کتاب العلم باب 40 حدیث نمبر 115
٤٠ – بَابُ الْعِلْمِ وَالْعِظَةِ بِاللَّيْلِ
رات کو علم کی بات اور نصیحت کرنا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں علم کی باتوں کو لکھنے کا بیان تھا، جو علم کو منضبط کرنے اور اس میں کوشش کرنے پر دلالت کرتا ہے اور یہ باب رات کو علم کی تعلیم اور تعلم پر دلالت کرتا ہے اور اس کے لیے بھی منضبط کرنے اور کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔
١١٥ – حَدَّثَنَا صَدَقَةٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ،عن مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدٍ، عَنْ أَمِّ سَلَمَةَ وَ عَمْرِو وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِي عَنْ هِنْدٍ، عَنْ امِ سَلَمَةَ قَالَتْ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ سُبْحَانَ اللهِ مَاذَا أُنزِلَ اللَّيْلَةَ مِنَ الْفِتَنِ وَمَاذَا فُتِحَ مِنَ الْخَزَائِنِ ایقظُوا صَوَاحِبَ الْحُجَرِ فَرُبَّ كَاسِيَةٍ فِي الدُّنْيَا عَارِيَةٌ فِي الْآخِرَةِ.
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں صدقہ نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: ہمیں ابن عیینہ نے خبر دی از معمر از زہری از ھند از ام سلمه و عمرو و یحی بن سعید از زهری از هند از ام سلمه رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ نے فرمایا: سبحان الله ! آج رات کیا کیا فتنے نازل کیے گئے ہیں! اور کیا کیا خزانے کھولے گئے ہیں، حجروں والیوں کو بیدار کرو بہت سی عورتیں جو دنیا میں ملبوس ہوتی ہیں، آخرت میں برہنہ ہوں گی۔
اطراف الحدیث:۱۱۲۶- ۳۵۹۹- ۵۸۴۴ – ۶۲۱۸ ۶۹ ۷۰
سنن ترمذی : 2196 مصنف عبد الرزاق : ۲۰۷۴۸ المعجم الكبير ج ۲۳ ص 836 شعب الایمان : ۱۰۴۸۹ مسند ابو یعلی : 6988 المعجم الاوسط : ۹۲۰۰ مسند الشامیین : ۳۲۲۵ شرح السنتہ : ۹۲۱ مسند الحمیدی : ۲۹۲ صحیح ابن حبان : ۶۹۱ مسند احمد ج 6 ص ۲۹۷ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۶۵۴۴ – ج ۴۴ ص ۱۶۷ مؤسسة الرسالة بیروت)
اس باب کے عنوان میں دو امور ذکر کیے گئے ہیں:
(۱) علم اور نصیحت کرنا۔ اس کی مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: آج رات کیا کیا فتنے نازل کیے گئے ہیں۔
(۲) رات کو نصیحت کرنا۔ اس کی مطابقت حدیث کے اس جملہ میں ہے: حجروں والیوں کو بیدار کرو۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
(۱) صدقہ بن فضل المروزی ابو الفضل ائمہ ستہ میں سے صرف امام بخاری نے ان سے احادیث روایت کی ہیں یہ حافظ اور امام تھے ۲۲۳ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔
(۲) سفیان بن عیینه۔
(۳) معمر بن راشد۔
(۴) محمد بن مسلم الزہری۔
(۵) عمرو بن دینار۔
(۲) یحیی بن سعید انصاری ان سب کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۷) ھند بنت الحارث الفراسیہ، یہ معبد بن المقداد کی زوجہ تھیں امام مسلم کے علاوہ باقی ائمہ ستہ نے ان سے روایت کی ہے۔
(۸) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ان کا نام ہند ہے، ایک قول ہے: ان کا نام رملہ ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور ابو امیہ حذیفہ کی بیٹی ہیں یہ پہلے حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں وہ فوت ہو گئے تو پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کرلیا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ۳۷۸ احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ان سے ۱۳ احادیث پر متفق ہیں، انہوں نے حبشہ اور مدینہ کی طرف ہجرت کی ہے ابو سلمہ کے نکاح میں ان سے زینب پیدا ہوئیں، پھر ان کے بعد سلمہ عمر اور درہ کی ولادت ہوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال 4ھ میں ان سے نکاح کیا یہ ۵۹ھ میں فوت ہو گئیں وفات کے وقت ان کی عمر ۸۴ سال تھی حضرت ابوہریرہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی، البقیع میں ان کو دفن کیا گیا، ان سے بہت بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں۔
(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۶۰)
اس امت میں واقع ہونے والے بعض فتنے
اس حدیث میں فرمایا ہے: آج رات کیا کیا فتنے نازل کیے گئے ہیں اور کیا کیا خزانے کھولے گئے ہیں ! اس کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات خواب دیکھا اور اس میں آپ نے وہ فتنے دیکھے، جو آپ کے بعد واقع ہوں گے اور آپ نے وہ خزانے دیکھے جو آپ کی امت کے لیے کھولے جائیں گے اور بیدار ہونے کے بعد آپ پر اس کی حقیقت منکشف ہوئی’ آپ کے بعد جو فتنے ہوئے وہ مشہور ہیں، جیسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قتل، جنگ جمل اور جنگ صفین اور جنگ نہروان، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی شہادت اس کے بعد کعبہ کو جلایا جانا اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی شہادت اس کے بعد ۳۳۹ھ میں قرامطہ کعبہ پر حملہ آور ہوئے اور حجر اسود اکھاڑ کر لے گئے جو ۲۲ سال تک ان کے پاس رہا اور انہوں نے بہ کثرت حجاج کو شہید کیا ۶۳۳ھ میں تاتاریوں نے بغداد پر حملہ کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو شہید کر دیا اس کے بعد اب تک مسلمان فتنوں کی زد میں ہیں۔
نیز اس حدیث میں فرمایا: حجروں والیوں کو جگاؤ اس سے مراد ازواج مطہرات ہیں نیز اس میں فرمایا : جو دنیا میں ملبوس ہوں گی وہ آخرت میں برہنہ ہوں گی اس کا معنی یہ ہے کہ جو دکھاوے کے اعمال کریں گی وہ آخرت میں بے عمل ہوں گی۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ شوہر کو چاہیے کہ وہ عبادت کے لیے رات کو اپنی بیوی کو اٹھائے۔