عَمَّ يَتَسَآءَلُوۡنَۚ سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 1
sulemansubhani نے Wednesday، 16 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عَمَّ يَتَسَآءَلُوۡنَۚ ۞
ترجمہ:
یہ لوگ کس چیز کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں ؟
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ لوگ کس چیز کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں ؟۔ عظیم خبر کے متعلق۔ جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ ہرگز نہیں ! یہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں ! یہ عنقریب جان لیں گے۔ ( النبا : ١۔ ٥)
” عم یستاء لون “ کی لفظی تحقیق
النبا : ١ میں پہلا لفظ ہے : ” عم “ یہ لفظ اصل میں ” عن ما “ تھا ” ن “ اور ” م “ قریب المخرج ہیں، اس لیے ” ن “ کا ” م “ میں ادغام کردیا گیا تو یہ ’ ’ عما “ ہوگیا، پھر کثرت استعمال کی وجہ سے اس میں تخفیف میں کی گئی اور اس کے آخر میں الف کو حذف کردیا گیا تو یہ ” عم “ ہوگیا جیسے ” لم، بم “ اور ” فیم “ میں تخفیف کی وجہ سے ان الفاظ کے اخیر میں الف کو حذف کیا گیا ہے، کیونکہ الفاظ بھی اصل میں ” لما، بما “ اور ” فیما “ تھے۔
کلام عرب میں لفظ ” مسا “ کسی مجہول چیز کی ماہیت اور حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے ذکر کیا جاتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے : ” ما الروح “ روح کی حقیقت کیا ہے ؟ اور ” ما الجن “ جن کی حقیقت کیا ہے ؟ پھر جس عظیم چیز کی ماہیت اور حقیقت کو معلوم کرنے کے لیے کفار ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے، اس کی حقیقت اور اس کی صفات کا ادراک کرنے سے ان کی عقل عاجزتھی، اس لیے اس عظیم چیز کی ذات اور صفات ان کے نزدیک مجہول تھیں، اس لیے انہوں نے لفظ ” ما “ سے سوال کیا کہ وہ کیا چیز ہے ؟ اور اس کی کیا صفات ہیں ؟ اور اس پر لفظ ” ما “ کا دخول اس چیز کے مرتبہ کے بلند ہونے اور اس چیز کے عظیم ہونے کی دلیل ہے، جیسے قرآن مجید میں ہے :
وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا سِجِّیْنٌ۔ (المطففین : ٨) آپ کو کیا معلوم کہ سجین کیا ہے ؟۔
” سبحن “ کا معنی قید خانہ ہے ” سجین “ کی ایک تفسیر یہ ہے کہ وہ قید خانہ کی طرح ایک نہایت تنگ مقام ہے، اور اس کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ زمین کے سب سے نچلے حصہ میں ایک جگہ ہے جہاں کافروں، مشرکوں اور ظالموں کی روحوں کو رکھا جاتا ہے اور اس کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد وہ جگہ ہے جہاں کافروں، مشرکوں اور ظالموں کے صحائف اعمال رکھے جاتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ ” سجبین “ بہت عظیم چیز ہے، جس کا کافروں کی روحوں اور ان کے صحائف اعمال کے مستقر سے تعلق ہے۔
” ما “ کا مدخول کوئی عظیم مجہول چیز ہوتی ہے، جس کی حقیقت کے متعلق سوال کیا جاتا ہے، اس کی دوسری مثال یہ ہے :
وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا الْعَقَبَۃُ ۔ (البلد : ١٢) اور آپ کیا سمجھے کہ العقبۃ کیا ہے۔
” العقبۃ “ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی جو پہاڑ میں چڑھائی کا راستہ ہو، یہ راستہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے، یعنی جب انسان کوئی نیک کام کرنا چاہتا ہو تو اس کو شیطان اس نیکی سے روکنے کے لیے بہت وسوے ڈالتا ہے اور اس کا نفس بھی اس محنت و مشقت سے جان چھڑانے کے لیے اس کو متعدد طریقوں سے روکتا ہے، اسی طرح جب انسان کا نفس اس کو کسی برے کام کی طرف مائل کرتا ہے اور اس برائی پر ابھارتا ہے تو انسان کو نیکی کرنے کے لیے یا برائی سے بچنے کے لیے شیطان اور اپنے نفس سے سخت جنگ کرنا پڑتی ہے اور جس طرح پہاڑ کی گھاٹی پر چڑھنا سخت دشوارہوتا ہے، اس طرح ایسے مواقع پر نیک عمل کرنا اور برے کام کو ترک کرنا بھی بہت دشوار ہوتا ہے، سو یہ وہ عظیم گھاٹی ہے جس کو سمجھنا اور جاننا مطلوب ہے۔
سوال کرنے والوں کا مصداق
اس آیت میں فرمایا ہے : یہ لوگ کس چیز کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں ؟۔
یہ سوال کرنے والے کون لوگ تھے ؟ اس کی حسب ذیل تفسیریں ہیں :
کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ ۔ ثُمَّ کَلَّا سَیَعْلَمُوْنَ ۔ (٤۔ ٥) ہرگز نہیں ! یہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں ! یہ عنقرب جان لیں گے۔
اور دھمکانا صرف کفار کے لیے مناسب ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ کفار تھے جو ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے۔
(٢) کفار اور مؤمنین دونوں سوال کرتے تھے، رہے مؤمنین تو وہ اس لیے سوال کرتے تھے کہ دین میں ان کی بصیرت اور قیامت پر ان کا ایمان اور زیادہ قوی ہوجائے اور رہے کفار تو وہ اسلام کا مذاق اڑانے کے لیے اور اسلام کے خلاف لوگوں کے دلوں میں شکوک اور شبہات ڈالنے کے لیے سوال کرتے تھے۔
(٣) سوال کرنے والے کفار اور مشرکین تھے اور وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے تھے کہ آپ جس قیامت کا ہم سے وعدہ کر رہے ہیں، وہ کب آئے گی۔
پہلی تفسیر کہ عظیم خبر سے مراد قرآن مجید کی خبر ہے
جس عظیم خبر کے متعلق کفار سوال کرتے تھے وہ کس چیز کی خبر تھی ؟ آیا قرآن کی یا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی یا قیامت کی، ان تینوں احتمالات کی طرف مفسرین گئے ہیں، پہلا قول یہ ہے کہ وہ قرآن مجید کی خبر ہے۔
(١) امام ابو جعفر محمد بن جریری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
مجاہد نے کہا :” النبا العظیم “ سے مراد قرآن مجید ہے۔ ( جامع البیان رقم الحدیث : ٢٧٨٩٠)
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ ( النبا : ٣)
اور قرآن مجید کے متعلق کفار مکہ اختلاف کر رہے تھے، بعض کہتے تھے کہ قرآن مجید جادو ہے، اور بعض کہتے تھے کہ وہ شعر ہے اور بعض کہتے تھے کہ وہ ” اساطیر الاولین “ ہے یعنی پچھلی قوموں کے افسانے ہیں اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور قیامت کے انکار پر وہ متفق تھے، نیز النبا : ٢ میں فرمایا : وہ عظیم خبر کے متعلق سوال کرتے تھے، اور خبر کا مصداق صرف قرآن مجید ہے، اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت خبر نہیں ہے بلکہ آپ کی نبوت کی خبر دی گئی ہے، اسی طرح قیامت بھی خبر نہیں ہے بلکہ قیامت کے آنے کی خبر دی گئی ہے۔
دوسری تفسیر کہ عظیم خبر سے مراد آپ کی بعثت کی خبر ہے
(٢) دوسری قول یہ ہے کہ اس سے مراد سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی خبر ہے۔
علامہ عبد الرحمان بن علی بن محمد الجوزی الحنبلی المتوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں :
زجاج نے کہا ہے : اس سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معاملہ اور آپ کا دعویٰ نبوت مراد ہے۔
( زاد المسیرج ٩ ص ٤، مکتب اسلامی، بیروت، ١٤٠٧ ھ)
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا گیا تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے تھے : یہ کیا نیا پیغام لائے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : یہ کس چیز کے متعلق سوال کر رہے ہیں ؟ کیونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رسول بنا کر بھیجنے پر وہ بہت تعجب کر رہے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
۔۔۔۔۔۔ ۔۔ (ق : ٢)
بلکہ ان کو اس پر تعجب ہوا کہ ان ہی میں سے ایک ڈرانے والا آگیا، پس کافروں نے کہا : یہ تو بہت عجیب بات ہے۔
نیز جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو توحید کا پیغام سنایا تو ان کو اس پر بھی بہت تعجب ہوا، قرآن مجید نے ان کا قول نقل فرمایا ہے :
اَجَعَلَ الْاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًاج اِنَّ ہٰذَا لَشَیْئٌ عُجَابٌ۔ (ص : ٥)
کیا اس نے اتنے بہت معبودوں کو ایک مستحق عبادت بنادیا ہے ؟ بیشک یہ بہت تعجب کی بات ہے۔
پس مشرکین نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کے متعلق تعجب کا اظہار رتے تھے اور اس کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کرتے تھے، اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : یہ لوگ کس چیز کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کررہے ہیں ؟۔ عظیم خبر کے متعلق۔ جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔
سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق ان کا اختلاف یہ تھا کہ بعض آپ کو شاعر کہتے تھے، بعض مجنون کہتے تھے اور بعض ساتر کہتے تھے۔
تیسری تفسیر عظیم خبر سے مراد حیات بعد الموت کی خبر ہے
(٣) اس کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ وہ قیامت اور لوگوں کو دوبارہ زندہ ہونے کے متعلق سوال کرتے تھے۔