لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓٮِٕکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ‌ۚ وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآٮِٕلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِ‌ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ‌ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 177

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَيۡسَ الۡبِرَّ اَنۡ تُوَلُّوۡا وُجُوۡهَكُمۡ قِبَلَ الۡمَشۡرِقِ وَ الۡمَغۡرِبِ وَلٰـكِنَّ الۡبِرَّ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَالۡمَلٰٓٮِٕکَةِ وَالۡكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ‌ۚ وَاٰتَى الۡمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَالۡمَسٰكِيۡنَ وَابۡنَ السَّبِيۡلِۙ وَالسَّآٮِٕلِيۡنَ وَفِى الرِّقَابِ‌ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّکٰوةَ ‌ ۚ وَالۡمُوۡفُوۡنَ بِعَهۡدِهِمۡ اِذَا عٰهَدُوۡا ۚ وَالصّٰبِرِيۡنَ فِى الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيۡنَ الۡبَاۡسِؕ اُولٰٓٮِٕكَ الَّذِيۡنَ صَدَقُوۡا ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ

(اصل) نیکی یہ نہیں ہے کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو ‘ لیکن (اصل) نیکی اس شخص کی ہے ‘ جو اللہ پر ایمان لائے اور یوم آخرت ‘ اور فرشتوں اور کتابوں اور نبیوں پر ایمان لائے اور مال سے اپنی محبت کے باوجود (اللہ کے حکم سے) رشتہ داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں ‘ مسافروں ‘ سوالیوں اور غلام آزاد کرانے کے لیے خرچ کرے ‘ اور نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے ‘ اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ‘ اور تکلیف اور سختی میں ‘ اور جہاد کی مشقت میں صبر کرنے والے ‘ یہی سچے لوگ ہیں اور یہی متقی ہیں

آیت مذکورہ کے شان نزول کے متعلق اقوال :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے ‘ یعنی صرف یہ نیکی نہیں ہے کہ تم نماز پڑھ لو اور اس کے سوا اور کوئی نیک عمل نہ کرو۔

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہود مغرب کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے تھے اور نصاری مشرق کی طرف منہ کرتے تھے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ صرف مشرق یا مغرب کی طرف منہ کرلینا کوئی نیکی نہیں ہے۔

ایک اور سند کے ساتھ قتادہ نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نیکی کے متعلق سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کو بلایا اور اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی اور فرائض کے نازل ہونے سے پہلے جب کوئی شخص توحید و رسالت کی گواہی دے دیتا تو اس کے حق میں خیر کی توقع کی جاتی تھی۔ (جامع البیان ج ٢ ص ‘ ٥٦۔ ٥٥ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اللہ تعالیٰ ‘ یوم آخرت ‘ فرشتوں ‘ کتابوں اور نبیوں پر ایمان لانے کا معنی :

اللہ پر ایمان لانے کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانت کا اقرار کرے ‘ اس کو ہر عیب اور نقص سے منزہ مانے ‘ اس کی تمام صفات کو قدیم مانے اور اس کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک نہ کرے ‘ اس کے سوال کسی کو نہ واجب اور قدیم مانے اور نہ اس کے سوا کسی کو عبادت کا مستحق مانے اور اس کے تمام رسولوں کی تصدیق کرے اور حضرت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آخری نبی اور آپ کی شریعت کو آخری شریعت مانے۔

یوم آخرت پر ایمان لانے پر ایمان لانے کا معنی یہ ہے کہ فرشتوں کے معصوم ہونے ‘ اور رسل ملائکہ کی رسالت ‘ کراما کاتبین کے اعمال کو لکھنے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق ان کے عمل کرنے کی تصدیق کرے اور تذکیر و تانیث سے فرشتوں کو بری مانے۔

کتاب پر ایمان لانے کا معنی یہ ہے کہ اس کا اقرار کرے کہ قرآن مجید اللہ کا کلام ہے جس کو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب پر نازل کیا ہے ‘ یہ آخری کتاب ہے ‘ اس میں کوئی کمی پیشی نہیں ہوسکتی نہ کوئی اس کی کسی ایک سورت کی بھی مثل لاسکتا ہے۔

تمام نبیوں پر ایمان لانے کا معنی یہ ہے کہ یہ مانے کہ تمام انبیاء اور رسول برحق ہیں اور سب پر ایمان لانا ضروری ہے ‘ یہ جائز نہیں ہے کہ بعض نبیوں پر ایمان لایا جائے اور بعض کا کفر کیا جائے ‘ چونکہ ایمان کامل میں اعمال بھی داخل ہیں ‘ اس لیے ایمان کے بعد اعمال کا ذکر شروع فرمایا۔

رشتہ داروں پر مال خرچ کرنے کی فضیلت :

اور مال سے اپنی محبت کے باوجود خرچ کرے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ انسان تندرست ہو ‘ اس کو پیسوں کی ضرورت بھی ہو ‘ تاکہ وہ اپنے مستقبل کے لمبے لمبے منصوبوں کو پورا کرے اور اسے فقر کا خدشہ بھی لاحق ہو ‘ پھر بھی وہ اللہ کی راہ میں ‘ رشتہ داروں ‘ یتیموں ‘ مسکینوں ‘ مسافروں اور سائلین وغیرہ پر خرچ کرے۔ امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زکوۃ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : مال میں زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے ‘ پھر آپ نے اس آیت کو تلاوت فرمایا (جامع ترمذی ص ١١٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

بعض علماء نے کہا : یہ بھی زکوۃ میں داخل ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ زکوۃ کا اس کے بعد ذکر فرمایا ہے اور یہ قول حدیث مذکور کے بھی خلاف ہے ‘ امام مالک نے کہا : اس سے مراد فدیہ دے کر قیدیوں کو چھڑانا ہے ‘ زکوۃ کے علاوہ دوسرے صدقات واجبہ بھی اس سے مراد ہوسکتے ہیں۔

حضرت ام کلثوم بنت عقبہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے افضل صدقہ ‘ پہلوتہی کرنے والے مخالف رشتہ دار پر صدقہ کرنا ہے۔ (سنن کبری ج ٧ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے : اس حدیث کو امام طبرانی نے ” معجم کبیر “ میں روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٣ ص ١١٦‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

زکوۃ ‘ قربانی ‘ عشر اور صدقہ فطر صدقات واجبہ ہیں ‘ باقی صدقات نفل اور مستحب ہیں۔ صدقات واجبہ ماں ماپ ‘ اولاد اور شوہر یا بیوی کے علاوہ ان رشتہ داروں کو دیئے جائیں گے جو غیر سادات اور فقراء ہوں ‘ اور صدقات نفلیہ دینے کے لیے کوئی شرط نہیں ہے ‘ وہ ہر رشتہ دار کو دیئے جاسکتے ہیں۔ امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوامامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رشتہ دار پر صدقہ کرنے کا دو مرتبہ دگنا

اجر دیا جاتا ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٨ ص ‘ ٦٠٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

یتیم ‘ مسکین اور ابن السبیل کا معنی :

یتامی : یتیم کی جمع ہے ‘ یتیم اس نابالغ شخص کو کہتے ہیں جس کا باپ فوت ہوچکا ہو۔

مساکین : مسکین کی جمع ہے ‘ مسکین اس شخص کو کہتے ہیں جس کے پاس قدر کفایت یعنی گزارے کے لیے کوئی چیز نہ ہو۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ شخص مسکین نہیں ہے جو لوگوں کے گرد چکر کاٹتا ہے اور ایک لقمہ ‘ دو لقمے یا ایک کھجور یا دو کھجور لے کر چلا جاتا ہے ‘ صحابہ نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! پھر مسکین کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کے پاس گزارے کے لیے کوئی چیز نہ ہو ‘ اور نہ اس کے ظاہر حال سے اس کی مسکینی کا پتہ چلے تاکہ اس پر صدقہ کیا جائے اور نہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال کرے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

ابن السبیل : اس مسافر کو کہتے ہیں جو حالت سفر میں ضرورت مند ہو اور اس کے پاس ضرورت پوری کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو چونکہ راستہ میں اس کے ماں باپ نہیں ہوتے اور راستہ کے سوا اس کا کسی سے تعلق نہیں ہوتا اس لیے اس کو ابن السبیل کہتے ہیں۔

سوال کرنے کی جائز حد :

سائلین : سائل کی جمع ہے ‘ بلاضرورت سوال کرنا شرعا حرام ہے ‘ اور سائل کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ضرورت سے زیادہ کا سوال نہ کرے۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہے وہ انگاروں کا سوال کرتا ہے ‘ خواہ کم سوال کرے یا زیادہ۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٣٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام ابن عساکر روایت کرتے ہیں ؛

حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کوئی شخص اپنے اوپر سوال کرنے کا دروازہ نہیں کھولتا مگر اللہ تعالیٰ اس کے اوپر فقر کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٤ ص ٣٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)

حضرت قبیصہ بن مخارق ہلالی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں کے علاوہ اور کسی شخص کے لیے سوال کرنا جائز نہیں ہے ‘ ایک وہ شخص جو مقروض ہو ‘ اس کے لیے اتنی مقدار کا سوال جائز ہے جس سے اس کا قرض ادا ہوجائے ‘ اس کے بعد وہ سوال سے رک جائے۔ دوسرا وہ شخص جس کے مال کو کوئی ناگہانی آفت پہنچی ہو جس سے اس کا مال تباہ ہوگیا ہو ‘ اس کے لیے اتنی مقدار کا سوال کرنا جائز ہے جس سے اس کا گزارہ ہوجائے۔ تیسرا وہ جو فاقہ زدہ ہو اور اس کے قبیلہ کے تین عقل مند آدمی یہ گواہی دیں کے واقعی یہ فاقہ زدہ ہے ‘ تو اس کے لیے بھی اتنی مقدار کا سوال کرنا جائز ہے جس سے اس کا گزراہ ہوجائے ‘ اور اے قبیصہ ! ان تین شخصوں کے علاوہ سوال کرنا حرام ہے اور جو (ان کے علاوہ) سوال کرتا ہے وہ حرام کھاتا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٣٣٤‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

تین آدمیوں کی گواہی کی شرط بہ طور استحباب ہے ‘ ورنہ دو آدمیوں کی گواہی بھی کافی ہے اور یہ شرط اس شخص کے لیے ہے۔ جو معاشرہ میں مال دار مشہور ہو اور جس شخص کا مال دار ہونا مشہور نہ ہو اس کے فاقہ زدہ کی خبر کے لیے اس کا اپنا قول کافی ہے۔

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مال دار کے لیے صدقہ لینا جائز ہے اور نہ صحیح الاعضاء اور قوی شخص کے لیے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٣١‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

امام ابوداؤد روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے سوال کیا درآں حالیکہ اس کے پاس اتنا مال تھا جو اس کو سوال سے مستغنی کرسکتا تھا وہ جہنم کے انگارے جمع کرتا ہے ‘ روای نے پوچھا : مال میں کتنی مقدار ہو تو سوال نہیں کرنا چاہیے ؟ فرمایا جس کے پاس صبح اور شام کا کھانا ہو وہ سوال نہ کرے ‘ ایک اور روایت میں ہے : جس کے پاس اتنا کھانا ہو کہ وہ ایک دن اور ایک رات سیر ہو کر کھا سکے وہ سوال نہ کرے۔ (سنن ابوداؤد ج ١ ص ٢٣٠‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ٗ پاکستان ‘ لاہور ١٤٠٥ ھ)

علامہ علاء الدین حصکفی حنفی لکھتے ہیں : جس شخص کے پاس ایک دن کی خوراک ہو ‘ خواہ وہ خوراک بنفسہ موجود ہو یا اس شخص میں اس خوراک کر کما کر لانے کی صلاحیت ہو بایں طور کہ وہ تندرست اور کمانے والا ہو ‘ ایسے شخص کے لیے خوراک کا سوال کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر خیرات دینے والے کو اس کے حال کا علم ہو اور اسکے باوجود وہ وہ اس کو بھیک دے تو وہ گنہ گار ہوگا ‘ کیونکہ وہ ایک حرام کام میں مدد کررہا ہے اور اگر سائل ضرورت مند ہو اور کپڑوں کا سوال کرے یا جہاد یا طلب علم میں مشغول ہونے کی وجہ سے خوراک کا سوال کرے اور اس کو ان چیزوں کی ضرورت بھی ہو تو اس کا سوال کرنا جائز ہے اور اس کو دینا بھی جائز ہے۔ (درالمختار علی ھامش رد المختار ج ٢ ص ٦٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

سائلین کو دینے کے متعلق مصنف کی تحقیق :

مصنف کی تحقیق یہ ہے کہ جو شخص تندرست ہو اور کمانے کے لائق ہو ‘ اسکے باوجود پیشہ ور گداگری کرتا ہو اس کو خیرات بالکل نہ دی جائے ‘ سوال سے پہلے نہ سوال کرنے کے بعد ‘ تاکہ اس کی حوصلہ شکنی ہو اور وہ جائز طریقہ سے کسب معاش کرے ‘ لیکن یہ حکم اس وقت ہے جب حتمی طور پر معلوم ہو کہ وہ سائل تندرست اور کمانے کے لائق ہے اور جب یہ معلوم نہ ہو تو کسی مسلمان سائل کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوئے اس کے سوال کو جائز صورت پر محمول کیا جائے ‘ مثلا یہ کہ ہوسکتا ہے کہ وہ کپڑوں کے لیے سوال کر رہا ہو ‘ یا اپنے بیوی بچوں کے علاج یا کسی اور شدید ضرورت مند ہیں یا بےروزگار ہیں ‘ یا ان کی آمدنی ان کی خوراک ‘ لباس ‘ رہائش ‘ تعلیم اور علاج وغیرہ کے لیے کافی نہیں ہے تو ان کی سوال کے بغیر از خود مدد کرنی چاہیے اور جو لوگ مسجد میں آکر سوال کرتے ہیں ‘ ان کے حال کا اکثر وبیشتر لوگوں کو علم نہیں ہوتا ‘ اگر وہ نمازیوں کے آگے سے نہ گزریں ‘ اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں اور گڑ گڑاکر سوال نہ کریں تو ان مسلمان سائلوں کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوئے ان کے سوال کو جائز صورت میں محمول کرنا چاہیے اور حتی الوسع ان کی مدد کرنی چاہیے۔

غلام آزاد کرنے ‘ نماز پڑھنے اور زکوۃ وغیرہ کے معانی :

غلام کو آزاد کرنے کے دو معنی ہیں : یا تو مکمل غلام خرید کر اس کو آزاد کیا جائے اور یا جو غلام مکاتب ہو اسے بدل کتابت دے کر اس کو آزاد کرایا جائے۔ غلام آزاد کرنے کا بہت اجر ہے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا ‘ اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلہ میں آزاد کرنے والے کا ہر عضو جہنم سے آزاد کر دے گا حتی کہ اس کی فرج کے بدلہ میں فرج آزاد کر دے گا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٩٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اور نماز قائم کرے : یعنی کعبہ کی طرف منہ کرکے باقی شرائط کے ساتھ نماز کے اوقات میں نماز پڑھے۔

اور زکوۃ ادا کرے : یعنی جو شخص نصاب کا مالک ہو وہ ایک سال گزر جانے کے بعد اس مال کا چالیسواں حصہ مستحقین کو ادا کرے۔ نماز پڑھنے سے روح کی تطہیر ہوتی ہے اور زکوۃ ادا کرنے سے مال کا تزکیہ ہوتا ہے اس لیے قرآن مجید میں دونوں کو ایک ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔

اور اپنے عہد کو پورا کرنے والے جب وہ عہد کریں ‘ اس کے دو مطلب ہیں :

(١) بندہ جب اللہ سے کسی عبادت کی نذر مانے تو اس نذر کو پورا کرے۔

(٢) بندہ لوگوں کے ساتھ جو عہد کرے اس کو پورا کرے۔ ان دونوں عہدوں کو پورا کرنا واجب ہے۔ عہد کو پورا کرنا ایمان صحیح کی علامت ہے اور عہد پورا نہ کرنا نفاق کی علامت ہے ‘ لیکن اگر کسی سے گناہ کا عہد کیا ہے تو اس کو توڑنا واجب ہے۔ اور تکلیف اور سختی میں صبر کرنے والے : اس آیت کے متعلق دو قول ہیں :

(١) یہ آیت تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ ان کے سوا اور کوئی پوری طرح اس آیت پر عمل نہیں کرسکتا۔

(٢) یہ آیت تمام لوگوں کے حق میں عام ہے ‘ کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عمومی خطاب فرمایا ہے۔ جب کسی ناگہانی مصیبت سے آدمی فقر میں مبتلا ہوجائے ‘ یا مرض طاری ہونے یا اپنے بچوں کی موت سے غم میں مبتلا ہوجائے یا معرکہ جہاد میں شدت میں مبتلا ہوجائے تو ان حالات میں صبر کرنا نصف ایمان ہے کیونکہ صبر کرنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ یہ شخص قضاء و قدر پر راضی ہے اور اللہ تعالیٰ سے اجر اور ثواب کی امید رکھتا ہے۔

یہی سچے لوگ ہیں اور یہی متقی ہیں : یعنی جو لوگ نیکی کی ان تمام اقسام کے ساتھ متصف ہیں یہی اپنے ایمان میں سچے ہیں اور یہی لوگ حقیقۃ متقی ہیں ‘ کیونکہ یہ لوگ معاصی سے اجتناب کی وجہ سے اللہ کے غضب اور اس کے عذاب سے محفوظ ہوگئے اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے اجر وثواب کے ساتھ کامیاب ہوگئے اور حق یہ ہے کہ جس نے اس ایک آیت پر عمل کرلیا اس کا ایمان کامل ہوگیا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 2 – البقرة – آیت 177

One comment

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.