اِنَّهَا تَرۡمِىۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 32
sulemansubhani نے Monday، 14 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّهَا تَرۡمِىۡ بِشَرَرٍ كَالۡقَصۡرِۚ ۞
ترجمہ:
بیشک دوزخ محل کے برابر انگارے پھینکتی ہے۔
المرسلات : ٣٢ میں فرمایا : بیشک دوزخ محل کے برابر انگارے پھینکتی ہے۔
” شرر قصر، جمالۃ، اور ” صفر “ کے معانی اور محل کی مثل کی انگاروں کی توجیہ
اس آیت میں ” شرر “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : جنگاریاں، جب آگ جلتی ہے تو اس آگ سے چنگاریاں اڑتی ہیں، اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ کی یہ صفت بیان کی ہے کہ اس کا دھواں اس کا سایہ ہوگا، بایں طور کہ وہ آگ بہت بڑے بڑے انگارے اڑا رہی ہوگی، اس سے یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ دوزخ کی آگ دنیا کی آگ کے مقابلہ میں بہت عظیم ہے۔ اس آیت میں فرمایا ہے کہ اس آگ کے انگارے ” قصر “ کی مثل ہوں گے اور ” قصر “ کی تفسیر میں دو قول ہیں :
(١) حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : اس سے مراد بڑے بڑے محلات ہیں۔
(٢) مبرو نے کہا : بہت بڑی لکڑی کو ” قصرو “ کہا جاتا ہے اور اس کی جمع ” قصر “ ہے، عبد الرحمان بن عباس نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے ” قصر “ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : یہ ایک لکڑی ہے جس کو ہم سردیوں میں جلانے کے لیے اکٹھا کرتے تھے، اس لکڑی کو ہم کاٹتے تھے اور اس کا نام ہم نے ” قصر “ رکھا تھا، سعید بن جبیر، مقاتل اور ضحاک وغیرہ نے کہا : یہ کھجور کے درخت اور بڑے بڑے درختوں کے تنے ہیں۔
القرآن – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 32