أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ نُهۡلِكِ الۡاَوَّلِيۡنَؕ‏ ۞

ترجمہ:

کیا ہم نے پہلی قوموں کو ہلاک نہیں کیا تھا ؟

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا ہم نے پہلی قوموں کو ہلاک نہیں کیا تھا ؟۔ پھر ہم ان کے بعدوالے لوگوں کو لاتے رہے۔ ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں۔ اس دن تکذیب کرنے والے کے لیے ہلاکت ہے۔ کیا ہم نے تم کو حقیر پانی سے پیدا نہیں کیا ؟۔ پھر ہم نے اس کو ایک محفوظ جگہ پر رکھا۔ ایک مدت معین تک۔ پھر ہم نے اندازہ کیا سو ہم کیسا اچھا اندازہ کرنے والے ہیں۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ ( المرسلات ٢٤۔ ١٦)

کفار قریش کو گزشتہ کافروں کو ہلاکت اور عذاب سے ڈرانا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر ( سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہلی امتوں میں جتنے بھی کفار تھے ہم نے ان سب کو ہلاک کردیا، پھر ان کے بعد جو کفار آئیں گے ان کو بھی ہم پہلوں کے ساتھ ملا دیں گے اور ہم مجرموں کے ساتھ اسی طرح کرتے ہیں، جیسا کہ جنگ بدر میں ستر مشرکین قتل کردیئے گئے اور بعد میں جو لوگ کفر پر مرگئے، ان کو آخرت میں عذاب دیا جائے گا اور یہ کفار اگرچہ دنیا میں ہلاک کردیئے گئے یا ان کو دنیا میں عذاب دیا گیا، لیکن سب سے بڑا عذاب ان کو قیامت کے دن ہوگا، اس لیے المرسلات : ١٩ میں فرمایا : اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 16