ہے کہ مسلم(قری)نے کہا: میں نہیں جانتا کہ (ابن عباس رضی اللہ عنہ) نے حج تمتع کا ذکر کیا یا کہ عورتوں سے (نکاح) متعہ کی بات کی۔
[صحیح مسلم برقم: 195]
معلوم ہوا کہ مسند طیالسی کی روایت منکر و شاذ ہے ۔ اور مسلم القری کے وھم کا نتیجہ ہے ۔ اور اصل متن وہی ہے جسکو امام احمد و امام مسلم نے روایت کیا ہے ۔ یہ تمتع حج کی بات تھی نہ کہ متعہ نساء
دعاگو: اسد الطحاوی
