وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 14
sulemansubhani نے Thursday، 17 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّاَنۡزَلۡنَا مِنَ الۡمُعۡصِرٰتِ مَآءً ثَجَّاجًا ۞
ترجمہ:
اور ہم نے برسنے والے بادلوں سے زور دار بارش نازل کی.
النبا : ١٤ میں فرمایا : اور ہم نے برسنے والے بادلوں سے زور در بارش نازل کی۔
اس آیت میں ” المعصرات “ کا لفظ ہے، اس کا واحد ” المعصرۃ “ ہے، اس کا لغوی معنی ہے : نچوڑنے والی، یعنی بادلوں کو نچوڑنے والی ہوائیں۔
” المعصرات “ کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) سے دو روایتیں ہیں، ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ہوائیں ہیں جو بادلوں کو چیر دیتی ہیں، اور دوسری روایت یہ ہے کہ اس سے مراد بادل ہیں۔
مجاہد، مقاتل، کلبی اور قتادہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے یہ روایت کیا ہے کہ ” المعصرات “ سے مراد وہ تند و تیز ہوائیں ہیں جو بادلوں کو چیر دیتی ہیں، قرآن مجید میں ہے :
اَ اللہ ُ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰـحَ فَتُثِیْرُ سَحَابًا (الروم : ٤٨) اللہ ہوائیں چلاتا ہے جو بادل کو اٹھاتی ہیں۔
ابو العالیہ، الربیع اور الضحاک نے کہا : ” المعصرات “ سے مراد بادل ہیں اور انہوں نے بادلوں کو ” المعصرات “ کہنے کی حسب ذیل وجوہ بیان کی ہیں :
(١) المؤرج نے کہا : لغت قریش میں ” المعصرات “ کا معنی بادل ہے۔
(٢) المازنی نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ ” المعصرات “ ہی بادل ہوں، جو نچڑتے ہیں کیونکہ جب نچوڑنے والی چیزیں بادلوں کو نچوڑتی ہیں تو ان سے پانی برستا ہے اور بارش ہوتی ہے۔
(٣) ” المعصرات “ سے مراد وہ بادل ہیں جو نچڑنے کے قریب ہوتے ہیں کیونکہ جب ہوائیں ان بادلوں کو نچوڑتی ہیں تو وہ برسنے لگتے ہیں، جس طرح جب فصل کٹنے کے قریب ہو تو کہا جاتا ہے فصل کٹ گئی، اس طرح جب لڑکی کے حیض آنے کا وقت قریب ہو تو کہا جاتا ہے : لڑکی نچڑ گئی۔
نیز اس آیت میں مذکور ہے :” ماء ً ثجاجاً “۔ ” ثجاج ‘ کا معنی ہے : زور و شور کے ساتھ برسنے والا، اس کا منی ہے : پانی برسنا اور بہنا ” ثج “ کا مصدر لازم بھی ہوتا ہے اور متعدی بھی ہوتا ہے، گویا اس کا معنی بہنا بھی ہے اور بہانا بھی ہے، حدیث میں بھی ” الثج “ کا لفظ ہے :
جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا کہ کون سا حج افضل ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” افضل الحج العج والثج “ یعنی سب سے افضل حج وہ ہے جس میں بلند آواز سے تلبیہ کہا جائے اور قربانی کے جانوروں کا خون بہایا جائے۔
(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٨٢٧، سنن دارمی رقم الحدیث : ١٧٩٧)
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 14