أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكُلَّ شَىۡءٍ اَحۡصَيۡنٰهُ كِتٰبًا ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ہر چیز کو گن کر لکھ رکھا ہے۔

النبا : 29 میں فرمایا : اور ہم نے ہر چیز کو گن کر لکھ رکھا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے لیے جزئیات کے علم کا ثبوت اور فلاسفہ کے اعتراض کا جواب

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ازل میں ہر چیز کا علم تھا اور اس نے اپنے علم کو لوح محفوظ میں لکھ کر محفوظ کرلیا ہے اور اس کے فرشتوں نے بندوں کے صحائف اعمال میں بندوں کے تمام اعمال کو لکھ کر محفوظ کرلیا ہے، اللہ تعالیٰ کو ازل میں علم تھا کہ بندے اپنے اختیار سے کیا عمل کریں گے اور اس کو ان کے ہر ہر جزی عمل کا تفصیلی علم تھا اور اس کا علم غیر متبدل اور غیر فانی ہے ورنہ اس کا جہل لازم آئے گا اور یہ محال ہے، اس کی نظریہ آیت ہے :

یََوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللہ ُ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُہُمْ بِمَا عَمِلُوْاط اَحْصٰہُ اللہ ُ وَنَسُوْہُط وَ اللہ ُ عَلٰی کُلِّ شّیْئٍ شَہِیْدٌ۔ (المجادلہ : ٦)

جس دن اللہ ان سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا اور ان کو ان کے کیے ہوئے عملوں کو خبر دے گا، جن کو اللہ نے شمار کر رکھ ہے اور جن کو یہ بھول گئے تھے اور اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔

بندوں نے اپنے اختیار سے جو عمل کیے ان ہی اعمال کا اللہ تعالیٰ کو ازل میں پیشگی علم تھا، جس کو اس نے گن گن کر لوح محفوظ میں لکھ لیا تھا، اور بعد میں فرشتوں نے ان کے ہر ہر عمل کو لکھ لیا، ان آیات میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمام جزئیات کا علم ہے، اس کے بر خلاف فلاسفہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کلیات کا علم ہے اور جزئیات کا علم نہیں ہے کیونکہ جزئیات تو متغیر ہوتی رہتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے لیے جزئیات کا علم مانا جائے تو اس کے علم میں تغیر اور حدوث لازم آئے گا اور یہ محال ہے، کیونکہ مثلاً اللہ تعالیٰ کو ازل میں یہ علم تھا کہ فرعون غرق ہوگا، اور جب فرعون غرق ہو رہا تھا تو پہلا علم متغیر ہو کر اس طرح ہوگا کہ فرعون غرق ہو رہا ہے، اور اب جب کہ فرغون غرق ہوچکا ہے اگر وہی پہلا علم اپنے حال پر ہو کہ فرعون غرق ہوگا یا غرق ہو رہا ہے تو یہ علم واقع کے خلاف ہوگا اور جو علم واقع کے خلاف ہو وہ جہل ہوتا ہے، اس لیے لا محالہ وہ علم متغیر ہوجائیں گے اور اب اس کا علم اس طرح ہوگا کہ فرعون غرق ہوچکا ہے، پس اگر اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم ہو تو اس کا علم متغیر ہوجائے گا اور ہر متغیر حادث ہوتا ہے اور یہ محال ہے، لہٰذا اللہ تعالیٰ کو جزئیات کا علم نہیں ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے علم کی کیفیت کا علم نہیں ہے، ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کو تمام کلیات اور جزئیات کا علم ہمیشہ سے ہے اور کوئی چیز اس سے مخفی نہیں ہے، یہ جاہل فلاسفہ اتنا نہیں سمجھتے کہ مخلوق کو تو جزئیات کا علم ہوتا ہے اگر خالق کو جزئیات کا علم نہ ہو تو مخلوق کا علم خالق سے بڑھ جائے گا اور یہ محال ہے، باقی رہا اس علم کس کیفیت سے ہے، اس کا علم ہمیں کیسے ہوسکتا ہے، کیا ہم کو یہ علم ہے کہ اللہ تعالیٰ سمیع ہے تو وہ کیسے سنتا ہے ؟ وہ بصیر ہے تو وہ کیسے دیکھتا ہے ؟ وہ کیسے کلام کرتا ہے ؟ وہ زندہ ہے تو کیسے زندہ ہے ؟ ہم اس کی کسی صفت کو کیفیت نہیں جانتے تو اس کے علم کی کیفیت کو کیسے جان سکتے ہیں، تاہم فلاسفہ کے اطمینان کے لیے متکلمین نے یہ کہا یہ کہ ازل میں اللہ تعالیٰ کا علم مطلق ہے اور لا بشر ط شی کے مرتبہ میں ہے، فرعون کے غرق ہونے سے پہلے اس علم کی تعبیر اس طرح تھی کہ فرعون غرق ہوگا اور غرق کے وقت اس کی تعبیر اس طرح ہوگی کہ وہ غرق ہو رہا ہے، اور غرق ہونے کے بعد اس کی تعبیر اس طرح ہوگی کہ وہ غرق ہوچکا ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 29