وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 16
sulemansubhani نے Thursday، 17 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّجَنّٰتٍ اَلۡفَافًا ۞
ترجمہ:
اور گھنے باغات۔
نیز النبا : ١٦ میں فرمایا : اور گھنے باغات۔
تا کہ انسان باغات کے پھلوں سے نئے نئے ذائقوں کی لذت حاصل کرنے جنت کا اصل معنی ستر اور چھپانا ہے، ڈھال کو ” جنۃ “ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ دشمن کے وار کے لیے ستر ہوتی ہے، گھنے باغات سے مراد کھجور اور دوسرے پھلوں کے باغات ہیں ” الفافا “ کے معنی ہیں : ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے یعنی گھنے۔ شجر اس درخت کو کہتے ہیں جس کی بہ کثرت گھنی اور سایہ دار شاخیں ہوتی ہیں، درخت کی شاخیں جب ایک دوسرے میں گھسی ہوئی ہوتی ہیں تو وہ گھنا ہوتا ہے اور خوب صورت معلوم ہوتا ہے۔
علامہ علاء الدولہ سمنانی متوفی ٦٥٩ ھ لکھتے ہیں :
اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ ہم نے ارواح کے آسمان سے الطاف کی ہوائوں سے علوم ذاتیہ اور حکمت بائے ربانیہ کو قطرہ، قطرہ تمہارے دلوں کی سر زمین پر ٹپکایا ہے تاکہ ہم اس سے محبت ِ ذاتیہ کا غلہ اور شوق اور اشتیاق کا غلہ اگائیں اور محبت ِ الٰہی کے گھنے باغات پیدا کریں۔ (التاویلات النجمیہ ج ٥ مخطوطہ)
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 16