وَّكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 28
sulemansubhani نے Friday، 18 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَّكَذَّبُوۡا بِاٰيٰتِنَا كِذَّابًا ۞
ترجمہ:
اور انہوں نے ہماری آیات کی پوری پوری تکذیب کی.
النبا : ۲۸ میں فرمایا : اور انہوں نے ہماری آیات کی پوری پوری تکذیب کی۔
قوت ِ عملیہ کے تین شعبے
اس سے پہلی آیت میں کفار کی قوت عملیہ کا فساد بتایا تھا کہ وہ بڑی بےخوفی سے اور دیدہ دلیری سے کفر اور شرک کرتے تھے، اور منکرات اور فواحش اور گناہ کا ارتکاب کرتے تھے، یعنی انہوں نے اپنی قوت ِ عملیہ کو فاسد کرلیا تھا اور اس آیت میں ان کی قوت نظریہ کا فساد بتایا ہے کہ وہ حق کا انکار کرتے تھے اور باطل پر اصرار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا انکار کرتے تھے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرتے تھے، قیامت، حیات بعد الموت اور جزاء اور سزا کی نہ صرف تکذیب کرتے تھے بلکہ ان کا مذاق اڑاتے تھے، قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں مانتے تھے، اس کو شعر اور سحر کہتے تھے اور اس پر پھبتیاں کستے تھے، اور دوسرے احکام شرعیہ کی بھی تکذیب کرتے تھے اور جس طرح ان کی قوت عملیہ فاسد تھی اسی طرح ان کی قوت نظریہ بھی فاسد تھی۔
انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو قوتیں دی ہیں : ایک قوت نظریہ ہے اور دوسری قوت ِ عملیہ ہے، قوت نظریہ سے وہ غور و فکر کرتا ہے اور غلط اور صحیح میں، شرک اور توحید میں اور کفر اور ایمان میں امتیاز کرتا ہے اور غلط افکار اور عقائد کو ترک کر کے صحیح افکار اور عقائد کو اپناتا ہے اور قوت عملیہ سے برے کاموں کو ترک کرتا ہے اور اچھے کاموں کو اختیار کرتا ہے اور یہ تہذیب نفس ہے، اور اپنی اصلاح کرنے کے بعد اپنے ماتحت اور زیر کفالت لوگوں کی اصلاح کرتا ہے، اس کی تدبیر منزل کہتے ہیں اور اپنے نفس اور اپنے گھر اور دفتر کی اصلاح کے بعد اپنے شہر اور اپنے ملک کی اصلاح کے لیے اپنے حصہ کی مساعی کو بروئے کار لاتا ہے، قرآن مجید میں قوت عملیہ کے ان تینوں شعبوں کا ذکر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
یٰٓـاَیَّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا (التحریم : ٦)
اے ایمان والو ! اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔
اس آیت میں تہذیب نفس اور تدبیر منزل کا حکم ہے یعنی اپنی بھی اصلاح کرو اور اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح کرو۔
کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِ اللہ ِط (آل عمران : ٠١١)
تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے، تم نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ (الحج : ١٤)
یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم ان کو زمین میں اقتدار اور عطاء فرمائیں تو یہ نماز ( کا نظام) قائم کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور نیک کاموں کا حکم دیں گے اور برے کاموں سے منع کریں گے۔
مؤخر الذکر دونوں آیتوں میں سیاست مدینہ کا حکم دیا ہے یعنی اپنے نفس اور اپنے گھر کی اصلاح کے بعد اپنے ملک اور اپنی قوم کی اصلاح کریں۔
کفار اور مشرکین نے قوت نظریہ کو بھی فاسد کرلیا تھا اور قوت عملیہ کے ان تینوں شعبوں کو بھی فاسد کرلیا تھا۔
القرآن – سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 28