لّٰبِثِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَحۡقَابًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 23
sulemansubhani نے Friday، 18 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
لّٰبِثِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَحۡقَابًا ۞
ترجمہ:
جس میں وہ مدتوں تک رہیں گے۔
النبا : ٢٣ میں فرمایا : جس میں وہ مدتوں تک رہیں گے۔
” احقاب “ کا معنی دوزخ میں کفار کے خلود اور دوام کے منافی نہیں ہے
اس آیت میں ” احقاباً “ کا لفظ ہے یہ ” حقب “ کی جمع ہے ” حقب “ کا منی ہے : زمانہ کی ایک مقرر مدت، اس مدت کے تعین میں اہل لغت کا اختلاف ہے، بعض نے کہا : یہ مدت اسی برس ہے، بعض نے کہا : تین سو برس اور بعض نے کہا : تین ہزار برس، قتادہ نے کہا : ” احقاب “ سے مراد ہے : غیر متناہی زمانہ۔
امام رازی نے لکھا ہے کہ ” احقاب “ کی تفسیر میں مفسرین سے حسب ذیل وجوہ منقول ہیں :
(١) کلبی اور مقاتل نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ ” احقاب “ کا واحد ” حقب “ ہے اور اسکا معنی ہے : اسی اور کچھ سال اور سال تین سو ساٹھ دنوں کا ہوتا ہے اور ایک دن دنیا کے ہزار سالوں کے برابر ہے، حضرت ابن عمر (رض) نے بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس طرح کی روایت کی ہے۔
(٢) ہلال ہجری نے حضرت علی (رض) سے ” احقاب “ کے متعلق سوال کیا تو حضرت علی نے فرمایا :” احقاب “ کا واحد ” حقب “ ہے، اور اس کا معنی سو سال ہیں، اور ایک سال میں بارہ مہینے ہیں اور ایک مہینہ میں تین دن ہیں اور ایک دن ایک ہزار سال کا ہے۔
(٣) حسن بصری نے کہا :” احقاب “ کے متعلق کوئی نہیں جانتا کہ اس سے کتنی مدت مراد ہے لیکن اس کا واحد ” حقب “ ہے اور اس کی مدت ستر سال ہے اور ہر دن ایک ہزار سال کے برابر ہے۔
اب اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ ” احقاب “ خواہ کتنا طویل ہو مگر اس کی مدت ہے تو متناہی اور اہل دوزخ کے عذاب کی مدت غیر متناہی ہے ؟ اس اعتراض کے حسب ذیل جوابات ہیں :
(١) ” احقاب “ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اہل دوزخ کو کئی ” حقب “ تک عذاب دیا جائے گا، ایک ” حقب “ ختم ہونے کے بعد دوسرا ” حقب “ شروع ہوجائے گا اور یوں ان کو غیر متناہی ” حقب “ تک عذاب ہوتا رہے گا۔
( تفسیر مجاہد ص ٣١٨، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
(٢) زجاج نے کہا : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ وہ ” احقاب “ یعنی مدت طویل تک عذاب میں مبتلا رہیں گے، ان کو ٹھنڈک حاصل ہوگی نہ کوئی مشروب، پس ” احقاب “ کی مدت میں انہیں ایک خاص قسم کا عذاب ہوتا رہے گا اور اس مدت میں ان کو پینے کے لیے صرف گرم پانی اور دوزخیوں کی پیٹ دی جائے گی، پھر جب اس ” احقاب “ کی مدت گزر جائے گی تو ان کو دوسری قسم کا عذاب دیا جائے گا اور یوں ہر ” احقاب “ کے بعد عذاب کی جنس بدلتی رہے گی اور ان کو غیر متناہی زمانہ تک عذاب ہوتا رہے گا اور کبھی ختم نہیں ہوگا۔
(٣) اگرچہ اس آیت میں مفہوم مخالف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ” احقاب “ کی مدت گزرنے کے بعد اہل دوزخ کا عذاب منقطع ہوجائے گا لیکن اس کے مقابلہ میں صریح قرآن میں یہ مذکور ہے کہ اہل دوزخ کو غیر متناہی زمانہ تک عذاب ہوگا اور صریح دلیل مفہوم مخالف والی دلیل پر مقدم ہوتی ہے اور عذاب ختم نہ ہونے کا صریح ذکر اس آیت میں ہے :
یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْہَاز وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ۔ (المائدہ : ٣٧)
کفار دوزخ سے نکلنے کا ارادہ کریں گے حالانکہ وہ اس سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لیے دوزخ میں دائمی عذاب ہوگا۔
(٤) علامہ زمخشری صاحب کشاف نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ ” حقب “ کے معنی ہیں : بارش کا نہ ہونا اور خیر سے منقطع ہونا، یعنی کفار دوزخ میں اس حال میں رہیں گے کہ وہ خبر سے منقطع رہیں گے۔
( تفسیر کبیر ج ١١ ص ١٦۔ ١٥، داراحیامء التراث العربی، بیروت، ١٤١٥ ھ)
علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
اس آیت میں یہ دلیل نہیں ہے کہ کس وقت کفار دوزخ سے نکل جائیں گے اور وہ دوزخ میں خلود اور دوام کے ساتھ نہیں رہیں گے، کیونکہ ہرچند کہ ” احقاب “ کا معنی متناہی زمانہ ہے لیکن دوزخ میں کفار کے لیے ایک ” احقاب “ نہیں ہوگا بلکہ احقاب کثیرہ غیر متناہیہ ہوں گے، اور اگر بالفرض یہ آیت مفہوم مخالف کے اعتبار سے دوزخ میں کفار کے عدم خلود پر دلالت کرتی ہے تو قرآن مجید کی بہت آیتیں دوزخ میں کفار کے خلود اور دوام پر مفہوم صریح سے دلالت کرتی ہیں۔ مثلا ً یہ آیت ہے :
وَمَا ہُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْہَاز وَلَہُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ۔ (المائدہ : ٣٧)
اور کفار دوزخ سے نہیں نکل سکیں گے اور ان کے لیے اس میں دائمی عذاب ہوگا۔
(روح المعانی جز ٣٠ ص ٢٥۔ ٢٤، دارالفکر، بیروت، ١٤١٧ ھ)
بعض علماء کے نزدیک کفار کا عذاب دائمی نہیں ہے
شیخ ابن قیم اور بعض دوسرے فقہاء اسلام نے زیر تفسیر آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ کفار محدود اور متناہی زمانہ تک دوزخ میں رہیں گے، پھر ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ ( شفاء العلیل ص ٢٦٤۔ ٢٥٢، مصر، حاوی الارواح، ج ٢ ص ٢٣٥۔ ١٦٧ )
لیکن ان کا یہ استدلال صحیح نہیں ہے اور جمہورفقہاء اسلام کے خلاف ہے، ان کے استدلال کا جواب ہم امام رازی اور علامہ آلوسی کی عبارات سے واضح کرچکے ہیں، ان علماء نے قرآن مجید کی بعض دوسری آیات سے بھی اپنے مؤقف کو ثابت کیا ہے، ہم ان آیات کو مع ان کے جوابات کے پیش کر رہے ہیں۔
ھود : ١٠٧ سے کفار کے دائمی عذاب نہ ہونے پر استدلال
فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّشَہِیْقٌ۔ خٰلِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآئَ رَبُّکَط اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ ۔ (ھود : ١٠٦۔ ١٠٧)
رہے وہ لوگ جو بدبخت ہیں سو وہ دوزخ میں ہوں گے وہ دوزخ میں زور زور سے چیخیں گے اور چلائیں گے۔ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان اور زمین قائم رہیں گے، ماسوا اس مدت کے جس کو آپ کا رب چاہے گا، بیشک آپ کا رب جس چیز کا ارادہ کرے اس کو خوب کرنے والا ہے۔
” وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں جب تک آسمان اور زمین قائم رہیں گے “ آیت کے اس حصہ سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا قائم رہنا تو دائمی اور ابدی نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ نے کفار کے دوزخ میں قیام کو آسمانوں اور زمینوں کے قیام پر معلق کیا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ کفارکا دوزخ میں قیام بھی دائمی اور ابدی نہیں ہے بلکہ وقتی اور عارضی ہے۔
قرآن مجید کی دیگر نصوص قطعیہ اور بہ کثرت احادیث سے چونکہ یہ ثابت ہے کہ کفار ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس لیے مفسرین نے اس آیت کی متعدد تاویلات کی ہیں، بعض ازاں یہ ہیں :
استدلال مذکور کے جوابات
(١) ان آیتوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّۃِ خٰـلِدِیْنَ فِیْہَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآئَ رَبُّکَط عَطَآئً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ ۔ (ھود : ١٠٨)
رہے وہ لوگ جو نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم رہیں گے، ماسوا اس مدت کے جس کو آپ کا رب چاہے گا، یہ غیر منقطع عطاء ہے۔
اگر جب تک آسمان اور زمین قائم رہنے سے یہ لازم آتا ہے کہ آسمان اور زمین کے فناء ہونے کے بعد دوزخ کا عذاب منقطع ہوجائے تو پھر ھو : ١٠٨ سے یہ لازم آئے گا کہ آسمان اور زمین کے فنا ہونے کے بعد جنت کا اجر وثواب بھی منقطع ہوجائے حالانکہ اس بات کے شیخ ابن قیم بھی قائل نہیں، سو یہ لوگ اس آیت کا جو جواب دیں گے جمہور علماء کی طرف سے وہی جواب ھود : ١٠٨ کا بھی تسلیم کرلیا جائے۔
(٢) اس آیت میں آسمان اور زمین سے مراد دنیا کے آسمان اور زمین نہیں ہیں بلکہ جنت اور دوزخ کے آسمان اور زمین مراد ہیں کیونکہ جنت اور دوزخ فضاء اور خلاء میں تو نہیں ہیں، ان میں فرش ہوگا جس پر لوگ بیٹھے ہوئے یا ٹھہرے ہوئے ہوں گے، اور ان کے لیے کوئی سائبان بھی ہوگا جس کے سائے میں وہ لوگ ہوں گے اور عربی میں ہر سایہ کرنے والی چیز پر سماء کا اطلاق کیا جاتا یہ اور جنت میں زمین کے وجود پر یہ آیت دلیل ہے :
وَ قَالُوا الْحَمْدُ ِ اللہ ِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہٗ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّۃِ حَیْثُ نَشَآئُج فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ ۔ (الزمر : ٧٤)
اور (جنتی) کہیں گے : اللہ ہی کے لیے سب تعریفیں ہیں جس نے ہم سے کیا ہوا وعدہ سچا کردیا اور ہم کو ( اس) زمین کا وارث بنایا تاکہ ہم جنت میں جہاں چاہیں رہیں، پس نیک عمل کرنے والوں کا ثواب کیسا اچھا ہے۔
آخرت کے زمین و آسمان دنیا کے زمین و آسمان سے مختلف ہیں، اس پر یہ آیت بھی دلیل ہے :
یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَالسَّمٰوٰتُ (ابراہیم : ٤٨ )
جس دن زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔
اور جب یہ واضح ہوگیا کہ جنت اور دوزخ کے زمین و آسمان اس دنیا کے زمین و آسمان کے مغائر ہیں اور جب جنت اور دوزخ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے تو ان کے زمین اور آسمان بھی ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور جنت اور دوزخ میں رہنے والے بھی ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے۔
(٣) اگر زمین و آسمان سے مراد اس دنیا کے زمین و آسمان ہوں تب بھی یہ آیت جنت اور دوزخ میں جنتیوں اور دوزخیوں کے دوام کے منافی نہیں ہے، کیونکہ عربوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ جب کسی چیز کا دوام بیان کرنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے تو فلاں چیز رہے گی اور قرآن مجید چونکہ عربوں کے اسلوب کے موافق نازل ہوا ہے، اس لیے جب تک آسمان اور زمین قائم رہیں گے، اس سے مراد دوام اور خلود ہی ہے، اور معنی یہی ہے کہ جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
(٤) مقدم کے ثبوت سے تالی کا ثبوت ہوتا ہے لیکن مقدم کی نفی سے تالی کی نفی نہیں ہوتی، مثلاً ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ انسان ہے تو پھر یہ حیوان ہے، یہ درست ہے لیکن یہ درست نہیں ہے کہ اگر یہ انسان نہیں ہے تو پھر یہ حیوان نہیں ہے کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ انسان نہ ہو گھوڑا ہو اور حیوان ہو، اسی طرح جب تک آسمان اور زمین میں وہ دوزخ میں رہیں گے، اس سے یہ لازم نہیں ہوگا کہ جب آسمان اور زمین نہ ہوں تو وہ دوزخ میں نہ ہوں۔
الانعام : ١٢٨ سے کفار کے دائمی عذاب نہ ہونے پر استدلال اور اس کے جوابات
قَالَ النَّارُ مَثْوٰکُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اِلاَّ مَا شَآئَ اللہ ُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ۔ (الانعام : ١٢٨ )
اللہ فرمائے گا : دوزخ کی آگ تمہارا ٹھکانہ ہے، تم اس میں ہمیشہ رہنے ہو، مگر جتنی مدت اللہ چاہے، بیشک آپ کا رب بہت حکمت والا خوب جاننے والا ہے۔
اس استثناء کی دو توج ہیں ہیں : (١) وہ ہمیشہ دوزخ کی آگ میں رہیں گے مگر اس سے دو وقت مستثنیٰ ہیں : ایک قبر سے حشر تک کا زمانہ اور دوسرا میدان حشر میں ان کے محاسبہ تک کا وقت۔ اس کے بعد ان کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا، اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے (٢) جب دوزخی دوزخ کی آگ کی شدت سے فریاد کریں گے تو ان کو دوزخ کی آگ سے نکال کر زمہر یر ( سخت ٹھنڈا اور برفانی طبقہ) میں ڈال دیا جائے گا اور جب زمہریر کی ٹھنڈک سے گھبرا کر فریاد کریں گے، تو ان کو پھر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ الغرض ! وہ ہرحال میں ایک عذاب سے دوسرے عذاب کی طرف منتقل ہوں گے۔
حضرت ابن عباس نے فرمایا : کسی شخص کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے متعلق یہ حکم لگائے کہ وہ اپنی کس مخلوق کو جنت میں نہیں داخل کرے گا یا دوزخ میں نہیں داخل کرے گا۔ ( جامع البیان جز ٧ ص ٤٦، مطبوعہ دارالفکر، بیروت، ١٤١٥ ھ)
جن آیات سے مخالفین نے یہ استدلال کیا تھا کہ کفار کو دائمی عذاب نہیں ہوگا، ان کے جوابات ذکر کرنے کے بعد اب ہم قرآن مجید کی وہ آیات پیش کر رہے ہیں جن میں کفار کے لیے دوزخ کے دائمی عذاب کی تصریح ہے، قرآن مجید میں ایسی ٣٧ آیات ہیں۔
کفار کے لیے دوزخ کے دائمی عذاب کی تصریح کی آیات
جن آیات میں کفار کے لیے دوزخ میں خلود اور خالدین کی تصریح ہے، ان کے حوالہ جات حسب ذیل ہیں :
(١) الفرقان : ٦٩ (٢) یونس : ٥٣ (٣) السجدہ : ١٤ (٤) حم السجدہ : ٢٨ (٥) محمد : ١٥ (٦) النسائ : ١٤ (٧) التوبہ : ٦٣ (٨) الحشر : ١٧ (٩) البقرہ : ٣٩ (١٠) البقرہ : ٨١ (١١) البقرہ : ٢١٧ (١٢) البقرہ : ٢٥٧ (١٣) البقرہ : ٢٧٥ (١٤) آل عمران : ١١٦ (١٥) المائدہ : ٣٧ (١٦) المائدہ : ٨٠ (١٧) التوبہ : ١٧ (١٨) یونس : ٢٧ (١٩) ھود : ٢٣ (٢٠) الرعد : ٥ (٢١) الانبیائ : ٩٩ (٢٢) المومنون : ١٠٣ (٢٣) الزخرف : ٧٤ (٢٤) المجادلہ : ١٧ (٢٥) البقرہ : ١٦٢ (٢٦) آل عمران : ٨٨ (٢٧) النسائ : ١٢٩ (٢٨) التوبہ : ٦٨ (٢٩) ھود : ١٠٧ (٣٠) النمل : ٢٩ (٣١) طہٰ : ١٠١ (٣٢) الاحزاب : ٦٥ (٣٣) الزمر : ٧٢ (٣٤) المؤمن : ٧٦ (٣٥) التغابن : ١٠ (٣٦) الجن : ٢٣ (٣٧) البینہ : ٦
ان آیات میں تین آیات ایسی ہیں جن میں ” خالدین “ کی تاکید ” ابدائ “ کے ساتھ ہے، وہ آیات حسب ذیل ہیں :
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَظَلَمُوْا لَمْ یَکُنِ اللہ ُ لِیَغْفِرَلَہُمْ وَلَا لِیَہْدِیَہُمْ طَرِیْقًا۔ اِلَّا طَرِیْقَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللہ ِ یَسِیْرًا۔ (النسائ : ١٦٨۔ ١٦٩ )
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا، اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور نہ کو کوئی راستہ دکھائے گا۔ سوائے دوزخ کے راستے کے، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، اور یہ کام اللہ پر آسان ہے۔
اِنَّ اللہ لَعَنَ الْکٰفِرِیْنَ وَاَعَدَّ لَھُمْ سَعِیْرًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَآ اَبَدًاج لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّاوَّ لَا نَصِیْرًا۔ (الاحزاب : ٦٤۔ ٦٥ )
بے شک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، وہ کوئی کار ساز اور مددگار نہیں پائیں گے۔
وَمَنْ یَّعْصِ اللہ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنَّ لَہٗ نَارَجَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا۔ (الجن : ٢٣ )
اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسول کی، اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔
ان ٣٧ آیات کے علاوہ قرآن مجید میں اور بھی آیات ہیں جن میں یہ دلیل ہے کہ کفار ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور وہ کبھی دوزخ سے نکل نہیں سکیں گے۔
اِنَّ اللہ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ (النسائ : ٤٨ )
بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور اس سے کم گناہ کو جس کے لیے چاہتا ہے بخش دیتا ہے۔
اب اگر اللہ تعالیٰ کسی کافر یا مشرک کی سزا معاف کر کے اس کو بخش دے تو اس کی اس خبر کے خلاف لازم آئے گا اور یہ محال ہے، نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ کسی کافر کے عذاب میں تخفیف نہیں فرمائے گا، اب اگر وہ کسی کافر کی سزا معاف کر دے تو اس آیت کے خلاف ہے۔
نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِط وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (الاعراف : ٤٠ )
بے شک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی اور ان ( پر ایمان لانے) سے تکبر کیا، ان کے لیے آسمانوں کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہوں گے حتیٰ کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہوجائے، اور ہم اسی طرح مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک واضح مثال سے یہ بتایا ہے کہ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں داخل ہونا محال ہے، اسی طرح کفار کا جنت میں داخل ہونا محال ہے، اب کفار کی مغفرت اور ان کے جنت میں داخل ہونے کے امکان کو ظاہر کرنا اس آیت کی تکذیب کے مترادف ہے، اور اللہ تعالیٰ کا بھی یہ ارشاد ہے :
اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَارًاط کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُھُمْ بَدَّلْنٰھُمْ جُلُوْدًا غَیْرَھَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَط اِنَّ اللہ کَانَ عَزِیْزًا حَکِیْمًا۔ (النسائ : ٥٦ )
بے شک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا کفر کیا، ہم عنقریب ان کو آگ میں داخل کردیں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی ہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو چکھیں۔
اس آیت سے بھی یہ واضح ہوگیا کہ کافروں پر عذاب کا سلسلہ تا ابد جاری رہے گا، ان تمام آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بغیر کسی قید اور بغیر کسی استثناء کے یہ کلی حکم لگایا ہے کہ کافروں کو غیرمتناہی زمانہ تک عذاب ہوگا اور اب یہ امکان پیدا کرنا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو کافروں کو ایک مدت تک عذاب دے کر ان کو معاف فرما دے گا، ان تمام آیتوں کی تکذیب کے مترادف ہے جن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ان کو معاف نہیں کرے گا، ان کے عذاب میں تخفیف نہیں کی جائے گی، ان کو جنت میں داخل نہیں کیا جائے گا اور جب بھی ان کی کھال جل جائے گی اس کی دوسری کھال سے بدل دیا جائے گا اور ان کے علاوہ بہ کثرت آیات ہیں، جن میں فرمایا ہے کہ کافروں کو دائمی اور ابدی عذاب ہوگا۔
کفار کے دائمی عذاب سے استثناء کی توجیہات
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے جب تک آسمان اور زمین رہیں گے مگر جتنا آپ کا رب چاہے۔
اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کہ کچھ عرصہ کے بعد دوزخیوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا، یہ دوزخی کون ہیں ؟ تحقیق یہ ہے کہ ان دوزخیوں سے مراد موحدین ہیں جن کو ان کے گناہوں کے سبب سے تطہیر کے لیے دوزخ میں ڈالا جائے گا، پھر کچھ عرصہ کے بعد ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔
(١) قتادہ اور ضحاک نے بیان کیا کہ یہ استثناء ان موحدین کی طرف راجع ہے جنہوں نے کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کیا تھا، اللہ تعالیٰ جب تک چاہے گا ان کو دوزخ میں رکھے گا، پھر ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گا۔
(جامع البیان رقم الحدیث : ١٤٣١٤۔ ١٤٣١٣۔ ١٤٣١٢۔ ١٤٣١١، تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١١٢٣٧۔ ١١٢٢٦ )
حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کردے گا، وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہے گا جنت میں داخل فرمائے گا، اور اہل دوزخ کو دوزخ میں داخل کر دے گا، پھر فرمائے گا : تم دیکھو کہ جس کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہو اس کو دوزخ سے نکال لو، پھر وہ دوزخ سے اس حال میں نکالے جائیں گے کہ وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، پھر ان کو حیات کے دریا میں ڈال دیا جائے گا تو وہ اس طرح نشو و نما پانے لگیں گے جس طرح دریا کے کنارے اگا ہوا دانہ نشو و نما پاتا ہے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح زرد رنگ کا لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ (صحیح البیان رقم الحدیث : ٦٥٦٠۔ ٢٢ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤)
(٢) اس آیت کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ دوزخی ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، سو ان اوقات کے جب وہ دنیا میں تھے یا برزخ میں تھے یا میدان حشر میں حساب کتاب کے لیے کھڑے ہوئے تھے، خلاصہ یہ ہے کہ دوزخیوں کا دوزخ کے عذاب سے استثناء ان تین اوقات اور احوال کی طرف راجع ہے۔
(٣) اس آیت کی تیسری توجیہ ہے کہ یہ استثناء ان کے چیخنے اور چلانے کی طرف راجع ہے یعنی وہ دوزخ میں ہمیشہ چیختے اور چلاتے رہیں گے، لیکن جس وقت اللہ تعالیٰ چاہے گا ان کی چیخ و پکار نہیں ہوگی۔
(٤) اس آیت کی چوتھی توجیہ یہ ہے کہ دوزخ میں آگ کا عذاب بھی ہوگا اور زمہر یر کا عذاب بھی ہوگا جس میں بہت سخت ٹھنڈک ہوگی اور یہ استثناء آگ کے عذاب کی طرف رجع ہے، یعنی وہ ہمیشہ ہمیشہ آگ کے عذاب میں رہیں گے مگر جس وقت اللہ تعالیٰ چاہے گا ان کو آگ کے عذا ب سے نکال کر ٹھنڈک کے عذاب سے میں ڈال دے گا۔
(٥) اس آیت کی پانچویں توجیہ یہ ہے کہ یہ آیت سورة فتح کی اس آیت کی طرح ہے :
لَقَدْ صَدَقَ اللہ ُ رَسُوْلَہُ الرُّئْ یَا بِالْحَقِّج لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ اِنْ شَآئَ اللہ ُ اٰمِنِیْنَلا مُحَلِّقِیْنَ رُئُ وْسَکُمْ وَمُقَصِّرِیْنَ (الفتح : ٢٧ )
بے شک اللہ نے اپنے رسول کو حق کے ساتھ سچا خواب دکھایا، اگر اللہ چاہے گا تو تم ضرور مسجد حرام میں امن وامان کے ساتھ داخل ہو گے ( بعض) اپنے سروں کو منڈاتے ہوئے اور ( بعض) اپنے سروں کو کترواتے ہوئے۔
بظاہر اس آیت کا یہ معنی ہے : اگر اللہ چاہے گا تو تم امن کے ساتھ مسجد حرام میں داخل ہو گے اور اگر اللہ چاہے گا تو نہیں داخل ہوگے، حالانکہ اللہ کو یہ علم تھا کہ مسلمان مسجد حرام میں داخل ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کے علم کے موافق ہونا واجب ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کا علم معاذ اللہ جہل سے بدل جائے گا، سو جس طرح اس آیت میں ” اللہ چاہے گا “ کا یہ معنی نہیں ہے کہ مسلمانوں کا مسجد حرام میں داخل نہ ہونا بھی ممکن ہے، اسی طرح زیر تفسیر آیت میں بھی ” مگر جتنا آپ کا رب چاہے “ کا یہ معنی نہیں ہے کہ ایک محدود مدت کے بعد اللہ تعالیٰ یہ چاہے گا کہ دوزخیوں کو دوزخ سے نکال لیا جائے۔
اہل جنت کے جنت میں اہل نار کے نار میں دوام کے متعلق احادیث
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور رہے وہ لوگ جو نیک بخت ہیں تو وہ جنت میں ہوں گے، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، جب تک آسمان اور زمین رہیں گے مگر جتنا آپ کا رب چاہے۔
اس آیت میں جو استثناء ہے اس کی بھی توجیہات ہیں جو اس سے پہلی آیت میں بیان کی جا چکی ہیں اور اولیٰ یہ ہے کہ اس کو ان اہل جنت پر محمول کیا جائے جو کچھ عرصہ دوزخ میں رہیں گے، پھر ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کردیا جائے گا اور اب اس آیت کا معنی اس طرح ہوگا کہ نیک بخت لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، سو اس وقت کے جب وہ دوزخ میں تھے، پھر ان کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔
اس کے بعد فرمایا :” یہ غیر مقطع عطاء ہے “۔ حضرت ابن عباس (رض) ، مجاہد اور ابو العالیہ وغیرہ نے کہا ہے کہ یہ اس لیے فرمایا کہ کسی شخص کو یہ وہم نہ ہو کہ اہل جنت کا جنت میں قیام منقطع ہوجائے گا بلکہ ان کا جنت میں قیام حتمی اور یقینی طور پر دائمی اور غیر منقطع ہے اور حدیث صحیح ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : موت کو ایک سرمئی مینڈھے کی شکل میں لایاجائے گا اور اس کو جنت اور دوزخ کے درمیان ذبح کردیا جائے گا، پھر ایک منادی یہ ندا کرے گا : اے اہل جنت ! پھر وہ سراٹھا کر منادی کی طرف دیکھیں گے، منادی کہے گا : تم پہچانتے ہو یہ کیا ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ! یہ موت ہے اور سب اس کو دیکھ لیں گے، پھر وہ مناوی ندا کرے گا : اے اہل نار ! وہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھیں گے، منادی کہے گا : تم پہچانتے ہو یہ کیا ہے ؟ وہ کہیں گے : ہاں ! یہ موت ہے اور سب اس کو دیکھ لیں گے، پھر اس مینڈھے کو ذبح کردیا جائے گا، پھر وہ منادی کہے گا : اہل جنت ! اب ہمیشہ رہنا ہے، موت نہیں ہے اور اہل نار ! اب ہمیشہ رہنا ہے اور موت نہیں ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٧٣٠، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٤٩، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣١٥٧، سنن کبریٰ للنسائی رقم الحدیث ١٣١٦، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٣٢٧، سنن الدارمی رقم الحدیث : ٢٨١١، مسند احمد ج ٢ ص ٣٧٧)
قرآن مجید میں اہل جنت کے متعلق :
لَا یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا الْمَوْتَ اِلَّا الْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰی (الدخان : ٥٦ )
وہ جنت میں موت کا مزہ نہیں چکھیں گے سوا اس پہلی موت کے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک منادی ندا کرے گا : ( اے اہل جنت ! ) تم ہمیشہ تندرست رہو گے اور کبھی بیمار نہیں ہو گے، اور تم ہمیشہ زندہ رہو گے اور تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی اور تم ہمیشہ جوان رہو گے تم کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تم ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے تم پر کبھی مصیبت نہیں آئے گی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨٣٧، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٢٤٦، مسند احمد ج ٢ ص ٣١٩، سنن الدارمی رقم الحدیث : ١٢٨٢٧، السنن الکبریٰ ، للنسائی رقم الحدیث : ٣٩٦٣ )
خلود عذاب کے منکرین کا بعض احادیث سے استدلال اور اس کا جواب
عذاب دوزخ کے خلود اور دوام کے منکرین نے اپنے مؤقف پر بعض احادیث سے بھی استدلال کیا ہے :
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو اس نے اپنے پاس عرش کے اوپر لکھ دیا کہ بیشک میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی۔
( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٧٤٥٣، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٥١ )
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے سو رحمتیں پیدا کیں، ایک رحمت تمام مخلوق میں رکھ دی اور ننانوے (٩٩) رحمتیں اپنے پاس رکھ لیں، امام مسلم نے اس کے بعد دوسری روایت میں ذکر کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے لیے سو رحمتیں ہیں، ان میں سے ایک رحمت جناب، انسانوں، جانوروں اور حشرات لا ارض میں نازل کی ہے جس سے وہ ایک دوسرے سے نرمی اور رحم کرتے ہیں اور وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ نے ننانوے رحمتیں مؤخر کرلی ہیں جن کے ساتھ وہ قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔
( صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٧٥٤، باب سعۃ رحمۃ اللہ رقم الحدیث : ١٩۔ ١٨)
منکرین خلود کہتے ہیں کہ دوزخ اللہ تعالیٰ کے غضب کا مظہر ہے اور جنت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر ہے، اب اگر دوزخ کا عذاب بھی جنت کے ثواب کی طرح دائمی ہو تو اللہ کی رحمت اس کے غضب پر سبقت نہیں لے جاسکے گی، اس لیے ماننا پڑے گا کہ دوزخ کا عذاب دائمی نہیں ہوگا، اس کا جواب یہ ہے کہ دوزخ کا عذاب گناہ گار مسلمانوں پر دائمی نہیں ہوگا اور کفار پر دائمی عذاب ہوگا جیسا کہ بہ کثرت قرآن مجید کی آیات اور احادیث سے واضح ہوچکا ہے۔
سید سلیمان ندوی نے منکرین خلود کی طرف سے درج ذیل احادیث سے بھی استدلال کیا ہے :
(١) طبرانی میں حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جہنم پر ایک دن ایسا آئے گا جب خزاں رسدہ پتے کی مانند ہوجائے گا اور اس کے درازے کھل جائیں گے۔
(٢) حضرت جابر (رض) یا کسی اور صحابی (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جہنم پر ایک دن ایسا آئے گا جس میں اس کے درازے کھل جائیں گے اور اس میں کوئی نہ ہوگا۔
(٣) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں جو کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جہنم میں ایک دن ایسا آئے گا، جب اس میں کوئی نہ ہوگا۔
(٤) تفسیر عبد بن حمید میں حضرت عمر (رض) سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اگر اہل دوزخ ریگستان کے ذرات کے شمار کے بقدر بھی دوزخ میں رہیں، پھر بھی ایک دن آئے گا جب وہ اس سے نکلیں گے۔
(٥) عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ جہنم پر ایک دن آئے گا جب اس کے خالی دروازے بھڑ بھڑائیں گے اور اس میں کوئی نہ ہوگا اور یہ اس وقت ہوگا جب لوگ اس میں صدہا ہزار سال ( احقاب) کی مدت پوری کرلیں گے۔
(٦) عبد الرزاق، ابن منذر، طبرانی اور بیہقی کی کتاب الاسماء والصفات میں ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ صحابی (رض) یا ابو سعید خدری (رض) صحابی یا کسی اور صحابی نے فرمایا کہ ” الاماشاء ربک “ کا استثناء پورے قرآن پر حاوی ہے، یعنی جہاں جہاں قرآن میں ” خالدین فیھا “ ( سدا اس میں رہیں گے) ہے، وہاں مشیت الٰہی کا استثناء قائم ہے۔
(٧) حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا کہ دوزخ پر ایک زمانہ آئے گا جب اس کے خالی درازے کھڑ کھڑائیں گے۔ (سیرۃ النبی ج ٤ ص ٤٠٩۔ ٤٠٨، دارالاشاعت، کراچی ١٩٨٥ ئ)
یہ تمام روایات ضعیف ہیں اور ان میں سے بعض بلا سند مذکور ہیں، لہٰذایہ روایات قرآن مجید کی آیات قطعیہ اور احادیث صحیحہ کے مزاحم ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔
اس اعتراض کا جواب کہ جب دوزخی دوزخ کے عادی ہوجائیں گے تو پھر ان کو تکلیف نہیں ہوگی
سید سلیمان ندوی لکھتے ہیں :
صوفیہ میں شیخ محی الدین ابن عربی اور ان کے متبعین یہ فرماتے ہیں کہ کافر و مشرک جن پر خلود نار کا حکم ہے، وہ بالآخر دوزخ میں رہتے ایسے ہوجائیں گے کہ ان کو اسی دوزخ میں راحت و لذت معلوم ہونے لگے گی، جیسے بعض کیڑے غلاظتوں ہی کو پسند کرتے ہیں اور ان ہی میں لطف اٹھاتے ہیں۔ (سیرۃ النبی ج ٤ ص ٤٠٦، دارالاشاعت، کراچی، ١٩٨٥ ئ)
قرآن مجید میں صرف یہ مذکور نہیں ہے کہ مشرکین ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے بلکہ قرآن مجید میں یہ بھی تصریح ہے کہ ان کو ہمیشہ ہمیشہ عذاب ہوتا رہے گا اور عذاب کا معنی ہے : درد اور اذیت میں مبتلا ہونا اور یہ لطف اٹھانے کے منافی ہے۔
اللہ عزوجل فرماتا ہے :
یُّضٰعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَیَخْلُدْ فِیْہٖ مُہَانًا۔ (الفرقان : ٦٩ )
مشرک کے لیے قیامت کے دن دگنا عذاب کردیا جائے گا اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ مبتلا رہے گا۔
ثُمَّ قِیْلَ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ (یونس : ٥٢ )
پھر ظالموں سے کہا جائے گا : دائمی عذاب کو چکھو۔
وذوقوا عذاب الخلد بما کنتم تعملون۔ (السجدہ : ١٤)
تم اپنے کرتوتوں کے سب دائمی عذاب کو چکھو۔
ان آیات سے واضح ہوگیا کہ کفار اور مشرکین ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے اور ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے۔
دائمی عذاب پر امام رازی کے دو اعتراضوں کا جواب
امام رازی نے لوگوں کی طرف سے ایک اعتراض اس طرح نقل کیا ہے کہ کافر نے زمانہ متناہی میں جرم کیا ہے اور اس کی سزا غیر متناہی زمانہ تک دینا ظلم ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ یہ عذاب کافر کی نیت کے اعتبار سے ہے، اس کی نیت دائما کفر کرنے کی ہوتی ہے، اگر بالفرض وہ غیر متناہی زمانہ تک زندہ رہتا تو غیر متناہی زمانہ تک کفر کرتا، اس وجہ سے اس کی غیر متناہی زمانہ تک عذاب دیا جائے گا۔
نیز یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جتنے وقت میں جرم کیا جائے، اس کو سزا بھی اتنے ہی وقت میں دی جائے، انسان ایک منٹ میں کسی کو گولی مار کر قتل کردیتا ہے اور بعض اوقات اس کی سزا عمر قید ہوتی ہے، شوگر یا ہائی بلڈ پریشر کا مریض تھوڑے سے وقت میں بد پرہیزی کرتا ہے اور اس کی وجہ سے عمر بھر کے لیے فالج میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
امام رازی نے دوسرا اعتراض یہ ذکر کیا ہے کہ یہ عذاب نفع سے خالی ہے اس لیے یہ قبیح ہے، یہ نفع سے اس لیے خالی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تو اس کا نفع ہو نہیں سکتا، کیونکہ وہ نفع اور ضرر سے مستغنی اور بلند ہے، اور دوزخی کافر کو بھی عذاب سے نفع نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے حق میں یہ عذاب ضرر محض ہے، اور جنتی مسلمانوں کو بھی کافر کے عذاب سے کوئی نفع نہیں ہوگا، کیونکہ وہ اپنی لذتوں میں منہمک اور مشغول ہوں گے تو کسی کے دائمی عذاب میں مبتلا ہونے سے انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ امام رازی کے اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اس دلیل کے اعتبار سے تو کافر کو مطلقاً عذاب ہونا ہی نہیں چاہیے اور اس دلیل کو دائمی عذاب کے ساتھ مخصوص کرنا باطل ہے۔
دوسراجواب یہ ہے کہ کفار کو عذاب دینا ان کے جرم کی سزا ہے اور اللہ تعالیٰ کا عدل ہے اس میں لحاظ نہیں کیا گیا کہ اس سے کسی کو نفع پہنچے گا یا نہیں۔ یہ دواعتراض امام رازی نے تفسیر کبیرج 6 ص 401 میں ذکر کیے ہیں۔
کفار اور مشرکین کے دوزخ میں دائمی عذاب کے منکرین کے ہم نے تمام اعتراضات کے چن چن کر جواب لکھ دیئے، اللہ تعالیٰ مشہور اسکالر حضرت مولانا عبد المجید زیدحبہ، (برسٹل، برطانیہ) کو جزائے خیر عطاء فرمائے، انہوں نے برطانیہ سے فون کر کے مجھ سے فرمائش کی کہ میں اس مسئلہ کی تحقیق کروں اور اس سلسلہ میں سید سلیمان ندوی کی ” سیرۃ النبی “ کی چوتھی جلد کا بھی جائزہ لوں گا، اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج ان کی یہ فرمائش بہ احسن وجوہ پوری ہوگئی ہے، والحمد للہ رب العالمین۔ ٩٢ جمادی الثانیہ ٦٢٤١ ھ/٦١ اگست ٥٠٠٢ ء
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 23