اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ كِفَاتًا سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 25
sulemansubhani نے Wednesday، 9 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلَمۡ نَجۡعَلِ الۡاَرۡضَ كِفَاتًا ۞
ترجمہ:
کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی نہیں بنایا۔ زندوں اور مردوں کے لیے۔ اور ہم نے اس میں بلند اور بھاری پہاڑ بنا دیئے اور تم کو میٹھا پانی پلایا۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ ( المرسلات : ٢٨۔ ٢٥ )
کفار قریش کو ان کے اندر رکھی ہوئی نعمتوں اور ان کے باہر رکھی ہوئی نعمتوں کے شکر ادا کرنے کے عذاب سے ڈرانا
المرسلات : ٢٥ میں ’ کفاتا ‘ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : سب کو سمیٹنے کی جگہ، زمین زندہ انسانوں کو اپنے اوپر سمیٹے ہوئے ہے اور مردہ انسانوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے، مکان زندہ انسانوں کو سمیٹتے ہیں اور قبریں مردہ انسانوں کو سمیٹتی ہیں ” کفت “ کا معنی ہے : ظرف اور زمین زندہ اور مردوں انسانوں کا ظرف ہے ’ کفات “ جمع کرنے کے مقام کو بھی کہتے ہیں اور زمین زندہ اور مردہ انسانوں کے جمع ہونے کی جگہ ہے۔ لغت میں ” کفت “ کا معنی ہے : کسی چیز کا رخ پھیر دینا، پنجے میں دبوچ لینا جمع کرنا حفاظت کرتا، اڑنے کے ارادہ سے پرندہ کا بازو سمیٹنا، روکے رکھنا، حدیث میں ہے : حضرت جابر بن عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :
خمروا الانیۃ واو کئوا الاسقیۃ واحیفوا الابواب واکفتوا صبیانکم باللیل۔
برتن ڈھانپ کر رکھو، مشکوں کا منہ باندھ کر رکھو، دروازے بند رکھو اور رات کو بچوں کو روک کر رکھو۔
( صحیح البخاری رقم الدیث : ٣٣١٦) المفردات ج ٢ ص ٥٥٩، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے زمین کا ذکر فرمایا کیونکہ ہمارے باہر کی چیزوں میں جو چیز ہم سے سب سے زیادہ قریب ہے وہ زمین ہے، اور ” کفاتا “ کا معنی ہے : سمیٹنا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے زندوں اور مردوں کا ذکر فرمایا ہے یعنی زمین نے تمام زندوں اور مردوں کو سمیٹ رکھا ہے، یعنی زندہ انسان زمین پر گھروں میں رہتے ہیں اور مردہ انسان زمین میں بنائی ہوئی قبروں میں رہتے ہیں اور اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ انسان کے جو فضلات ہوتے ہیں اور گندی بدبو دار چیزیں ہوتی ہیں ان سب کو زمین سمیٹ لیتی ہے اور انسان کو زندہ رہنے کے لیے جس قدر خوراک کی ضرورت ہوتی ہے، خواہ وہ غلہ ہو یا پھل ہوں وہ سب زمین سے پیدا ہوتے ہیں اور زمین بیشمار زندوں اور لا تعداد مردوں کی کفیل ہے۔
بعض علماء نے یہ بھی کہا ہے کہ جو مردے زمین میں مدفون ہیں، وہ زمین میں محفوظ ہیں اور جو چیز محفوظ ہو اس کو چرانے سے ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، لہٰذا جو شخص کسی مردے کا کفن چرائے اس کا ہاتھ کاٹ دینا چاہیے۔
اس آیت کی تفسیر الفرقان : ٥٣ میں گزر چکی ہے، سو انسانوں پر ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا واجب ہے اور جن لوگوں نے اپنے منعم کو نہیں پہچانا اور اس کی تکذیب کی ان کے لیے قیامت کے دن ہلاکت ہوگی۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 25