أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّفُتِحَتِ السَّمَآءُ فَكَانَتۡ اَبۡوَابًا ۞

ترجمہ:

اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے بن جائیں گے۔

 

النبا : ١٩ میں فرمایا : اور آسمان کھول دیا جائے گا تو اس میں دروازے بن جائیں گے۔

آسمان کے دروازوں کا ثبوت

اس آیت کا معنی ہے : فرشتوں کے نزول کے لیے آسمان میں دروازے بن جائیں گے، قرآن مجید میں ہے :

وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلًا۔ (الفرقان : ٢٥ )

جس دن آسمان بادل سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتوں کو لگا تار اتار جائے گا۔

ایک قول یہ ہے کہ آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اور دروازوں کی مثل ہوجائے گا، ایک قول یہ ہے کہ دروازوں سے مراد آسمان کے راستے ہیں، ایک قول یہ ہے کہ آسمان بکھر جائے گا اور اس میں درازے بن جائیں گے، ایک قول یہ ہے کہ ہر شخص کے لیے آسمان میں دو دروازے ہیں، ایک دروازے سے اس کے نیک اعمال اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور دوسرے دروازے سے اس کا رزق آسمان سے اترتا ہے، اور جب قیامت قائم ہوگی تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں گے، آسمان کے دروازوں کا اس حدیث میں ذکر ہے :

شب معراج کی حدیث میں ہے : پھر ہم کو آسمان کی طرف لے جایا گیا، حضرت جبریل نے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا : تم کون ہو ؟ انہوں نے کہا : میں جبریل ہوں، کہا گیا : تمہارے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پوچھا گیا : کیا ان کو بلایا گیا ہے ؟ کیا ہاں ! ان کو بلایا گیا ہے، پھر ہمارے لیے دروا زہ کھول دیا گیا۔

( صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٣، السنن الکبریٰ رقم الحدیث : ٣١٤)

قرآن مجید کی درج ذیل آیات میں آسمان کے دروازوں کا صراحتہً ذکر ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ (الاعراف : ٤٠ )

جن لوگوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی اور ان پر ایمان لانے سے تکبیر کیا ان کے لیے آسمان کے درازے نہیں کھولے جائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 19