وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 7
sulemansubhani نے Thursday، 17 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّالۡجِبَالَ اَوۡتَادًا ۞
ترجمہ:
اور پہاڑوں کو میخیں۔
النبا : ٧ میں فرمایا : اور پہاڑوں کو میخیں۔
صوفیاء کی اصطلاح میں ” اوتاد “ کا معنی
اس آیت میں ” اوتاد “ کا لفظ ہے، یہ ” وتد “ کی جمع ہے ” وتد “ کا معنی ہے : میخ اور کیل، اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش بنا کر اس میں پہاڑوں کی میخیں لگا دیں تاکہ زمین اپنی جگہ قائم رہے، اس آیت میں پہاڑوں کو میخوں کے ساتھ تشبیہ دی ہے کہ جس طرح میخ کو جب کسی چیز میں گاڑ دیا جائے تو وہ اس چیز کو قائم رکھتی ہے، اسی طرح جب پہاڑوں کو زمین میں نصب کردیا گیا تو پہاڑ زمین کو اپنے محور پر قائم رکھتے ہیں اور زمین کو محور سے متجاوز نہیں ہونے دیتے۔
بعض علماء نے کہا ہے کہ ” اوتساد “ حقیقت میں اکابر اولیاء اور اللہ تعالیٰ کے مخصوص اہل صفا ہیں، وہ ان پہاڑوں کی طرح ہیں جن کو زمین میں نصب کیا ہوا ہے، ابو سعید خراز سے یہ سوال کیا گیا کہ اوتاد اور ابدال میں کون افضل ہیں ؟ انہوں نے کہا : اوتاد افضل ہیں، سائل نے سوال کیا : کیسے ؟ ابو سعید خراز نے کہا : کیونکہ ابدال ایک حال سے دوسرے حال کی طرف پلٹتے رہتے ہیں اور ایک مقام سے دوسرے مقام میں ان کا بدل چھوڑ دیا جاتا ہے اور اوتاو انتہائی بڑے مرتبہ پر پہنچے ہوئے ہوتے ہیں، وہ اپنے مقام سے نہیں بنتے اور اپنے مقام پر اس طرح قائم رہتے ہیں جیسے کسی جگہ میخ کو گاڑ دیا گیا ہو اور یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے مخلوق کا نظام اور اقوام قائم رہتا ہے، ابن عطاء نے کہا : او تادہی اہل استقامت اور اہل صدق ہیں، ان کے احوال متغیر نہیں ہونے اور وہ مقام تمکین پر فائز ہیں۔ ( روح البیان ج ١٠ ص ٣٤٧، داراحیاء التراث، العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 7