سیدنا جبریل کی عمر مبارک
کوکب نورانی صاحب کہتے ہیں روایت موجود ۔۔۔لیکن روایت ثابت نہیں ۔۔۔
کسی کی آنکھوں پہ اگر شخصیت پسندی کی پٹی بندھی ہے تو پہلے تحقیق کرے پھر بات کرے ۔۔۔ایک موضوع روایت بیان کر کے عقیدہ نورانیت ثابت کرنا ۔۔۔جبکہ عقائد کے باب میں تو ضعیف روایت بھی قبول نہیں اور ہمارے مشہور خطبا یہ روایت بیان کر کے نورانیت مصطفی ثابت کر رہے ہیں ۔۔۔رسول پاک کی نورانیت کے لیے جب معتبر دلائل موجود ہوں تو وہ بیان کیے جائیں ۔۔۔
i 💥 سیدنا جبریل کی عمر مبارک 💥
اہل سنت و جماعت کے عقائد حقہ کو اردو زبان کے اندر عام فہم انداز میں بیان کرنے والی ایک عظیم ترین اور نہایت اہم کتاب میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے نوری پیکر کے نور ہونے پر دلائل دیتے ہوئے ایک ایسی روایت کو نقل کیا گیا ہے جس کے بارے میں علماء محققین کی رائے یہ ہے کہ وہ روایت سنداً و متناً ہرگز ثابت نہیں ہے ، لیکن وہ روایت نہایت مشہور و معروف ہے اور بہت ساری وعظ کی کتابوں میں بغیر سند کے مذکور ہوئی ہے
اردو شعراء نے بھی اس روایت کو اپنے اپنے ذوق طبع کے مطابق نہایت دل نشین انداز میں منظوم کیا ہے اہل محبت جب اس روایت کو نثر کی صورت میں یا نظم کی صورت میں سماعت کرتے ہیں تو ایمان میں تازگی اور حلاوت سی محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ ایسی روایت جو سندا و متنا محدثین کے نزدیک ثابت نہ ہو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ذات اقدس کی طرف منسوب کر کے ہرگز بیان نہیں کرنا چاہیے، وہ روایت یہ ہے
” امام بخاری علیہ الرحمۃ نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جبرئیل علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا اے جبریل آپ کی عمر کتنے سال ہے؟
جبریل علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی الله تعالٰی علیک وسلم) اس کے سوا میں نہیں جانتا کہ ایک ستارہ ستر ہزار سال بعد طلوع ہوتا تھا۔ میں نے اسے بہتر ہزار (72000) مرتبہ طلوع ہوتے دیکھا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
يَا جِبْرِيلُ وَعِزَّةِ رَبِّي جَلَّ جَلَالُهُ أَنَا ذَلِكَ الْكَوْكَبُ
اے جبریل مجھے اپنے رب جل جلالہ کی عزت کی قسم وہ ستارہ (نور) میں ہوں “
(جواہر البحار ، ص: 248 تفسیر روح البیان ، ج 3 ص 974)
اس روایت کو امام بخاری کے حوالہ سے بیان کیا گیا ہے ، امام بخاری کی کس کتاب کے حوالہ سے بیان کیا یہ مذکور نہیں ہے بلکہ مخرِّج نے بھی تخریج کرتے ہوئے ؛ امام بخاری کی کسی کتاب کا حوالہ ذکر نہیں کیا بلکہ عاشق رسول ﷺ علامہ یوسف بن اسماعیل نبہانی کی جواہر البحار اور علامہ اسماعیل حقی صاحب کی تفسیر روح البیان کا حوالہ دیا ہے جبکہ ان بزرگوں نے بھی مخرِّج طرح اس روایت کی سند کو بیان کیا اور نہ ہی اس پر کلام کیا کہ مزید حقیقت آشکارا ہوتی
قارئین کرام! الحمد للہ رب العالمین ہم اپنے اسلاف و اکابرین کے ماننے والے اور بے حد احترام کرنے والے ہیں، انہیں بزرگوں کی یہ تعلیمات ہیں کہ ” دین میں سند کی بڑی اہمیت ہے بلکہ آئمہ محدثین نے تو سند کو ہی دین قرار دیا ہے ”
اس روایت پر ہمارے معاصرین علماء حقہ نے بھی بہت کلام کیا ہے ، یہ روایت گیارہ صدیوں تک مفقود رہی ، اس کا ذکر کتب میں ہوا اور نہ سینہ بہ سینہ اسے روایت کیا گیا، ہمارے بزرگوں کے نزدیک نورانیت مصطفیٰ ﷺ والا عقیدہ تو واضح، مبرھن اور ثابت ہے مگر یہ روایت ثابت نہیں ہے ، لہذا نئے فارغ التحصیل علماء و قابل طلباء عقیدہ اہلسنت یعنی نورانیت مصطفیٰ ﷺ ، کو بیان کرتے ہوئے اس روایت کو بطور دلیل کے ہر گز پیش نہ کریں ۔۔۔ مزید دلال پہ مزید غور و خوض کریں اور انہیں پوری جراءت کے ساتھ پیش بھی کریں
#دارالتحقیق #زینیات #جامعہ_باب_العلم
مفتی محمد زین العابدین شاہ
29 ربیع الاول 1446
4 اکتوبر 2024
