وَّجَعَلۡنَا النَّهَارَ مَعَاشًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 11
sulemansubhani نے Thursday، 17 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّجَعَلۡنَا النَّهَارَ مَعَاشًا ۞
ترجمہ:
اور ہم نے دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔
النبا 11 میں فرمایا : اور ہم نے دن کو روزی کمانے کا وقت بنایا۔
” معاش “ کا معنی اور اس کے نعمت ہونے کی توجیہ
اس آیت میں ” معانی “ کا لفظ ہے ” معاش “ ” عیش “ سے بنا ہے ” عیش کے معنی ہے : وہ حیات جو جان داروں کے ساتھ مخصوص ہے، کیونکہ مطلقاً حیات کا لفظ تو حیوان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اسی لفظ سے معیشت بنا ہے۔
(المفردات ج ٢ ص ٤٥٨ )
معیشت کا معنی ہے : حیات کے ذرائع اور وسائل یعنی زندگی گزارنے کے اسباب۔
دن کو معاش فرمایا یعنی زندگی گزارنے کا وقت ہے، اس وقت میں تم کو نیند سے بیدار کیا جاتا ہے اور نیند موت کی بہن ہے گویا اس وقت میں ہاتھ سر نوزرہ کیا جاتا ہے، اس وجہ سے دن کا معاش ہونا بندوں پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔
علامہ علائو الدولہ محمد بن احمد سمنانی متوفی ٦٥٩ ھ ان آیتوں کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
کیا ہم نے بشریت کی زمین کو تمہاری استراحت کا پالنا نہیں بنایا، اور بشریت کے منافع کی انواع کے پھیلنے کا ذریعہ نہیں بنایا اور تمہارے نفوس کی شقاوت اور دلوں کی سختیوں کے پہاڑوں کو بشریت کی سر زمین کے قیام کے ستون اور پائے نہیں بنایا اور تم کو جوڑے جوڑے بنایا، روح کا جوڑا اور نفس کا جوڑا یا دل کو مذکر اور نفس کو مؤنث بنایا اور تمہاری نیند کی غفلت کو راحت بنایا تاکہ تم لذتوں اور شہوتوں کو پوری پوری حاصل کر کے استراحت کرسکو اور تمہاری طبیعتوں کی رات کو تمہاری دن کی روحانیت کے لیے پردہ بنایا اور تمہارے دن کی روحانیت کو معاش بنایا، جس میں تم اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت کرسکو۔
(مخطوطہ تکملہ التاویلات النجمیہ بہ حوالہ روح البیان ج ١٠ ص ٢٤٩، داراحیاء التراث العربی، بیروت، ١٤٢١ ھ)
التاویلات النجمیہ کا تعارف
شیخ نجم الدین ابوبکر بن عبد اللہ رازی متوفی ٦٥٤ ھ دایہ کے لقب سے معروف تھے، انہوں نے صوفیانہ اصطلاحات پر قرآن مجید کی تفسیر لکھی، لیکن سورة الذاریات تک مکمل کرسکے، بعد ازاں الطور سے آخر قرآن تک شیخ علائو الدولہ سمنانی نے اس کا تکملہ لکھا، یہ تفسیر پانچ ضخیم مجلدات پر مشتمل ہے، ہنوز طبع نہیں ہوئی، اس کا قلمی نسخہ دارالکتب، قاہرہ میں موجود ہے۔ علامہ اسماعیل حقی متوفی ١١٣٧ ھ روح البیان میں کہیں کہیں اس کا اقتباس نقل کرتے رہتے ہیں۔
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 11