كُلُوۡا وَتَمَتَّعُوۡا قَلِيۡلًا اِنَّكُمۡ مُّجۡرِمُوۡنَ سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 46
sulemansubhani نے Wednesday، 16 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كُلُوۡا وَتَمَتَّعُوۡا قَلِيۡلًا اِنَّكُمۡ مُّجۡرِمُوۡنَ ۞
ترجمہ:
تم کچھ دن تک کھائو اور فائدہ اٹھا لو، بیشک تم مجرم ہو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم کچھ دن کھائو اور فائدہ اٹھالو، بیشک تم مجرم ہو۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ نماز پڑھو تو وہ نماز نہیں پڑھتے۔ اس دن تکذیب کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے۔ اس قرآن کے بعد وہ پھر کس چیز پر ایمان لائیں گے۔ ( المرسلات : ٥٠۔ ٤٦ )
کفار کو نعمتوں کے شکر نہ ادا کرنے پر عذاب سے ڈرانا
المرسلات : ٤١ سے پہلے جو کفار اور مشرکین کی مذمت کی گئی تھی، یہ آیت بھی اسی کی طرف راجع ہے یعنی ان مکذبین سے کہا جائے : تم دنیا میں چند روز زندگی گزار کھانے پینے کا عارضی نفع اٹھا لو، بیشک تم مجرم ہو یعنی کافر ہو، تم نے دنیا میں جو شرک کیا ہے اور دیگر گناہ کبیرہ کیے ہیں تم کو آخرت میں ان کی سزا بھگتی ہوگی۔
اس آیت میں اگرچہ دنیا کی چیزوں کو کھانے پینے اور ان سے فائدہ اٹھانے کا حکم دیا ہے، لیکن درحقیقت ان چیزوں سے ڈرایا ہے کیونکہ جب انسان اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائے گا اور ان کا شکر ادا نہیں کرے گا تو آخرت میں اس کو عذاب کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ ہرچند کہ دنیا کا عیش و آرام لذیز اور مرغوب چیزوں کو کھانا اور نفسانی خواہشوں کو پورا کرنا بہت خوش گوار ہے، لیکن یہ اس وقت ہے جب انسان اللہ پر ایمان لائے اور اس کے احکام پر عمل کرے تو اس کی دنیا بھی آرام دہ ہوگی اور آخرت بھی اور اگر وہ اللہ کی توحید اور اس کے احکام کی تصدیق نہ کرے تو اس کو آخرت میں عذاب ہوگا اور وہ درد ناک عذاب کبھی منقطع نہیں ہوگا تو اس کے مقابلہ میں دنیا کی یہ عارضی خوشیاں بہت کم ہیں اور اگر انسان کو یہ معلوم ہوجائے کہ ان عارضی لذائذ کے مقابلہ میں اس کو کتنا طویل اور سخت عذاب بھگتنا ہوگا تو وہ ان چیزوں کی طرف کبھی رغبت نہ کرے۔
تبیان القرآن سورۃ نمبر 77 المرسلات آیت نمبر 46