أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا يُؤۡذَنُ لَهُمۡ فَيَـعۡتَذِرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور نہ انہیں عذر پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

 

المرسلات : ٣٦ میں فرمایا : اور نہ انہیں عذر پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

امام رازی کی طرف سے اس اعتراض کا جواب کہ کفار کو اپنا عذر پیش کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی ؟

اس آیت سے بہ ظاہر یہ وہم ہوتا ہے کہ کفار اور مشرکین کا عذر تو ہوگا لیکن ان کو عذر پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ حکمت کے خلاف ہے۔

امام محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ ھ اس اعتراض کے جواب میں لکھتے ہیں :

حقیقت میں کفار اور مشرکین کا کوئی عذر نہیں ہوگا، لیکن اوقات ان کے دماغ میں یہ فاسد خیال آئے گا کہ ان کا کوئی ٹوٹا پھوٹا عذر ہے تو ان کو اس فاسد عذر کو پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور ہوسکتا ہے کہ ان کا فاسد عذر یہ ہو کہ جب بندوں کے تمام افعال اور اعمال تیرے علم، تیری مشیت، تیری قضاء اور تیری تخلیق سے ہوتے ہیں تو پھر تو میرے ان اعمال پر مجھے سزا کیوں دے رہا ہے ؟ اور کفار کا یہ عذر فاسد ہے کیونکہ کفار اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور مملوک ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا خالق اور مالک ہے اور مالک اپنی ملکیت میں جو چاہے تصرف کرے، کسی کو اس کے تصرف پر کسی قسم کے اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے، اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللہ ِ حُجَّۃٌم بَعْدَ الرُّسُلِ (النسائ : ١٦٥ )

ہم نے خوش خبری دینے والے اور عذاب سے ڈرانے والے رسول بھیجے تاکہ رسولوں کے بھیجنے کے بعد اللہ پر لوگوں کی کوئی حجت اور الزام باقی نہ رہے۔

اور فرمایا :

وَلَوْ اَنَّآ اَہْلَکْنٰہُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِہٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَآ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَارَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰـتِکَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَنَخْزٰی۔ (طہٰ : ١٣٤)

اور اگر ہم اپنے رسول کو بھیجنے سے پہلے انہیں عذاب دے کر ہلاک کردیتے تو وہ ضرور کہتے : اے ہمارے رب ! اگر تو ہماری طرف اپنے رسول کو بھیج دیتا تو ہم تیری آیات کی اتباع کرتے، اس سے پہلے کہ ہم ذلیل اور رسوا ہوتے۔

ان آیتوں سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو اسی لیے بھیجا تھا تاکہ کفار قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی عذر اور حجت نہ پیش کرسکیں، اور رسولوں کے بھیجنے کے بعد اگرچہ یہ عذر ختم ہوگیا کہ بغیر احکام کی تبلیغ کے ان کو عذاب کیوں دیا جا رہا ہے، تاہم یہ عذر تو بہر حال باقی ہے کہ جب ان کے اعمال کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چاہیے سے پیدا کیا ہے تو پھر ان کو کیوں عذاب دیا جا رہا ہے ؟ امام رازی نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کو عذاب سے ڈرا کر ان کے عذر کو پہلے ہی زائل فرما دیا ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

فَالْمُلْقِیٰتِ ذِکْرًا۔ عُذْرًا اَوْ نُذْرًا۔ (المرسلات : ٥۔ ٦)

پھر ان فرشتوں کی قسم جو دلوں میں ذکر ڈالنے والے ہیں۔ حجت قائم کرنے کی وجہ سے یا عذاب سے ڈرانے کی وجہ سے۔

(تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٧٨، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی، بیروت)

مصنف کی طرف سے اس اعتراض کا جواب کہ کفار کو اپنا عذر پیش کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی ؟

میں کہتا ہوں : اس آیت سے کفار اور مشرکین کا یہ عذر ساقط نہیں ہوگا، وہ کہیں گے کہ بیشک تو نے عذاب سے ڈرانے کے لیے رسول بھیجے تھے اور اپنی حجت قائم کی تھی لیکن ہمارے دلوں میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوا، اس لیے ہم نے شرک اور کفر کو ترک نہیں کیا، تو اگر چاہتا تو ہمارے دلوں کو بدل ڈالتا اور ہمارے دلوں میں اپنا خوف پیدا کردیتا، پھر ہم رسولوں کے پیغام پر عمل کرتے۔ امام رازی چونکہ جبریہ کی نمائندگی کرتے ہیں اس لیے کفار کے اس شبہ کا کوئی جواب نہیں دے سکے اور نہ جبریہ کے اصول پر اس کا کوئی معقول جواب دیا جاسکتا ہے، البتہ اہل سنت کے اصول پر اس کا جواب اس طرح دیا جائے گا کہ بیشک کفار کے اعمال اور افعال کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے لیکن کفار کے ان ہی افعال کو پیدا کیا ہے جن افعال کو انہوں نے چاہا اور ان کا ارادہ کیا، اگر وہ اللہ پر ایمان لاتے اور اس کی اطاعت کا ارادہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں اس کو پیدا کردیتا، لیکن انہوں نے کفر اور شرک کا ارادہ کیا تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان میں کفر اور شرک کو پیدا کردیا اور اسی ارادہ اور اختیار کی بناء پر ان کو عذاب دیا جا رہا ہے، لہٰذا کفار اور مشرکین کا اللہ تعالیٰ کے سامنے کوئی صحیح عذر نہیں ہوگا اور اس فاسدذ عذر کو پیش کرنے کی انہیں اجازت نہیں دی جائے گی۔

اب رہا یہ اعتراض کہ مان لیا کہ کفار کا عذر فاسد تھا لیکن اس کے باوجود انہیں موقع تو دینا چاہیے تھا تاکہ وہ اپنا عذر بیان کرتے، پھر ان کے عذر کے فساد کو بیان کردیا جاتا، اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں ان کے پاس رسول بھیجے اور عبادت کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اختیار دیا ہے اور وہ مجبور محض نہیں ہیں، لیکن انہوں نے اپنے اختیار سے رسولوں کی اطاعت کرنے کے بجائے شیطان کی اطاعت کرنے کو اختیار کیا، سو اب اگر آخرت میں وہ اس عذر کو پیش کرتے بھی تو کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ اس کا جواب تو ان پر دنیا میں ہی واضح ہوچکا تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس خاص موقع پر جب دوزخ کے محافظ ان سے کہیں گے کہ چلو اس دھوئیں کے سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے، اس وقت وہ بات نہیں کرسکیں گے اور نہ انہیں عذر پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی کیونکہ یہ وقت ان کی سزا کے نفاذ کا ہوگا لیکن اس سے پہلے پورے روز قیامت میں تو وہ باتیں کریں گے اور اپنے متعدد عذر بھی پیش کریں گے حتیٰ کہ حساب کے وقت وہ یہ بھی کہیں گے :

وَ اللہ ِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ (الانعام : ٢٣) اللہ کی قسم ! اے ہمارے رب ! ہم شرک کرنے والے نہ تھے۔

 

القرآن – سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 36