اِنْطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِىۡ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 30
sulemansubhani نے Monday، 14 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنْطَلِقُوۡۤا اِلٰى ظِلٍّ ذِىۡ ثَلٰثِ شُعَبٍۙ ۞
ترجمہ:
چلو اس ( دھوئیں) کے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔
دوزخ کے دھوئیں کی تین شاخوں کے محامل
کفار اور مکذبین سے کہا جائے گا : اب چلو اللہ کے اس عذاب کی طرف جس کی تم دنیا میں تکذیب کرتے تھے اور دوزخ کے دھوئیں کی طرف چلو، اللہ تعالیٰ نے اس دھوئیں کے سائے کی گئی صفات بیان فرمائی ہیں، یہاں فرمایا ہے :” الی ظل ذی ثلاث شعب “ اس ( دھوئیں) کے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔
دھوئیں کے تین شاخوں کے حسب ذیل محامل ہیں :
(١) اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے اوپر بھی آگ ہوگی اور ان کے نیچے بھی آگ ہوگی اور آگ ان کو محیط بھی ہوگی اور اس آیت میں آگ کو مجازاً سایہ فرمایا ہے کیونکہ آگ ان کو ہر طرف سے محیط ہوگی، قرآن مجید میں ہے :
لَھُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ ظُلَلٌ مِّنَ النَّارِ وَمِنْ تَحْتِہِمْ ظُلَلٌط ذٰلِکَ یُخَوِّفُ اللہ ُ بِہٖ عِبَادَہٗط یٰعِبَادِ فَاتَّقُوْنِ ۔ (الزمر : ١٦)
کفار کے لیے اوپر سے بھی آگ کے سائے ( سائبان) اور ان کے نیچے بھی آگ کے سائے ہوں گے، یہی عذاب ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈرا رہا ہے، اے میرے بندو ! پس مجھ سے ڈرتے رہو۔
یَوْمَ یَغْشٰہُمُ الْعَذَابُ مِنْ فَوْقِہِمْ وَمِنْ تَحْتِ اَرْجُلِہِمْ (العنکبوت : ٥٥ )
جس دن ان کو عذاب ان کے اوپر سے بھی ڈھانپ لے گا اور ان کے پیروں کے نیچے سے بھی۔
(٢) قتادہ نے کہا : تین شاخوں سے مراد دھوئیں کی تین جانبیں ہیں، قرآن مجید ہے :
اِنَّـآ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًالا اَحَاطَ بِھِمْ سُرَادِقُھَاط (الکہف : ٢٩ )
بے شک ہم نے ظالموں کے لیے آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں انہیں گھیر لیں گے۔
آگ کی قناتوں سے مراد دھواں ہے، پھر اس دھوئیں کی ایک شاخ ان کی دائیں جانب ہوگی اور دوسری شاخ ان کی بائیں جانب ہوگی اور تیسری شاخ ان کے سروں پر ہوگی۔
امام رازی فرماتے ہیں : یہ اس لیے ہے کہ غضب انسان کی دائیں جانب سے ہوتا ہے اور شہوت انسان کی بائیں جانب ہوتی ہے، اور قوت شیطانیہ اس کے دماغ میں ہوتی ہے، اور تمام افعال جو انسان سے صادر ہوتے ہیں ان کا منبع اس کے عقائد میں ہوتا ہے اور اس کے اعمال ان ہی تین قسموں پر مشتمل ہوتے ہیں، پھر ان تین مصادر سے تین ظلمات پیدا ہوتی ہیں اور یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ یہاں پر تین درجات ہیں : حس، خیال اور وہم اور یہ عالم قدس سے روح کے استفادہ نور سے مانع ہوتے ہیں اور ان تین درجات میں سے ہر درجہ کے لیے ایک خاص قسم کی ظلمت ہوتی ہے۔ ( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٧٤)
(٣) بعض علماء نے یہ کہا کہ دھوئیں کی تین شاخوں سے مراد یہ ہے کہ وہ دھواں بہت عظیم ہوگا اور چونکہ وہ دھواں بہت عظیم ہوگا، اس لیے وہ تین شاخوں میں منقسم ہوجائے گا۔
القرآن – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 30