وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Thursday، 17 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّجَعَلۡنَا نَوۡمَكُمۡ سُبَاتًا ۞
ترجمہ:
اور ہم نے تمہاری نیند کو راحت بنایا
النبا : ٩ میں فرمایا : اور ہم نے تمہاری نیند کو راحت بنایا۔
” نوم “ اور ” سبات “ کے معانی اور نیند کو ” سبات “ فرمانے کی وجوہ
اس آیت میں دو لفظ ہیں :” نوم “ اور ” سبات “ علامہ اور راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ ” نوم “ کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” نوم “ کے کئی معانی بیان کیے گئے ہیں اور وہ سب صحیح ہیں :
(١) رطب ( تر) بخارات کے دماغ کی طرف چڑھنے کی وجہ سے دماغ کے پٹھوں کا ڈھیلا پڑجانا۔
(٢) اللہ تعالیٰ نفس کو بغیر موت کے وفات دے دے، قرآن مجید میں ہے :
اَ اللہ ُ یَتَوَفَّی الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِھَا وَالَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِھَا (الزمر : ٤٣ )
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض فرماتا ہے اور جن کو موت نہیں آئی ان کی روحوں کو نیند کے وقت قبض فرماتا ہے۔
(٣) نیند خفیف موت ہے اور موت ثقیل نیند ہے۔ (المفردات ج ٢ ص ٦٦٠، مکتبہ نزار مصطفی، مکہ مکرمہ، ١٤١٨ ھ)
” سبت “ کے اصل معنی ہیں :” نفطع “ یعنی کسی کام کو منقطع کرنا، ہفتہ کے دن کو ’ ’ یوم السبت “ کہا جاتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کی تخلیق اتوار کے دن سے شروع کی اور چھ دنوں میں اس تخلیق کو مکمل کرلیا، پھر ہفتہ کے دن اس نے اپنے عمل کو منقطع کردیا تو اس لیے اس کا نام ” یوم السبت “ ہوا، یعنی کام منقطع کرنے کا دن، قرآن مجید میں ہے :
اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْہِمْ حِیْتَانُہُمْ یَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعاً وَّیَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ لَا تَاْتِیْہِمْ (الاعراف : ١٦٣ )
جب وہ ( بنو اسرائیل) ہفتہ کے دن تجاوز کرتے تھے، جب ان کے کام کے انفطاع کے دن مچھلیاں ظاہراً سامنے آتی تھیں اور جس دن وہ کام منقطع کرتے تھے ( ہفتہ کے دن) اس دن وہ ان کے سامنے نہیں آتی تھیں۔
اور فرمایا :
وَّ جَعَلْنَا نَوْمَکُمْ سُبَاتًا۔ (النبا : ٩) اور ہم نے تمہاری نیند کو کام کاج کے انفطاع کا ذریعہ بنادیا یعنی راحت۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نیند کو ” سبات “ فرمایا یعنی قطع کا ذریعہ اور سبب، سو اس کی علماء نے حسب ذیل توجیہات کی ہیں۔
(١) زجاج نے کہا : نیند انسان کے اعمال اور اس کی حرکات کے منقطع ہونے کا سبب ہے، اس لیے اس کو ” سبات “ فرمایا۔
(٢) قرآن مجید میں نیند کو موت فرمایا ہے (الزمر : ٤٢) اس لیے بیداری کو حیات اور معاش یعنی روزی کمانے کا ذریعہ فرمایا ہے :
وَّ جَعَلْنَا النَّہَارَ مَعَاشًا۔ (النبا : ١١) اور ہم نے دن کو کام کاج اور حصول رزق کا ذریعہ بنادیا۔
(٣) لیث نے کہا : ” السبات “ ایسی نیند ہے جو بےہوشی کے مشابہ ہے، اگرچہ ہر نیند ایسی نہیں ہوتی لیکن وجہ تسمیہ کے لیے جامع ہونا ضروری نہیں ہے، جیسے پاجامہ کو پاجامہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ پیروں کا لباس ہے حالانکہ پیروں کا ہر لباس پاجامہ نہیں ہوتا، شلوار، تہ بند اور پتلون بھی پیروں کا لباس ہے، اس لیے اس سے امام رازی کا یہ اعتراض ساقط ہوگیا کہ اگرچہ ” سبات “ بےہوشی کو کہتے ہیں لیکن اس وجہ سے نیند ” کو سبات “ کہنا درست نہیں کیونکہ ہر نیند اتنی گہری نہیں ہوتی کہ وہ بےہوشی کے مشابہ ہو۔
(٤) ” سبات “ کا معنی قطع ہے یعنی ٹکڑے ٹکڑے اور انسان کو نیند بھی ٹکڑے ٹکڑے کر کے اور قط وار آتی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ انسان مسلسل کی گئی دن سوتا رہے، وہ چند گھنٹے سو جاتا ہے، پھر جاگ کر کام کام کرتا ہے، پھر سو جاتا ہے تو اس کو نیند قطعات کی صورت میں آتی ہے۔
(٥) انسان جب کام کرنے سے تھک جاتا ہے تو کام منقطع کر کے سو جاتا ہے اور یہ نیند اس کی تھکاوٹ کو زائل کردیتی ہے، پس اس تھکاوٹ کے ازالہ کو ” سبات “ اور قطع فرمایا یعنی تھکاوٹ کو قطع کرنا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی نیند کو راحت بنادیا۔
(٦) مبرو نے کہا : جب انسان پر نیند کا غلبہ ہو اور انسان اس نیند کو دور کرنے اور منقطع کرنے کی کوشش کرے تو عرب اس کو بھی ” سبات “ کہتے ہیں، اس صورت میں اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم نے تمہاری نیند کو خفیف اور ہلکی بنایا ہے تاکہ تمہارے لیے اس نیند کو منقطع کرنا آسان ہو، گویا کہ یوں کہا گیا کہ ہم نے تمہاری نیند کو لطیف نیند بنایا ہے اور اس کو ایسی گہری اور ثقیل نہیں بنایا کیونکہ وہ بیماری ہے، صحت نہیں ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 9