كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَۙ – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 4
sulemansubhani نے Wednesday، 16 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كَلَّا سَيَعۡلَمُوۡنَۙ ۞
ترجمہ:
ہرگز نہیں ! یہ عنقریب جان لیں گے۔
النبا : ٥۔ ٤ میں فرمایا : ہرگز نہیں ! یہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر ہرگز نہیں ! یہ عنقریب جان لیں گے۔
” کلا “ کا لفظی اور مرادی معنی
ان دونوں آیتوں کے شروع میں ” کلا “ ہے ” کلا “ کے الفاظ کو اس لیے وضع کیا گیا ہے کہ جو چیز پہلے مذکور ہے اس کا نہ کیا جائے، یعنی واقع اس طرح نہیں ہے، جس طرح یہ کفار اور مشرکین کہتے ہیں کہ یہ خبر عظیم باطل ہے، وہ حیات بعد الموت کو باطل کہتے ہیں، ہرگز نہیں ! حیات بعد الموت باطل نہیں ہے، ان کو جب عنقریب ان کی موت کے بعددوبارہ زندہ کیا جائے گا تو وہ اس کو عین الیقین کے ساتھ جان لیں گے، پھر ہرگز نہیں ! ان کو جب دوبارہ زندہ کیا جائے گا تو وہ اس کو حق الیقین کے ساتھ جان لیں گے۔
عین الیقین کا معنی ہے : کسی چیز کا مشاہدہ سے علم ہونا، اور حق الیقین کا معنی ہے : کسی چیز کا تجربہ سے یقین ہونا، جب مشرکین قبروں سے نکلیں گے تو وہ دیکھیں گے کہ لوگ قبروں سے زندہ ہو کر نکل رہے ہیں تو ان کو حیات بعد الموت پر علم الیقین ہوگا، پھر جب وہ اس پر توجہ کریں گے کہ وہ خود بھی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوگئے ہیں تو ان کو حیات بعد الموت پر حق الیقین ہوجائے گا۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” کلا “ کا لفظ ” حقا “ کے معنی میں ہے یعنی یقینا یہ عنقریب جان لیں گے۔ پھر یقینا یہ عنقریب جان لیں گے۔ اور یہ جو فرمایا ہے : یہ عنقریب جان لیں گے، اس میں ان کے لیے وعید اور عذاب کی دھمکی ہے کہ یہ جس چیز کے متعلق ایک دوسرے سے سوال کر رہے ہیں اور جس چیز کا مذاق اڑا رہے ہیں، وہ برحق ہے، اس کو کوئی ٹالنے والا یا مسترد کرنے والا نہیں ہے اور لاریب وہ چیز ضرور واقع ہوگی اور دوبارہ جو اس جملہ کا ذکر کیا ہے، اس میں یہ بتایا ہے کہ دوسری دھمکی پہلی دھمکی سے زیادہ شدید ہے۔
” کلاسیعلمون “ کو دوبارذکر کرنے کے فوائد
اس جملہ کو جو دو بار ذکر فرمایا ہے، اس کی مفسرین نے حسب ذیل توجیہات کی ہیں :
(١) پہلی آیت کا تعلق کفار سے ہے اور دوسری آیت کا تعلق مؤمنین سے ہے، یعنی عنقریب کفار کو اس عظیم خبر کی تکذیب کا نتیجہ ملعوم ہوجائے گا اور عنقریب مؤمنین کو اس عظیم خبر کی تصدیق کا انجام اور اس کی جزاء کا علم ہوجائے گا۔
(٢) پہلے جملہ کا معنی یہ ہے کہ عنقریب کفار میدان حشر کا مشاہدہ کرلیں گے اور دوسرے جملہ کا معنی ہے : عنقریب کفار اس تکذیب کے عذاب کا مشاہدہ کرلیں گے۔
(٣) پہلے جملہ کا معنی ہے : عنقریب کفار کو معلوم ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کیا کرنے والا ہے اور دوسرے جملہ کا معنی ہے : عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ان کا یہ گمان اور وہم صحیح نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ انہیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ نہیں کرے گا۔
(٤) پہلے جملہ میں جو وعید ہے، اس کا تعلق دنیا کی وعید سے ہے جیسے کفار مکہ کو جنگ بدر میں شکست اور ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے سفر آدمی مارے گئے اور ستر آدمی قید ہوئے اور دوسرے جملہ میں جو وعید ہے اس کا تعلق آخرت کی سزا سے ہے۔
(٥) پہلے جملہ میں جو وعید ہے، اس کا تعلق کافروں کی موت، نزع کی سختی اور سکرات الموت سے ہے اور دوسرے جملہ میں وعید کا تعلق دوزخ کی سزا سے ہے۔
(٦) پہلے جملہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کی تصدیق نہ کرنے پر عذاب کی وعید ہے اور دوسرے جملہ میں احکام شرعیہ فرعیہ پر عمل نہ کرنے کی بناء پر وعید ہے۔
(٧) پہلے جملہ میں جسمانی عذاب کی وعید ہے جو عذاب ان کو دوزخ میں دیا جائے گا اور دو سے جملہ میں روحانی عذاب کی وعید ہے جو مؤمنوں پر انعام و اکرام اور ان کی تعظیم و تکریم کو دیکھ کر انہیں ہوگا اور دنیا میں جن کو وہ حقیر سمجھتے تھے، آخرت میں ان کی توقیر دیکھ کر ان کے دل جلیں گے۔
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 4
[…] تفسیر […]