أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الۡمُتَّقِيۡنَ فِىۡ ظِلٰلٍ وَّعُيُوۡنٍۙ ۞

ترجمہ:

بیشک متقین (ٹھنڈے) سایوں اور چشموں میں ہوں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک متقین ( ٹھنڈے) سایوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اور لذیر پھلوں میں سے جن کو وہ چاہیں گے۔ ( ان سے کہا جائے گا :) خوشی کے ساتھ کھائو اور پیو ان نیک اعمال کی وجہ سے جن کو تم کرتے تھے۔ ہم نیک کام کرنے والوں کی اسی طرح نیک جزا دیتے ہیں۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ ( المرسلات : ٤٥۔ ٤١ )

جس طرح کسی شخص کے لیے اس کی سزا باعث رنج اور ذلت ہوتی ہے، اسی طرح اس شخص کے لیے اس کے مخالفوں اور دشمنوں پر انعام و اکرام بھی رنج اور ذلت کا سبب ہوتا ہے، کفار کو قیامت کے دن جو عذاب دیا جائے گا وہ ان کے لیے رنج اور ذلت کا باعث ہوگا، اسی طرح مؤمنین پر جو آخرت میں انعام و اکرام ہوگا وہ بھی ان کے لیے رنج اور ذلت کا باعث ہوگا، اس سے پہلی آیتوں میں قیامت کے دن کفار کا عذاب بیان فرمایا تھا اور اب اس رکوع کی آیتوں میں قیامت کے دن مؤمنوں پر اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کا ذکر ہے اور یہ بھی کفار کے لیے سوہان روح ہے، جس طرح ان کے لیے عذاب تکلیف اور رنج کا باعث ہے، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر انعام و اکرام کے ذکر کے بعد فرمایا : اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔

متقین کے مصداق میں اللہ کی اطاعت اور عبادت کو نہ داخل کرنے پر امام رازی کے دلائل

المرسلات : ٤١ میں ” متقین “ کا لفظ ہے اور امام رازی کی تحقیق یہ ہے کہ متقی کا مصداق وہ شخص ہے جو صرف شرک اور کفر کی تمام اقسام کو ترک کرنے والا ہو اور اس کے مصداق میں ہر قسم کے گناہوں کو ترک کرنا اور اللہ کی اطاعت کرنا داخل نہیں ہے، امام رازی کی دلیل یہ ہے کہ جو شخص شرک اور کفرکو ترک کرنے والا ہو، اس پر متقی کا لفظ صادق آئے گا۔ امام رازی کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اس سورة المرسلات میں شروع سے لے کر یہاں تک صرف شرک اور کفر کی مذمت کی ہے، اس لیے اس آیت میں جو متقین پر انعام و اکرام کا ذکر فرمایا ہے، اس کی وجہ بھی صرف متقین کا ایمان ہونا چاہیے اور اگر اس آیت میں متقین سے مرادشرک اور کفر کے ترک کے علاوہ معاصی کے ترک کرنے اور اطاعت اور عبادت کو بھی مراد لیا جائے تو اس سورت کی نظم اور ترتیب میں خلل ہوجائے گا، پس ثابت ہوگیا کہ متقین سے مراد وہ لوگ ہیں جو صرف کفر اور شرک کو ترک کرنے والے ہیں۔ امام رازی کی تیسری دلیل یہ ہے کہ لفظ کو اس کے کامل مصداق پر محمول کرنا چاہیے اور متقین کا کامل مصداق وہ لوگ ہیں جو شرک اور کفر کو شرک کرنے والے ہیں، لہٰذا متقین کے لفظ کو ان ہی لوگوں پر محمول کرنا اولیٰ ہے۔

( تفسیر کبیر ج ١٠ ص ٧٨٠، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)

متقین کے مصداق میں اللہ کی اطاعت اور گناہوں سے اجتناب کو داخل کرنے پر مصنف کے دلائل

ہمارے نزدیک متقی کا مصداق وہ شخص ہے جو کفر و شرک کے علاوہ گناہ ہائے کبیرہ کو بھی ترک کرنے والا ہو، اور اللہ تعالیٰ نے اجر وثواب کی جو بشارتیں دی ہیں وہ ان ہی متقین کے لیے ہیں اور صرف کفر و شرک کو ترک کرنے سے اور گناہوں کا ارتکاب کرتے رہنے سے انسان ان بشارتوں کا مستحق نہیں ہوتا، الایہ کہ وہ مرنے سے پہلے اپنے گناہوں سے توبہ کرے یا اللہ اس کو اپنے فضل محض سے معاف فرما دے۔ گناہوں کو ترک کیے بغیر ان بشارتوں کا مستحق ماننا مرجئہ کا مذہب ہے اور امام رازق بھی مرجئہ کے مخالف ہیں اور ان کا رد کرتے ہیں، ہمارے نزدیک متقین کے مصداق میں گناہوں کا ترک کرنا داخل ہے، اس کی دلیل یہ آیات ہیں :

فَاَمَّا مَنْ طَغٰی۔ وَاٰثَرَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا۔ فَاِنَّ الْجَحِیْمَ ہِیَ الْمََاْوٰی۔ وَاَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی۔ فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاْوٰی۔ (النازعات : ٣٧۔ ١٤)

سو جس شخص نے سرکشی کی۔ اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی۔ تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ اور جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتا رہا اور اپنے نفس کی خواہش سے روکے رکھا۔ تو اس کا ٹھکانہ جنت ہی ہے۔

ان آیات سے معلوم ہوا ہے کہ جنت کے انعام کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس کو خواہشات سے روکے اور جو شخص اپنے نفس کی خواہشوں پر عمل کرکے گناہ کبیرہ کرتا رہا اور بغیر توبہ کیے مرگیا، وہ جنت کے انعام کا مستحق نہیں ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ متقین کے مصداق میں گناہ ہائے کبیرہ کا ترک کرنا بھی مراد لیا جائے۔ ہماری دوسری دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے :

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ۔ (الزلزال : ٧۔ ٨)

سو جس شخص نے رائی کے دانے کے برابر بھی نیکی کی وہ اس کی جزاء پائے گا۔ اور جس شخص نے رائی کے دانے کے برابر بھی برائی کی وہ اس کی سزا پائے گا۔

اس آیت کا تقاضا یہ ہے کہ جو شخص کفر اور شرک سے مجتنب رہا، اس کے باوجود گناہوں میں ملوث رہا تو وہ اپنے گناہوں کی سزاپائے گا اور اس کے لیے جنت کی بشارتیں نہیں ہیں، الایہ کہ وہ مرنے سے پہلے توبہ کرلے یا اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل محض سے معاف فرما دے یا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی شفاعت فرما دیں، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے : میں اپنی امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کی شفاعت کروں گا۔ ( سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٧٣٩، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٤٣٦، مسند احمدج ٣ ص ٢١٣)

لیکن ایسا شخص بہر حال گناہ ہائے کبیرہ کا مرتکب ہوگا متقی نہیں ہوگا، متقی وہ شخص ہوتا ہے جو کفر اور شرک کو ترک کرنے والا ہو اور اس کے علاوہ نیک اعمال سے متصف ہو اور کبائر سے مجتنب ہو اور اس پر واضح دلیل قرآن مجید کی یہ آیات ہیں :

لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰـکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِ اللہ ِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِکَۃِ وَالْکِتٰبِ وَالنَّبِیّٖنَج وَاٰتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہٖ ذَوِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآئِلِیْنَ وَفِی الرِّقَابِج وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَہْدِہِمْ اِذَا عٰـہَدُوْاج وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآئِ وَالضَّرَّآئِ وَحِیْنَ الْبَاْسِط اُولٰٓـئِکَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاط وَاُولٰٓـئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ ۔ (البقرہ : ١٧٧)

( اصل) نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو، لیکن ( اصل) نیکی اس شخص کی ہے، جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت پر اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال سے اپنی محبت کے باوجود ( اللہ کے حکم، سے) رشتہ داروں اور یتیموں، مسکینوں، مسافروں، سوالیوں اور غلام آزاد کرانے کے لیے خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں، اور تکلیف اور سختی میں صبر کرنے والے، یہی لوگ سچے ( مؤمن) ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَکَّرُوْا فَاِذَا ہُمْ مُّبْصِرُوْنَ ۔ (الاعراف : ٢٠١)

بے شک جو لوگ متقی ہیں جب شیطان ان کی برائی پر اکسانا ہے تو وہ اللہ کو یاد کرتے ہیں پھر ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔

البقرہ : ١٧٧ سے معلوم ہوا کہ متقین وہ ہیں جو ایمان لانے کے بعد نیک کام کرتے ہیں اور الاعراف : ٢٠١ سے معلوم ہوا کہ متقین گناہوں سے باز رہتے ہیں۔

متقین کے مصداق میں اطاعت اور عبادت کو داخل نہ کرنے پر امام رازی کے دلائل کے جوابات

امام رازی کی پہلی دلیل یہ ہے کہ جو شرک اور کفر کو ترک کرنے والا ہو، اس پر متقی کا لفظ صادق آئے گا، ہم کہتے ہیں کہ بیشک لغوی طور سے اس پر متقی کا لفظ صادق آئے گا لیکن قرآن کی اصطلاح میں اس پر متقی کا لفظ صادق نہیں آئے گا کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں متقی وہ شخص ہے جو ایمان کے ساتھ ساتھ اطاعت اور عبادات بھی کرے اور کبیرہ گناہوں سے باز رہے، جیسا کہ البقرہ : ١٧٧ اور الاعراف : ٢٠١ سے واضح ہوچکا ہے اور قرآن مجید کی آیات اور سورتوں میں تعارض نہیں ہے کہ ایک سورت میں متقی سے مراد ایمان مع اطاعت ہو اور دوسری رات میں متقی سے مراد مجرد ایمان ہو، اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے کا یہ معیار بتایا ہے کہ اس میں اختلاف اور تعارض نہیں ہے، ارشاد فرمایا :

افَـلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَط وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللہ ِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلَافًا کَثِیْرًا۔ (النسائ : ٨٢)

کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے، اگر یہ قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ ضرور اس میں بہت اختلاف ( اور تعارض) پاتے۔

امام رازی کی دوسری دلیل یہ ہے کہ سورة المرسلات کی اس سے پہلے کی تمام آیات میں فرمایا ہے کہ کفار کو صرف تکذیب کرنے کی وجہ سے عذاب ہوگا، اس کا تقاضا یہ ہے کہ متقین کو صرف تصدیق کرنے کی وجہ سے جنت دی جائے، ہم کہتے ہیں کہ کفار کو عذاب صرف توحید کی تکذیب کی وجہ سے نہیں ہوگا بلکہ عبادات نہ کرنے کی وجہ سے بھی عذاب ہوگا، جیسا کہ ان آیات میں ہے :

فِیْ جَنّٰتٍ یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ مَا سَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ۔ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنََ ۔ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ (المدثر : ٤٠۔ ٤٤ )

جتنی جنتوں میں ایک دوسرے سے بوجھ رہے ہوں گے۔ مجرموں کے متعلق۔ تم کو دوزخ میں کس جرم نے داخل کیا ؟۔ وہ کہیں گے : ہم نمازیوں میں سے نہ تھے۔ اور نہ ہم مسکین کو کھانا کھلاتے تھے۔

اس لیے کفار کی تکذیب کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ صرف اللہ تعالیٰ کی توحید کی تصدیق نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کا معنی ہے : وہ اس کی توحید کی بھی تکذیب کرتے تھے اور اس کے احکام کی بھی عملاً تکذیب کرتے تھے اور جب اس کے مقابلہ میں متقین کو جنت کی نعمتیں دینے کا ارشاد ہوگا تو اس آیت میں متقین سے مراد وہ لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی توحید کی قولاً تصدیق کرتے ہوں اور اس کے احکام کی عملاً تصدیق کرتے ہوں یعنی متقین وہ ہیں جو کفر و شرک کو ترک کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرنے والے ہوں اور اس کی نافرمانی کرنے سے باز رہنے والے ہوں، امام رازی نے فرمایا ہے : اگر مومن سے ثواب کے وعدہ کو اس کی اطاعت کے ساتھ مقید کیا جائے تو وہ اس سورت کی نظم کے موافق نہیں ہے، کیونکہ اس سورت میں اس سے پہلے کفار کے کفر پر مذمت کی گئی، لہٰذ امتقین کا ثواب بھی صرف ایمان کی وجہ سے ہونا چاہیے، ہم کہتے ہیں کہ خواہ ظاہری طور پر ایسا ہو لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے، ہم بتا چکے ہیں البقرہ : ١٧٧ میں فرمایا جا چکا ہے : جو نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں، اپنے وعدہ کو پورا کریں اور تکلیف اور سختی میں صبر کریں، یہی لوگ سچے ( مؤمن) ہیں اور یہی لوگ متقی ہیں اور قرآن مجید میں اختلاف اور تعارض نہیں ہے کہ کہیں کچھ مراد ہو اور کہیں کچھ اور مرد ہو، جب کہ ہم کہتے ہیں کہ سورة المرسلات میں کفار کے صرف کفر پر مذمت نہیں ہے بلکہ ان کی تکذیب کی مذمت ہے اور کفار قولاً اللہ تعالیٰ کی توحید کی تکذیب کرتے تھے اور عملاً اس کے احکام کی تکذیب کرتے تھے، لہٰذا مومن سے وعدہ ثواب کو ایمان کے ساتھ اطاعت سے بھی مقید کیا جائے تو یہ اس سورت کی نظم کے بھی مطابق ہے مخالف نہیں ہے۔

امام رازی کی تیسری دلیل یہ ہے کہ لفظ کو اس کے کامل مصداق پر محمول کرنا چاہیے اور متقی کا کامل مصداق وہ شخص ہے جو کفر اور شرک کو ترک کرنے والاہو، لہٰذا متقی سے مراد کفر و شرک کو ترک کرنے والا مراد لینا اولیٰ ہے۔

ہم کہتے ہیں : نہیں متقی کا کامل مصداق وہ شخص ہے جو کفر و شرک کو بھی ترک کرنے والا ہو اور گناہ ہائے کبیرہ کو بھی ترک کرنے والا ہو اور اس کے تمام احکام کی اطاعت کرنے والا ہو اور اس کی تمام عبادات کو بجا لانے والا ہو اور ایسے متقی کے لیے ہی اللہ تعالیٰ نے جنت کی تمام نعمتیں عطاء کرنے کا وعدہ فرمایا ہے، نیز اگر صرف کفر اور شرک کو ترک کرنے کی وجہ سے جنت کی نعمتیں مل جائیں، وہ ٹھنڈے سایوں اور چشموں میں ہوں، وہ حسب منشاء لذیذ پھل حاصل کریں، خوشی کے ساتھ کھائیں اور پئیں تو جو متقین شرک اور کفر کو ترک کرنے کے ساتھ اس کی اطاعت اور عبادت بھی کرتے ہیں اور اس کی نافرمانی سے باز رہتے ہیں، ان کے لیے کیا انعام ہوگا ؟ جن نعمتوں کا یہاں ذکر ہے انسان کو ان سے بڑھ کر اور کیا نعمت چاہیے، پھر وہ کیوں مشکل احکام کی اطاعت کرے اور عبادت کی مشقت میں پڑے اور کیوں اپنی نفسانی خواہشوں کی مخالف کرے، جنت کی نعمتیں تو اس کو اس مشقت کے بغیر بھی مل جائیں گی۔

المرسلات : ٤٣ اور ٤٤ سے متقین کے مصداق میں اطاعت اور عبادت کے دخول کا ثبوت

اگر امام رازی المرسلات : ٤٣ پر غور فرما لیتے تو کبھی یہ بات نہ کہتے، اللہ تعالیٰ نے متقن کے لیے جن نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے اس میں یہ آیت ہے کہ متقین سے فرمایا جائے گا :

کُلُوْا وَاشْرَبُوْا ھَنِٓیْئًام بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (المرسلات : ٤٣ )

خوشی کے ساتھ کھائو اور پیو ان نیک اعمال کی وجہ س جو تم کرتے تھے۔

اس آیت میں صراحتہً نیک اعمال کا ذکر ہے کہ متقین کو یہ نعمتیں ان کے نیک اعمال کی وجہ سے ملیں گی، لہٰذا ضروری ہوا کہ متقی کے مصداق میں ایمان کے ساتھ نیک اعمال کا بھی اعتبار کیا جائے۔

اسی طرح المرسلات : ٤٤ سے بھی واضح ہوجاتا ہے کہ متقین سے مراد وہ مؤمنین ہیں جو نیک عمل کرتے تھے، متقین کے متعلق کہا جائے گا۔

اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ (المرسلات : ٤٤) ہم نیک کام کرنے والوں کو اسی طرح نیک جزا دیتے ہیں۔

اس آیت میں متقین کے متعلق فرمایا ہے کہ وہ محسنین ہیں یعنی احسان کرنے والے اور احسان کرنے والوں کی تفسیر حدیث میں اس طرح ہے :

حضرت جبریل نے کہا : مجھے بتایئے احسان کی کیا تعریف ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

ان نعبد اللہ کا نک تراہ فان لم تراہ فانہ براک۔

تم اللہ کی طرح عبادت کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم اس کو نہ دیکھ سکو تو بیشک وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٠ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٠۔ ٩۔ ٨، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٥٩٥، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٦١٠، سنن نسائی رقم الحدیث ٢٩٩٠، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٤ )

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہم ان متقین کو ایسی جزا دیں گے جیسا کہ ان کی اطاعت کی جزاء کو ہم نے دنیا میں بیان فرمایا تھا، اسی طرح اہل احسان نے جو ہماری اطاعت کی ہے، ہم ان کو جزاء اور ثواب دیں گے اور انہوں نے دنیا میں جو ہماری بہ طریق احسان (یعنی خوب اچھی) عبادت کی ہے ہم ان کو ایسی جزا دیں گے اور آخرت میں ان کے اجر کو ہم ضائع نہیں کریں گے۔

(جامع البیان جز ٢٩ ص ٢٠٣، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے متقی کو محسن فرمایا کیونکہ اس نے متقین کے ذکر سے ابتداء کی تھی اور یہ ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے کیا نعمتیں تیار کی ہیں، پھر یہ خبر دی کہ یہ ان کے احسان یعنی خوب اچھی عبادت کرنے کی جزا دی گئی ہے اور اس میں یہ دلیل ہے کہ جب متقی کے لفظ کو بغیر کسی قید کے ذکر کیا جائے تو اس سے مراد ہوتا ہے، محاسن کرنے والے یعنی خوب اچھی عبادت کرنے والے اور ” مھالک “ یعنی کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرنے والے۔ ( تاویلات اہل النسۃ ج ٥ ص ٣٦٢، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون، ١٤٢٥ ھ)

ان عبارات سے آفات سے زیادہ روشن ہوگیا کہ متقین کے مصداق وہ لوگ ہیں جو کفرو شرک کو، اور گناہ ہائے کبیرہ کو ترک کریں اور نہایت اچھے طریقہ سے عبادت کریں، نہ وہ صرف کفر اور شرک کو ترک کریں خواہ کبیرہ گناہوں کو ترک نہ کریں اور اطاعت اور عبادت نہ کریں۔

امام رازی بہت بڑے نکتہ آفریں مفسر ہیں، ہم ان کے تفسیری نکات سے بہت استفادہ کرتے ہیں لیکن اس جگہ ہم خود کو ان سے متعلق نہ کرسکے، اللہ تعالیٰ امام رازی کے درجات بلند فرمائے یقینا اس نکتہ آفرینی سے ان کی مراد مرجئہ کے مذہب کی تایید نہیں تھی اور وہ مرجئہ کے اس قول کے مخالف ہیں کہ ایمان لانے کے بعد نیک اعمال کرنے کی ضرورت ہے نہ برے اعمال کو ترک کرنے کی۔

متقین کے مصداق میں اطاعت اور عبادت کے دخول پر دیگر مفسرین کی تصریحات

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ المرسلات : ٤١ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو لوگ دنیا میں فرائض ادا کر کے اور گناہوں سے اجتناب کر کے اللہ کے عذاب سے بچتے ہیں ( یعنی متقین) وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سایوں میں ہوں گے، ان کو اس دن کی گرمی اور تکلیف نہیں پہنچے گی، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کا کفر کرنے والے ہیں وہ تین شاخوں والے دھوئیں میں ہوں گے اور متقین ایسے چشموں میں ہوں گے جو جنت کے درختوں کے نیچے بہہ رہے ہوں گے اور ان کا جب دل چاہے گا وہ جنت کے درختوں کے پھل کھائیں گے اور ان کے ان پھلوں کے کھانے سے کسی نقصان کا خطرہ نہیں ہوگا۔

ور المرسلات : ٤٢ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

ان متقین سے کہا جائے گا : تمہارا جب دل چاہے ان پھلوں میں سے کھائو اور ان چشموں سے پیو اور ان چیزوں کو کھانے اور پینے سے تمہیں نہ کوئی تکذر اور اکتاہٹ ہوگی نہ رکاوٹ ہوگی اور تم ہمیشہ ان کو کھاتے رہو گے اور ان کو کھانے اور پینے سے تم کو کبھی کوئی ضرر نہیں ہوگا، تم کو یہ جزا اس لیے دی گئی ہے کہ تم دنیا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے بہت جدوجہد کرتے تھے۔ ( جامع البیان جز ٢٩ ص ٣٠٣۔ ٣٠٢، دارالفکر، بیرو ت، ١٤١٥ ھ)

امام ابو منصور محمد بن محمد ماتریدی سمر قندی حنفی متوفی ٣٣٣ ھ المرسلات : ٤١ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

متقین کا مصداق وہ لوگ ہیں جو اقوال کے ساتھ تصدیق کرتے ہیں اور اعمال سے ان اقوال کو یقینی بناتے ہیں، پس متقی وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو بری صحت سے بچاتا ہے، سو اللہ تعالیٰ اس کی جزاء میں اس کو قیامت کے دن کے شر سے بچائے گا اور محسن وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے ساتھ خوب اچھی مصاحبت کرتا ہے تو اللہ اس کی آخرت کو خوب اچھا کرتا ہے اور اس کو سائیوں، چشموں اور پھلوں کے عزت و کرامت والے مقام میں ٹھہراتا ہے اور متقی وہ ہے جو اپنے نفس کو ( گناہوں کی) ہلاکت سے بچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے عذاب سے بچاتا ہے اور محسن وہ ہے جو اپنے نفس کے ساتھ احسان کرتا ہے اور اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں استعمال کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسکے ساتھ احسان کرتا ہے اور اس پر سایوں اور چشموں کا انعام فرماتا ہے (اللہ تعالیٰ نے متقین المرسلات : ٤٤ میں محسنین بھی فرمایا ہے) ( تاویلات اہل السنۃ ج ٥ ص ٣٦٢، مؤسسۃ الرسالۃ، ناشرون : ١٤٢٥ ھ)

علامہ ابو اللیث نصر بن محمد سمر قندی حنفی متوفی ٧٥ ھ متقین کی تعریف میں لکھتے ہیں :

یعنی ان الذین یتقون الشرک والفواحش (بحر العلوم ج ٣ ص ٤٣٧، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤١٣ ھ)

یعنی جو لوگ شرک اور بےحیائی کے کاموں سے اجتناب کرتے ہیں۔

حافظ اسماعیل بن عمرو مشقی متوفی ٧٧٤ ھ، المرسلات : ٤١ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ اپنے ان متقین بندوں کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے : جنہوں نے واجبات کو ادا کر کے اور محرمات کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی کہ وہ قیامت کے دن جنتوں اور چشموں میں ہوں گے، اس کے بر خلاف مشرکین سیاہ اور بدبو اور دھوئیں میں ہوں گے۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ٥٠٩، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)

علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ، المرسلات : ٤٤ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

جن لوگوں نے احسان کے ساتھ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور دنیا میں نیک اعمال کیے، ہم ان کو ثواب عطاء کریں گے۔ (الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ١٤٥، دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٤ ھ، المرسلات : ٤٣ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

جو متقین سایوں اور چشموں میں تھے، ان سے کہا گیا کہ تم خوشی سے کھائو اور پیو کیونکہ تم دنیا میں ایمان کے ساتھ صالح عمل کرتے تھے۔

علامہ آلوسی المرسلات : ٤٤ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں ” المحسنین “ ہیں جن کا المرسلات میں : ٤١ میں ذکر آچکا ہے، صفت احسان کے ساتھ ان کی مدح کی وجہ سے ان کی طرف ضمیر نہیں لوٹائی بلکہ صراحۃً محسنین کا ذکر فرمایا، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ ان کو یہ انعام و اکرام ان کے نیک کاموں کی وجہ سے دیا گیا ہے، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ متقین اور محسنین سے مراد مؤمنین صالحین ہوں اور اس آیت میں معتزلہ کے اس قول کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ مرکب کبیرہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں، زیادہ سے زیادہ کہا جاسکتا ہے کہ اس آیت میں ان کا ذکر نہیں ہے۔

علامہ آلوسی المرسلات : ٤٥ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ کیونکہ ان کے دشمن اور مخالف اس ثواب عظیم کو پائیں گے اور وہ عذاب الیم میں برقرار رہیں گے۔ ( روح المعانی جز ٢٩ ص ٣٠٦، دارالفکر، بیروت، ١٤١٩ ھ)

جن مفسرین نے بغیر غور و فکر کے امام رازی کی تقلید میں متقین کے مصداق سے اطاعت۔۔۔۔۔۔ اور عبادت کو خارج کیا

علامہ اسماعیل حقی البروسی المتوفی ١١٣٧ ھ، المرسلات، ٤١ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

المتقین سے مراد ہے : جو کفر اور تکذیب سے اجتناب کرنے والے ہوں کیونکہ یہ لفظ مکذبین کے مقابلہ میں ہے۔

(روح البیان ج ١٠ ص ٣٤١، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ٤١٢١ ھ)

علامہ اسماعیل بن محمد الحنفی القونوی المتوفی ١١٩٥ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں تقویٰ کا پہلا مرتبہ مراد ہے اور وہ شرک سے اجتناب کرنا ہے، اس پر قرینہ یہ ہے کہ المتقین، المکذبین کے مقابلہ میں ہے، پس متقین کا مصداق نافرمان موحدین کو بھی شامل ہے اگرچہ ان کے درجات میں فرق ہے، اور ان متقن کا ثواب سایوں میں ہے۔ ( حاشیہ القونوی علی البیضاوی ج ١٩ ص ٢٦ ھ، دارالکتب العلمیہ، بیروت، ١٤٢٢ ھ)

سید ابو الاعلیٰ مودودی المرسلات : ٤١ میں متقین کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

چونکہ یہ لفظ یہاں مکذبین ( جھٹلانے والوں) کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے، اس لیے متقیوں سے مراد اس جگہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخرت کو جھٹلانے سے پرہیز کیا اور اس کو مان کر دنیا میں یہ سمجھتے ہوئے زندگی بسر کی کہ ہمیں آخرت میں اپنے اقوال و افعال اور اپنے اخلاق و کردار کی جواب وہی کرنی ہوگی۔ (تفہیم القرآن ج ٦ ص ٢١٦، ادارہ ترجمان القرآن، لاہور، ١٤١١ ھ)

ہر چند کہ سید مودودی نے اخیر میں یہ قید لگا دی ہے کہ انہوں نے دنیا میں اس انداز سے زندگی بسر کی ( الخ) لیکن انہوں نے متقین کو بہ ہرحال مکذبین کا مقابل قرار دیا ہے اور اس میں نیک اعمال کی قید نہیں لگائی۔

ان مفسرین کے رو کے وہی دلائل ہیں جو ہم امام رازی کے دلائل کے جواب میں پیش کرچکے ہیں۔

متقین کے مصداق کے بارے میں مصنف کے مؤقف پر ایک اعتراض کا جواب

ہو سکتا ہے کہ ہماری تقریر پر یہ اعتراض ہو کہ امام رازی نے جو متقین کے مصداق سے گناہوں سے احتراز اور اطاعت کو خارج کیا ہے یہ صحیح ہے کیونکہ جو مومن گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو اور اس نے اطاعت اور عبادت نہ کی ہو وہ بھی ابتداء بخشا جائے اور جنت میں چلا جائے اور وہ سایوں اور چشموں میں ہوا اور اپنے پسندیدہ پھلوں میں ہو اور اس سے کہا جائے کہ خوشی سے کھائو اور پیو تو اس میں امام رازی نے کوئی غلط بات نہیں کہی، یہ توعین اہل سنت و جماعت کے مذہب کے مطابق ہے، کیونکہ معتزلہ یہ کہتے ہیں کہ جو مومن مرتکب کبیرہ بغیر توبہ کے مرگیا، وہ لازماً دوزخ میں داخل ہوگا اور ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور اس کے مقابلہ میں اہل سنت و جماعت یہ کہتے ہیں کہ مومن مرتکب کبیرہ کو بخش دیا جائے گا اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کو ابتداء اپنے فضل سے جنت میں داخل فرماے دے گا اور ان کا استدلال قرآن مجید کی حسب ذیل آیات سے ہے :

اِنَّ اللہ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ (النسائ : ٤٨ )

بے شک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ قید نہیں لگائی کہ شرک سے کم گناہ کو وہ اس کے لیے بخشے گا جو اس پر مرنے سے پہلے توبہ کرلے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ مرتکب کبیرہ خواہ تو بہ نہ کرے، اللہ تعالیٰ اس کو چاہے گا تو بخش دے گا، اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا ہے :

وَاِنَّ رَبَّکَ لَذُوْ مَغْفِرَۃٍ لِّلنَّاسِ عَلٰی ظُلْمِہِمْج وَاِنَّ رَبَّکَ لَشَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ (الرعد : ٦)

اور بیشک آپ کا رب لوگوں کو ان کے گناہوں کے باوجود بخشنے والا ہے اور بیشک آپ کا رب سخت سزا دینے والا ہے۔

اس آیت کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو عین حالت معصیت میں بھی بخش دیتا ہے، تو پھر امام رازی نے متقین کے مصداق میں اگر گناہوں سے اجتناب اور اطاعت و عبادت کرنے کی قید نہیں لگائی تو وہ ان آیات مبارکہ اور اہل سنت کے نظریہ کے مطابق ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو مرتکب کبیرہ کو اس کے گناہوں کے باوجود اور اس کی توبہ کے بغیر بخش دے گا اور وہ ابتداء جنت میں چلا جائے گا اور سایوں، چشموں اور پسندیدہ پھلوں میں رہے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ خوشی سے کھائو اور پیو۔

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ٹھیک ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو اس کو گناہوں کے باوجود اس کی توبہ کے بغیر بخش دے گا اور جنت میں بھیج دے گا، لیکن وہ بہ ہرحال مرتکب کبیرہ ہوگا اور غیر تائب ہوگا، متقی نہیں ہوگا، نیز اس آیت میں اس کی مغفرت کا ذکر ہے، یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ اس کی ابتداء ً مغفرت فرما دے گا۔ ہوسکتا ہے کہ اس کی مغفرت اس کی سزا بھگتنے کے بعد ہو یا لمبے عرصہ تک میدان محشر میں کھڑے رکھنے کے بعد ہو۔ جن لوگوں نے بےخوفی اور دلیری سے کبیرہ گناہ کیے ہوں، وہ ان لوگوں کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں جو ہر آقت اور ہر آن اللہ تعالیٰ کی گرفت سے ڈرتے رہتے ہیں اور گناہوں سے باز رہتے ہیں، قرآن مجید میں ہے :

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَہُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِلا سَوَآئً مَّحْیَاہُمْ وَمَمَاتُہُمْط سَآئَ مَا یَحْکُمُوْنَ ۔ (الجاثیہ : ٢١ )

جن لوگوں نے گناہ کیے ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کو ان ایمان والوں کی مثل کردیں گے جنہوں نے نیک اعمال کیے اور ان کی زندگی اور ان کی موت یکساں ہوجانے، وہ یہ کیسا، برا فیصلہ کر رہے ہیں۔

اس آیت سے واضح ہوگیا کہ گناہ گار مسلمان تو مؤمنین صالحین کے برابر بھی نہیں ہیں چہ جائیکہ متقین کے برابر ہوں، ہم گناہ گار مسلمانوں کی مغفرت کا انکار نہیں کرتے، ہمارا انکار ان کو متقین قرار دینے سے ہے۔

اس مسئلہ کو مزید وضاحت کے لئے تبیان القرآن ج ٦ ص ٤٠٧۔ ٤٠٦ کو بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 41