أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰذَا يَوۡمُ الۡفَصۡلِ‌ۚ جَمَعۡنٰكُمۡ وَالۡاَوَّلِيۡنَ ۞

ترجمہ:

یہ فیصلہ کا دن ہے، جس نے ہم نے تم کو اور پہلوئوں کو جمع کیا ہے۔

 

المرسلات : ٣٨ میں فرمایا : یہ فیصلہ کا دن ہے جس میں ہم نے تم کو اور پہلوں کو جمع کیا ہے۔

کفار کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کے عذاب سے ڈرانا

اس آیت میں بھی کفار کو قیامت کے دن کے عذاب اور ان کے ہونے والی شرمندگی سے ڈرایا ہے، اور اس دن کفار کے درمیان دو قسم کے فیصلے کیے جائیں گے، ایک وہ فیصلے جن کا تعلق حقوق اللہ سے ہوگا اور دوسرے وہ فیصلے ہوں گے جن کا تعلق حقوق العباد سے ہوگا، جن امور کا فیصلہ حقوق اللہ سے ہوگا ان میں کفار کے ایمان نہ لانے اور کفر پر اصرار کرنے کی سزا کا فیصلہ ہوگا اور نیک اعمال نہ کرنے اور برے کام کرنے پر سزا کا فیصلہ ہوگا۔

اور جن امور کا تعلق حقوق العباد سے ہوگا، مثلاً کسی شخص پر انہوں نے ظلم کیا ہوگا، کسی کو ناحق مارا پیٹا ہوگا یا کسی کو ناحق قتل کیا ہوگا یا کسی کا مال چھننا ہوگا یا کسی کی آبروریزی کی ہوگی تو ان مظالم کی ان کو الگ سزا دی جائے گی۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جن مشرکوں نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی تھی اور جنہوں نے آپ سے پہلے نبیوں کی تکذیب کی تھی، ان سب کو جمع کیا جائے گا اور ان کا فیصلہ کیا جائے گا اور ان کو سزا سنائی جائے گی۔

القرآن – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 38